Murshad

مرشد۔۔۔تحریر: شاہد خیالوی

منگل فروری

Murshad
ایک جذباتی تشریح مرشد محرومیوں کی کوکھ سے نکلی ہوئی ایک ہُوک ہے جس نے لوگوں کے اذہان میں پلتے احتجاج کو مؤثر فقروں کی صورت میں طشت ازبام کیا ہے۔ مرشد سنتے ہوئے پر شخص کو اپنی کہانی محسوس ہوتی ہے۔ اس نظم میں سترسال سے روا رکھی جانے والی نا انصافی، عقیدت کے نام پر دیے جانے والے دھوکوں، نوجوانوں کی روزمرہ مشکلات، محبتوں میں ملنے والے داغوں اور طبقاتی کشمکش پر بات کی ہے۔

اس نظم میں نہ تو " پہنو اچھی لگتی ہے" جیسی یاوہ گوئیاں ہیں اور نہ ہی لب و رخسار کی طولانی کہانیاں۔ نہ گاڑیوں سے زیادہ بہاؤ ہے اور نہ شاعرانہ تعلی۔ افکار علوی بڑے دھیمے انداز میں کسی غیر مرئی اوتار سے بات کرتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ افکار کے نوحوں پرتوجہ دینے کے لیے اہل حل و عقد کے پاس وقت ہے نہ خود کو مذہب کا ٹھیکیدار سمجھنے والوں کے پاس افکار علوی کے سوالات کا جواب نوجوانوں کی محرومیوں اور سرمایہ داری کا ایک جملے میں پوسٹ مارٹم کرتا افکار علوی بھلا لگامرشد ہماری ذات پلندوں میں دب گئی دیہات کی محرومیوں پر، تعلیمی و طبی وسائل کی عدم دستیابی کا نوحہ یوں ہے کہ مرشد کُو آکھیں آ کے ساڈا حال ویکھ ونج مذہبی طبقے سے نالاں افکار کا احتجاج حقیقت کے قریب تر ہے۔

(جاری ہے)

وہ یوں کہ جب مصائب کا مارا مرید جب پیر کے پاس اپنے تمام دکھڑے سنانے جاتا ہے تو سب سے پہلے اسے درگاہ کے گلے میں کچھ ڈالنا پڑتا ہے اور اس کے جواب میں ملتا کیا ہے؟ تصنع اور فریب سے بھری دعائیں اور جھوٹی تسلیاں۔ افکار جیسا حساس فنکار سب سے زیادہ خدافروش اور مذہب کے نام۔پر تجارت کرنے والوں سے نالاں نظر آتا ہے۔ مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسوس اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد وہ جس کے ہاتھ میں ہر ایک چیز ہے شاید ہمارے ساتھ وہی ہاتھ کر گیا مرشد دعائیں چھوڑ ترا پول کھل گیا تو بھی میری طرح ہے ترے پاس کچھ نہیں طبقاتی کشمکش پر اتنے بھرپور انداز میں بات کرنا افکار کا ہی خاصہ ہے مرشد کسی کے ہاتھ میں سب کچھ تو ہے مگر مرشد کسی کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں رہا ایک اور مصرعہ جس نے نظم کا احتجاجی رنگ نمایاں کیا اور معاشرے میں طبقاتی کشمکش پر پسے ہوؤں کی ترجمانی کی مرشد میں بھونکدا ہاں جو کئی شئے وی نہیں بچی اس ایک شعر کو کس کس زاویے سے دیکھوں، ہجر و فراق، دوستوں کی بیوفائیوں پر حساس شاعر کا گھلنا، جینے کے سبب ایک ہی شخص کے چھوڑ جانے پر ہجر کا ماس کھا جانا، یا مہنگائی کے باعث بلکتے لوگوں کی غذائی ضروریات کی عدم دستیابی پر ہئیت کذائی۔

مرشد ایہہ پھوٹو پچھلے مہینے چھکایا ہم ہن میکوں ڈیکھ لگدا اے جو فوٹو میڈا اے افکار علوی نے ہم سب کی بات کر کے ہمارے دل جیت لیے ہیں۔ خدا کرے کہ یہ شہرت افکار کی منکسر المزاجی کوتبدیل نہ کرے۔
تاریخ اشاعت: 2020-02-11

Your Thoughts and Comments