Pehla Qadam

"پہلا قدم"

جمعہ ستمبر

Pehla Qadam
آمنہ خالد
چند سالوں کی ہی بات ہے کہ لڑکپن کا وہ زمانہ تھا. مٹی کے ٹیلے, لکڑی کے لٹُو, کاغذ کی کشتی, گڑیا گُڈے کی شادی, بہتی رال, لنگوٹیا یار, بجا قہقہے, شفاف دل اور معصومیت کا وہ لبادہ...
ننھے لڑکھتے قدم ابھی تھمنا سیکھے ہی تھے, کہ ڈگمگا دیے گئے. شباب کی اُمنگ پروان چڑھی, اور حقیقت کی دنیا میں یہ پہلا قدم تھا.

وقت نے بھی کچھ یوں کایا پلٹی کہ وہ بہلاوے اب بہکانے لگے. تھپکی دیتے وہ رقیق ہاتھ یوں جڑیں کاٹنے لگے. دِلاسے دیتے وہ شفیق چہرے رقابت کی دیوار میں ہی دھنس گئے. جن دِلوں میں کبھی اُلفتوں کے ڈیرے لگتے تھے, اب بس کینہ کے اشتہار لگتے.

(جاری ہے)

لوری کے وہ شیریں گیت 'یُو آر آ لُوزر' میں جو تبدیل ہوئے تو 'لائک آ ڈائمَنڈ اِن دا سکائے' پر اُٹھتی شہادت کی وہ نازک اُنگلی دکھائی دیتی, جو اُن جگمگاتے تاروں کی نشاندہی کیا کرتی تھی.

وہ تارے جن کو چُھونے کے بھرپور خواب آنکھوں میں سجاتے تھے. جس دنیا میں ماما بابا نے پالا تھا یہ تو ویسی دنیا تھی ہی نہیں. پر اُسے تو اِسی دنیا میں جینا تھا نا..
بس پھر صاحبِ عالم نے جو اُڑان پکڑی تو اسی دنیا کا ہم نشین بن گیا. کہیں ابنِ آدم کو حوا کی بیٹی کی ہوس کھا گئی, تو کہیں فریب کی پٹی باندھے آنکھ مچولی کا کھیل راس آیا. کہیں خون پسینے کی کمائی حرام ہوئی, تو کہیں جُوے میں ہاری بوتلیں ڈھا دی گئیں.

کہیں کیچڑ کی میلی چِھینٹوں سے کردار کشی ہوئی, تو کہیں دل کی کِرچیاں روندی گئیں. کہیں تکبر کی گونجدار تالیاں بجائی گئیں, تو کہیں حقارت کی سنجیدہ نظریں جمنے لگیں... کل کی پاک رُوح حقیقت کی دنیا میں یوں میلی کردی گئی. نانی کے سبق آموز قصے نانی کے ساتھ ہی دفنا دیے گئے تھے یا بابا کی دی شفقت دنیا کی بھیٹ ہوئی, فقط ایک قدم ہی تھا...حقیقت کی دنیا میں وہ پہلا قدم...
پھر وقت کی ڈور جو پِھری اور اُٹھتا وہ ایک جنازہ دیکھا, تب کہیں ایک نئی دنیا کا اندیشہ ہوا.

ہاں وہ ابدی دنیا! حقیقی دنیا! اُس پر ایک قدم ابھی بھی باقی تھا. مگر وہ ایک قدم لڑکپن سے بھی زیادہ ڈگمگاتا ہوا...پہلے قدم سے ہی جِس رُوح کی اتنی تزلیل ہوئی, اب اُسے سنوارنے کے لیے اِک مُدت درکار تھی. ایک طویل مُدت. اگر رُکتا تو بہک جاتا, اگر بھاگتا تو بگڑ جاتا. مگر اُس ابدی حقیقی دنیا میں وہ آخری قدم پاک دامن نہ دیتا تو اپنے پیارے اللّٰہ کا سامنا بھی پیارا نہ کر پاتا...
صاحبِ عالم کہاں رُکے ہو؟
کلی تمہاری مُرجھا رہی ہے
تاریخ اشاعت: 2020-09-04

Your Thoughts and Comments