Meri Zaat Zarra BeNishaan

میری ذات ذرہ بے نشاں

ایمن افتخار جمعہ اکتوبر

Meri Zaat Zarra BeNishaan
قلم کی نوک پر جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے_جو بہنا چاہتا ہے،پر قلم بھی ان جذبات کو بہا نہیں سکتا_ کیا ہر جذبے کو لفظوں میں پرویا جا سکتا ہے؟نہیں ہر جذبہ جیسے ہر جگہ نہیں لٹایا جاتا اسی طرح سارے جذبے قلم کے راستے نہیں بہاۓ جا سکتے_
کچھ کوشش کی ہے لکھنے کی ،ہو سکے تو پڑھ کے محسوس کیجۓ گا_
یہ میری قلم کی سیاہی ہے نہ جو صرف قلم کی سیاہی نہیں ہے_لوگوں کے لیئے صرف نیلی،کالی سیاہی ہی ہو گی میرے لیئے تو جسم میں دوڑتے ہوۓ خون کی طرح ہے_لوگ لفظ پڑھتے ہیں وہ نہیں پڑھتے ہیں جسے میں نےرات کی کسی پہر اپنے لفظوں کو آنسوؤں سے پرو کر خون کے زیور سے سجا کے لکھا ہے_
کبھی سوچا ہے ہر کسی کا پوچھنے والے کو بھی کبھی کسی پوچھنے والے کی ضرورت ہوتی ہے_ہر کسی کو کندھادینے والے کو کبھی کبھی خود بھی کسی اور کندھے کی ضرورت ہوتی ہے_ہر کسی کا ہم نفس بن کر سننے والے کو کبھی کبھی کسی ایسے ہی ہم نفس کی ضرورت ہوتی ہے_جوسن تو لے پر پوچھے نہ پلٹ کر یہ کیا کیا؟کیا کہہ دیا؟کیوں کیا؟بس سن لے اور سمندر میں چھپے ہوۓ سیپ کے موتی کی طرح ان جذبوں کو چپھا لے_
لیکن جب کبھی کہیں کسی موڑ پر کسی کی ضرورت ہوتی ہے تو کوئی میسر نہیں ہوتا_کوئی آپ کو سنے جانیں ،سمجھے یہ سب باتیں خواہش سے حسرت اور حسرت سے نا سور بن جاتی ہیں_
جب اپنے ہی لوگ جن کی اک آہ پہ آپ پوچھتے ہیں اور پھر جب وہی لوگ آپ کے سٹیٹس کو دیکھ کر نظر اندازر کر دیتے ہیں _آپ کو تب اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی اک بھی ایسا نہیں جو آپ کے "کچھ نہیں"کے جواب کے باوجود جان لے کہ کہنے کو بہت کچھ ہے_بس کوئی میسر نہیں_اس وقت انسان کی تنہائی ہوتی ہے جسکی گونج ہر چیز پہ حاوی ہوتی ہے_ہر قسم کے شورپر بازی لے جاتی ہے_اور انسان بس اپنوں کی زندگی میں اپنی جگہ کا تعین کا ہی سوچتا رہ جاتا ہے_اس سب میں قلم ایک رازداں بن جاتا ہے ان لوگوں کا جن کا کوئی رازداں نہیں ہوتا _جن کی ذات کسی کےلیئے اہم نہیں ہوتی_اور اپنا تعین کرتے ہوۓ انسان کو اپنی ذات ذرہ بے نشان لگنے لگتی ہے_حسرتوں کا ڈھیر اور تنہائیوں کی گزرگاہ لگنے لگتی ہے_
نہ کسی کے لئیے اہم تھے
نہ کسی کے لئیے اہم ہیں
فقط یہ دل کے وہم تھے جاناں
فقط یہ دل کے وہم ہیں
تاریخ اشاعت: 2020-10-09

Your Thoughts and Comments