Professor Dr Yousaf Khusk Ke Liye Aik Tehreer

امریطس پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک کے لیے ایک تحریر

لقمان اسد ہفتہ مئی

Professor Dr Yousaf Khusk Ke Liye Aik Tehreer
میرے ذہن میں جب بھی وطن ِ عزیز کے نام ور دانش ور اور ممتاز علمی و ادبی شخصیت سندھ دھرتی سے تعلق رکھنے والے بلند پایہ تخلیق کار اور قد آور سپوت امریطس پروفیسر ڈاکٹر یوسف خوشک کا نام آتا ہے تو میرے دل کی اتھاہ گہریوں سے ان کی کامیابیوں ، کامرانیوں اور سرفرزیوں کے لیے ان گنت بے مول اور بے مانگی دعائیں نکلتی ہیں ۔ اِس کے وجہ ان سے ذاتی مراسم یا دوستانہ نہیں بل کہ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ میری ان کے ساتھ آج دن تک کوئی ایک یا دو منٹ کی مختصر ملاقات بھی نہیں ۔

ان پرخلوص دعاؤں کے مہمیز سلسلے کا سبب پروفیسر ڈاکٹر خشک صاحب کا اپنے عہدہ واختیار کے ساتھ بے نظیر منصفانہ رویہ ، بھر پور اخلاص اور وفاداری ہے ۔ حالانکہ وطن عزیز میں کسی بڑ ے عہدے اور اختیار کے ملنے کو ذاتی مفاد ات ہی سمیٹنے کا ایک بڑا موقع تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اب بھی کچھ دیونے اور پروانے ڈاکٹر خشک کی صورت میں ہمیں کہیں نا کہیں میسر ہیں کہ جن کا وصف ، وطیرہ اور شعارماں دھرتی کے چپہ ، چپہ سے وفا کی شکل میں قائم و دائم ہے ۔

(جاری ہے)

پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک کو ایک سال قبل حکومت پاکستان نے فروغِ علم و ادب کے لیے قائم و فاق کے زیرِانتظام چلنے والے ایک بڑے ادارے اکادمی ادبیات پاکستان کا صدر نشین (چیئرمین) مقرر کیا گیا۔ ایک سال کی قلیل مدت میں اس عہدے پر تعیناتی کے دوران بلا شبہ انھوں نے ایک انقلاب بپا کر دکھایا ہے ۔ ان کی شبانہ روز کاوشوں اور ان تھک جدوجہد نے اکادمی ادبیات کو جس طرح ایک مقبول ترین اور عوامی ادارے کا رنگ دیا ہے ماضی میں اس کی نظیر ڈھونڈنا مشکل ہے کوئی با شعور شخص اس حوالے سے جب ان کی کارکردگی کابغور جائزہ لیتا ہے تو ورطہ ء حیرت میں ڈوب جاتا ہے اور ساتھ ہی یہ خیال اور سوچ بھی پیدا ہوتی ہے کہ کاش پاکستان کے تمام اداروں کے سربراہان اپنے فرائض منصبی اسی طرح مخلصانہ انداز میں نبھائیں تو وہ دن ہرگز دور نہیں کہ جب وطن عزیز کے حالات بھی ترقی یافتہ ممالک کے برابر آ کھڑے ہوں ۔

ڈاکٹر یوسف خشک نے اپنے منصب کا چارج سنبھالتے ہی اکادمی ادبیات پاکستان کے ہر شعبہ میں اصطلاحات کا آغاز کیا ۔ اس ضمن میں سب سے پہلا کام جو انھوں نے کیا وہ انتہائی شان دار اور قابلِ ستائش ہے ۔ " پاکستانی ادب کے معمار" یہ اکادمی کا وہ شعبہ ہے کہ جس کے زیرِاہتمام ممتاز پاکستانی علمی شخصیات کے علم و فن اور ادباء شعراء کی نگارشات اور ان کے علمی و ادبی شہہ پاروں کو کتابی شکل میں منظر ِ عام پر لایا جاتا ہے ۔

ڈاکٹر صاحب نے اس شعبہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اس میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا۔ ایک طویل مدت سے یہ کام سست روی کا شکار تھالیکن اب اس میں عملی سطح پر بر ق رفتاری نظر آنے لگی ہے اور اس سسلے میں سب سے پہلی کتاب جو شائع کی گئی ہے یہ معروف ادیب آصف ثاقب کے فن اور شخصیت پر ہے " آصف ثاقب :شخصیت اور فن " جسے بین الا قوامی شہرت یافتہ شاعر احمد حسین مجاہد نے تحریر کیا ہے ۔

اس کے علاوہ بھی اس شعبہ نے کئی اہم کتب کی اشاعت اور مختلف عالمی معیار کی کئی اہم کتابوں کے تراجم بھی کتابی شکل میں شائع کیے ہیں۔
دوسرا اہم کام انھوں نے یہ کیا ہے کہ وہ شاعر ادیب جو مالی طورپر کمزور اور آسودہ حال نہیں ہیں ،جنھیں اکادمی ادبیات کی طرف سے کراس چیک کے ذریعہ سہہ ماہی بنیادوں پر و ظائف بھیجے جاتے تھے انھوں نے ان کے لیے انتہائی آسانی پیدا کر دی ہے اور انھیں اب یہ رقم آن لائن ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جاتی ہے ۔

ملک بھر میں بولی اور لکھی جانے والی ایسی کوئی لینگویج اور زبان نہیں کہ جس میں ادب تخلیق ہو رہا ہے اور اسے اس وقت اکادمی ادبیات پاکستان کے پلیٹ فارم سے پذیرائی نہ مل رہی ہو ۔ایک سو کے قریب ڈاکٹر صاحب اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام اب تک اپنی نگرانی اور سر پرستی میں کانفرنسوں ، کتابوں کی تقریب ِ رونمائی اور مختلف زبانوں میں مشاعروں اور مختلف تقریبات کا انعقاد کرا چکے ہیں ۔

حال ہی میں ڈاکٹرصاحب نے اپنی بھر پور کوششوں سے اکادمی ادبیات پاکستان میں معروف انقلابی شاعر فیض احمد فیض سے منسوب " فیض آڈیٹوریم " کا افتتاح وزیر تعلیم جناب شفقت محمود سے کرایا ، مستقبل میں اس زیر تعمیر آڈیٹوریم میں عالمی سطح کی کانفرنسیں منعقد ہوا کریں گی ۔ کرونا وباء نے دنیا بھر کی طرح پاکستان کا رخ کیا تو پروفیسر ڈاکٹر خشک نے ان مشکل دنوں کو بھی خوبصورت اور یاد گاربنانے کا فیصلہ کیا اور انھوں نے اکابرین ِادب کے ساتھ مل کر یہ طے کیا کہ اکادمی ادبیات کے پلیٹ فارم سے آن لائن مشاعروں اور تقریبات کا آغاز ہونا چاہیے تاکہ ان مصیبت زدہ دنوں میں جہاں اس بہانے سے مواصلاتی اور برقی نظام کے ذریعے مل بیٹھنے کے مواقع میسر آئیں گے، ایک دوسرے کی خیر خبر اور خبر گیری بھی رہے گی وہاں فروغ ِعلم و ادب کا سلسلہ بھی روا ں دواں رہے گا۔

کرونا کی پہلی لہر سے ہی یوں تو یہ سلسلہ جاری و ساری ہے لیکن ماہ صیام کی با برکت گھڑیوں میں ماہ صیام کی نسبت سے مختلف زبانوں میں عالمی حمدیہ و نعتیہ مشاعروں کا آغاز کیا گیا جو تا حال جاری و ساری ہے اس سلسلہ اب تک منعقد ہونے والے عالمی مشاعروں میں اردو عالمی ، حمدیہ ونعتیہ مشاعرہ ، پنجابی عالمی ،حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ ، سندھی عالمی ، حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ ، سرائیکی عالمی ، حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ ، بلتی عالمی ،حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ ، بلوچی عالمی ، حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ ، پشتوعالمی ، حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ ، کشمیری زبانوں کا عالمی ، حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ ، پوٹھو ہاری عالمی ، حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ اور بروہوی عالمی ، حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ شامل ہیں ۔

ڈاکٹر یوسف خشک مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کی مختلف زبانوں میں تخلیق ہونے والے ادب کی عالمی سطح پر پذیرائی ، پہچان اور فروغ کے لیے مختلف معاہدے عمل میں لا رہے ہیں جو کہ اس حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اسی سلسلے میں ان کی میٹنگز یوکرائن ، چائنہ ، جرمنی ، جاپان اور دوسرے ممالک کے سفیروں کے ساتھ ہو چکی ہے ۔ دعا ہے کہ ڈاکٹر یوسف خشک علم و ادب کے فروغ کے لیے اسی طرح دن رات سر گرمِ عمل رہیں اور اللہ کریم انھیں مزید کامیابیوں اور سر بلندیوں سے نوازے ۔
تاریخ اشاعت: 2021-05-08

Your Thoughts and Comments