Mazhab Nahi Sikhata

”مذہب نہیں سکھاتا․․․․․“

جبران ظفر منگل 14 ستمبر 2021

Mazhab Nahi Sikhata
گاڑ ی ایک سپیڈ بریکر سے گزری اور پچھلی نشست پر بیٹھے جمیل او ر سٹیفن کا سر گاڑی کی چھت سے جاٹکرایا ۔جمیل چیخ اٹھا ”سر! دیکھ کے گاڑی چلائیں نا!“۔ڈرائیور کی سیٹ پر براجمان سکول کا پرنسپل عقبی شیشے میں دیکھ کر بولا”سوری بیٹا “۔سٹیفن سر پر ہاتھ ملتا رہامگر منہ سے آ ہ تک نہ کی۔
سکول کے پرنسپل،’نسیم عادل‘ اور دو طلبا’جمیل ‘اور ’سٹیفن ‘کا یہ قافلہ،ایک مقامی سکول کی طرف رواں دواں تھا جہاں تحصیل کی سطح پر نعت خوانی کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا تھا۔

مقابلے میں اعلیٰ کا رکردگی دکھانے والوں کا مقابلہ ضلعی سطح پر ہونا تھا ۔’جمیل ‘ علاقے کے بہت بڑے زمیندار کی اکلوتی اولاد تھاجس کو تہذیب چھو کر بھی نہ گزری تھی۔سکول میں اس کے رعب سے طلبا تو درکنا ر اساتذہ تک کا نپتے تھے ۔

(جاری ہے)

وہ بھاری جسامت کا مالک تھا ۔اس کے بر عکس اس کے ہم جماعت سٹیفن مسیح کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ وہ انتہا ئی کمزور جسم کا مالک تھا ۔

سٹیفن گرجا گھر میں سروس کے دوران دعائیہ کلمات پڑھا کرتا تھا۔اس کی سکول فیس اس صورت میں معاف کی گئی تھی کہ وہ پرنسپل صاحب کے کا موں میں ان کا ہا تھ بٹا دیا کرے۔جمیل مقابلے میں سکول کی نمائندگی کر رہا تھا۔سٹیفن اس کا ’سازو سامان‘سنبھالنے ساتھ آیا تھا۔
منزل پر پہنچ کر گاڑی رکی۔جسیم لڑکا ہا تھ میں چپس کا پیکٹ لیے گاڑ ی سے اترا۔

پرنسپل صاحب بھی اس کے سا تھ ہو لیے ۔وہ اس کو مقابلے سے متعلق ہدایات دیتے جا رہے تھے۔لڑکے نے توجہ چپس کے پیکٹ پر مرکوز رکھی اور سر کو جنبش دیتا رہا۔سٹیفن اپنے ہم جماعت کا سازوسامان پکڑے ان دونوں اشخاص کا تعاقب کرتا رہا۔
یہ تینو ں مقررہ ہا ل میں پہنچ گئے او ر اپنی نشستیں سنبھال لیں ۔مقا بلے کا آغاز تلا وت کلام پاک سے کیا گیا ۔پھر مقابلے کا باقاعد ہ آغا ز ہوا ۔

تحصیل بھر کے سکول مقابلے میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ہر نعت خواں کی آواز بے مثال تھی۔اسی اثنا میں جمیل نے نسیم عادل کے کا ن میں سرگوشی کی”سر!مجھے باتھ روم آ یا ہے“۔نسیم نے غصے سے لڑکے کو گھورا۔”سر!اس میں میری کیا غلطی ہے؟“جمیل بد اخلا قی سے بولا ۔پرنسپل پریشانی کے مارے ہکلاتے ہوئے بولا”نہیں نہیں بیٹا!․․․․کوئی مسئلہ نہیں۔

آپ ․․․جاؤباتھ روم“۔موٹا جمیل عجلت میں کرسی سے اٹھا ،چپس سٹیفن کوتھمائے اوربا تھ روم کی طرف بھا گا ۔نسیم اپنا سر پکڑکر بیٹھ گیا۔خا مو ش بیٹھا سٹیفن اپنے بڑے کی پریشا نی کو محسوس کر سکتا تھا۔
ادھر نعت خواں سٹیج پر آتے جا رہے تھے۔اتنے میں جمیل کا نام پکارا گیا۔پرنسپل نسیم نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔ارد گرد جمیل کا نا م ونشا ن نہ تھا۔

دانت پیستے ہوئے وہ سٹیج پر گیا اور منتظمیں سے درخواست کی کہ تھوڑا وقت دیا جائے۔وقت کی قلت کے باعث ایسا ممکن نہ تھا۔پرنسپل کف ملتے ہوئے سٹیفن کے پا س آ یا اور اسے جمیل کو ڈھوندنے کا کہا ۔عیسائی لڑکا دوڑتے دوڑتے باتھ روم کی طرف گیا۔جمیل وہاں نہیں تھا ۔اس نے واپس آ کر پرنسپل کو صورتِحا ل سے آگا ہ کیا۔پرنسپل کی پریشانی میں مزید اضا فہ ہوگیا۔

اس نے انگشت دانتو ں میں دبا لی اور سوچ میں پڑ گیا ۔
ایسے میں سٹیج سے متنبہ کیا گیا کہ اگر جمیل نہ آیا تو سکول کو مقابلے سے خارج سمجھا جائے گا۔ نسیم عادل کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔اس نے سٹیفن سے پوچھا”سٹیفن تمہیں نعت آتی ہے؟“۔سٹیفن بوکھلا کر بولا ”جی․․․جی سر!“۔”ٹھیک ہے ۔جاؤ پڑھو نعت۔“”سر میں ؟“سٹیفن نے حیرانی کے عا لم میں پوچھا۔

”ہاں جی !تم۔“۔پرنسپل نے قریباًچیختے ہوئے کہا ۔سٹیفن نے قدم سٹیج کی طرف تیزی سے بڑھائے ۔وہ سٹیج پر پہنچا ۔مائیک درست کیا اور نعت پڑھنا شروع کی۔ہا ل میں نعت کی آواز کے علا وہ مکمل سکوت طاری رہا۔سٹیفن کی خوش الحا نی میں کھو کر چند حاضرین کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔نعت ختم ہوتے ہی سب بے اختیارجزاک اللہ پکار اٹھے۔سٹیفن سٹیج سے اتر کر خراما ں خراما ں اپنی کرسی کی طرف چل دیا۔

کئی نگاہیں اس کا تعاقب کر رہی تھیں۔لیکن سٹیفن جھکی نگاہوں کے ساتھ چلتارہا۔
جب وہ اپنی نشست پر پہنچا تو پرنسپل نے اس کو تھپکی دی۔پرنسپل کے ہمراہ جمیل کھڑا تھا ۔اس کی آنکھوں سے ا نگارے برس رہے تھے۔”تو نے نعت کیوں پڑھی؟“جمیل نے غصیلے لہجے میں پو چھا۔سٹیفن بالکل گنگ ہو گیا۔”میں پوچھتا ہوں چوڑھے تیری اوقا ت کیسے ہوئی نعت پڑھنے کی؟“۔

یہ گرما گرمی دیکھ کر نسیم نے مداخلت کی اور لڑکوں کو ایک کونے میں لے گیا۔اس نے جمیل کو ٹھنڈا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی مگر جمیل کسی طور چپ کرنے والا نہ تھا۔یہا ں ڈر کے مارے لا غر سٹیفن کے آنسو چھلک پڑے۔جمیل متواتر تنبیہ کیے جا رہا تھا ”میں اپنے ابا کو بتاؤ ں گا۔چوڑھے تو پچھتائے گا․․․․․چوڑھے تو پچھتائے گا۔“سٹیفن سر جھکائے سب سنتا رہا۔


آنے والے چند دن مظلوم سٹیفن پر بہت بھاری رہے۔جمیل کے باپ کی طرف سے سٹیفن کے خاندان کو قتل کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ عیسائیوں کو خبردار کیا گیا کہ ان کی بستی کو آگ لگا دی جائے گی۔سٹیفن بیچارے کی تشویش دگنی ہو گئی۔برادری کے کئی لوگوں نے اس کے خاندان کا بائیکا ٹ بھی کیا۔مقامی پولیس اس معاملے میں خاموش تما شائی ثابت ہوئی ۔

چونکہ جمیل کے والد کے ایک اشارے پر پولیس کے افسران تبدیل ہوتے رہتے تھے۔
سٹیفن کئی روز سکول سے غیر حاضر رہا۔اس نے گھر سے نکلنا ترک کر دیا تھا۔ایک دن دفتری اوقات کے بعد سکول کا چپڑاسی اس کو سکول بلانے آیا۔نحیف سٹیفن منہ پر کپڑا ڈالے،لوگوں کی نظروں سے چھپتے چھپاتے،پرنسپل کے دفتر پہنچا۔وہ پرنسپل کی میز کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا ۔

دونوں کے مابین کوئی گفتگو نہ ہو رہی تھی۔بالآخر نسیم نے بات شرو ع کی ”منصفین کے فیصلے کے مطابق تم نے اگلے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔میں نے تمہارا معاملہ ان کے سامنے رکھاہے۔تم بطور سٹیفن مسیح مقابلے میں شرکت کر سکتے ہو۔مگر میں تمہا رے ساتھ نہ جا سکوں گا۔“کچھ لمحوں کے لیے سناٹا چھا گیا۔پرنسپل نسیم عادل نے دوبارہ بات شرو ع کی”مقابلے میں حصہ لینا یا نہ لینا تم پر منحصر ہے۔

یہ تمہارا ذاتی فیصلہ ہو گا۔سکول کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔“یہ کہتے ہوئے پرنسپل نے دونوں کہنیا ں میز پر جما دیں اور دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھا م لیا ۔معصوم سٹیفن کرسی سے اٹھا اور دروازے سے رخصت ہو گیا۔
اتوار کے دن گر جا گھر میں سروس کے بعد سٹیفن بڑے پادری سے ملنے گیا۔اس نے سارا معاملہ پادری کے سامنے رکھا اور پوچھا کہ آیا موجودہ حالا ت میں اس کو اس مقابلے میں حصہ لینا چاہیے یا نہیں ۔

پادری نے اس کا معاملہ غور سے سنا ۔ایک گہری سانس لینے کے بعد وہ سٹیفن سے مخاطب ہوا ۔”مائی سن !نعت بنیا دی طور پر تعریف ہے۔اور اگر تعریف میں جھوٹ کا عنصر نہ ہو،تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔یا د رکھنا اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم بر حق ہو ،تو تمہاری کامیابی یقینی ہوگی۔مجھے امید ہے تم صحیح فیصلہ کرو گے۔“سٹیفن نے پادری کا شکریہ ادا کیا، بغل گیر ہوا اور رخصت ہو گیا۔


ضلعی مقابلے کا دن آن پہنچا۔سٹیفن اپنے دوست کے ہمراہ چہرے پر نقاب اوڑھے، تقریب کے وقتِ مقررہ سے دو گھنٹے پہلے پہنچ گیا کیونکہ خبر پھیلی تھی کہ جمیل،اس کا باپ اور ہتھیا روں سے لیس غنڈے تقریب میں موجود ہوں گے۔ان کے ارادے کسی طور نیک نہ ہونے تھے۔سٹیفن ہال کے ایک خاموش گوشے میں جا کر بیٹھ گیا۔خدا خدا کر کے مقابلہ شروع ہوا ۔تمام نعت خواں خوش نوا تھے۔

مگر سٹیفن کی توجہ کہیں اور تھی۔اس کو ڈر تھا کہ جمیل اور غنڈے ہال پر دھا وا بول دیں گے۔ایسے میں اس نے بغل میں بیٹھے لوگوں کو کھسر پھسر کرتے سنا کہ ہال کے باہر ڈنڈوں اور ہاکیوں سے لیس غنڈے کھڑے ہیں۔سٹیفن کے کانوں پر جیسے سوئیاں چبھنی شروع ہو گیئں ۔
کچھ ہی دیر میں سٹیفن کا نام سٹیج پر پکارا گیا۔وہ ڈگ بھرتے ہوئے سٹیج کی طرف بڑھا۔لوگوں کی تیکھی نظریں اس کی غمازی کر رہی تھیں جیسے وہ کوئی گناہ کر رہا ہو۔

سٹیفن کے سٹیج پر پہنچتے ہی ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ہال کے پنکھوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔سٹیفن نے نعت پڑھنا شروع کی۔اگلی نشستوں پر بیٹھے لوگ آخری اشعار سنتے رو پڑے۔نعت ختم کرنے کے بعد سٹیفن نے منصف پر ایک نظر ڈالی اور سٹیج کے پاس ایک کرسی پر سرجھکائے بیٹھ گیا۔اگلے نعت خواں کی آمد تک ہال کے اگلی سیٹوں پر بیٹھے لوگوں کی سسکیاں سنی جا سکتی تھیں۔


ڈھائی گھنٹے بعد مقابلہ اختتام کو پہنچا۔ابھی نتائج کے مرتب ہونے میں کچھ وقت باقی تھا۔ایسے میں ایک بھگدڑ مچی اور ڈنڈا بردار غنڈے ہا ل میں آن وارد ہوئے۔نحیف و نزار سٹیفن اب پر سکون تھا۔منصف نتائج کی فائل پکڑے سٹیج پر آیا۔وہ صوبے کا نامی گرامی عالم تھا ۔اس کی عمر ساٹھ سے زیادہ ہرگز نہ رہی ہو گی۔میانہ قد۔اوراس کی سفید ڈاڑھی اس کی شخصیت کو رعب و جلال عطا کر رہی تھی۔

وہ موجودہ صورتحال سے آشنا تھا۔حاضرین پر ایک سرسری نگاہ ڈال کراس نے اپنا چشمہ اتارا اور بولنا شرو ع ہوا”اسلام سلامتی کا دین ہے۔دین میں عبا دات ہیں ،عقائد ہیں،جہاد ہے․․․․سب کچھ ہے۔مگر دین کی ابتد اء رحمٰن اور رحیم سے ہوتی ہوتی ہے ۔رحمتہ للعٰلمینﷺ سے ہوتی ہے۔یہاں پر پتھر کھا کر بھی دعا دی جاتی ہے۔ہم میں آ خر برداشت کا مادہ کیوں نہیں رہا۔

“منصف کی آوازبھر آئی۔”اگر کوئی غیر مسلم ہمارے نبی ﷺ کی تعریف کرے تو اس سے زیادہ باعثِ فخر کیا با ت ہوسکتی ہے؟ہمیں تونبی کی اطاعت کا حکم ہے ۔ہم سے تو بھونڈی سی نقالی بھی نہیں ہوتی۔“ہال سے سسکیوں کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں ۔
منصف نے آنکھیں پونچھیں،چشمہ لگایااور دوبارہ بولنا شروع ہوئے”من حیث القوم،ہم میں بہتری کی بہت گنجائش ہے۔

خدارا دین کو بدنام نہ کریں۔وقت کی قلت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اب میں نتائج کا اعلان کرنا چاہوں گا․․․․․․تیسری پوزیشن ،’فالکن سکول کے’دانش علی ‘ نے حاصل کی ہے“۔ہال میں جزاک اللہ کی آوازیں بلند ہوئیں۔منصف پھر گویا ہوئے”دوسری پوزیشن․․․․آرمی پبلک سکول سے․․․زاہد اقبال“۔حاضرین سے جزاک اللہ کی گونج بلند ہوئی۔

منصف نے چشمہ اتارا اور کہا”اقبال کا ایک مصرعہ ہے کہ’ ’مذہب نہیں سکھاتا،آپس میں بیر رکھنا“۔منصف نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا”اس مقابلے کا پہلا انعام جاتا ہے․․․غزالی سکول کے ․․․سٹیفن مسیح کو۔“ہال میں ہر زبان سے جزاک اللہ جاری تھا۔سٹیفن نے نم آنکھوں کے ساتھ منصف سے سرٹیفیکیٹ لیا۔بزرگ عالم نے اس کو تھپکی دی۔
سٹیج سے اتر کر سٹیفن مجمعے میں مداحوں سے داد وصول کر ہی رہا تھا کہ اس کا سامنا جمیل سے ہوا۔جمیل کی انکھوں میں ندامت کے آنسو تھے ۔اس کے والد اور اس کے ہمراہ سب غنڈے شرمسار تھے ۔جمیل نے سٹیفن کو گلے لگایااور سب غنڈوں کے ہتھیار زمین پر گر پڑے۔
تاریخ اشاعت: 2021-09-14

Your Thoughts and Comments