Qoumi Urdu Zuban Ka Nifar

قومی زبان اردو کا نفاذ

عطاء الرحمن چوہان منگل جولائی

Qoumi Urdu Zuban Ka Nifar
پون صدی گزرنے کے باوجود قومی زبان کو اس کا قانونی حق نہیں مل سکا۔بابائے اردو مولانا عبدالحق  نے قیام پاکستان سے بہت پہلے اردو کو قومی زبان قرار دئیے جانے کی تحریک کی تھی اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح  نے مسلم لیگ کے اجلاس میں بابائے قوم کو مدعو کرکے انہیں یقین دلایا تھا کہ اردو ہی پاکستان کی قومی زبان ہوگی۔ قیام پاکستان کے فوری بعد 25 فروری 1948 کو قائداعظم نے پاکستان کے تمام نمائندہ قائدین سے مشاورت کے بعد اردو کو پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان قرار دیا تھا۔

اس وقت مشرقی پاکستان سے بنگالی کو قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا تو قائداعظم نے ہنگامی طور پر 22 مارچ 1948 کو مشرقی پاکستان کا دورہ کیا اور چٹاگانگ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک نے ترقی کرنی ہے تو اسے کسی ایک زبان پر متحد ہونا پڑے گا اور میری نظر میں وہ اردو ہے اور اردو کے سوا کچھ نہیں۔

(جاری ہے)

آپ نے پرجوش انداز میں کہا کہ جو لوگ اردو کے بارے میں عوام کو گمراہ کررہے ہیں وہ پاکستان کے دشمن ہیں۔


قائداعظم کی رحلت کے بعد پاکستان پر قابض نوابوں اور کالی انگریزی نوکرشاہی نے جو شرانگیزیاں کیں ان میں قومی زبان کو سردخانے میں ڈالنا بھی شامل ہے۔ 1956 اور 1962کے دساتیر میں بھی اردو کو قومی زبان قرار دیتے ہوئے پچیس سال کا وقت دیا گیا ، اس کے باوجود نوکرشاہی اور حکمران طبقے نے انگریزی کو پوری قوت سے پاکستان پر مسلط رکھا اور قومی زبان کے معاملے کو سرد خانے کی نذرکیے رکھا۔

1973 کے دستور ( شق 251 ) میں اردو کو قومی زبان قرار دیتے ہوئے پندرہ سالوں میں پورے نظام حکومت کو انگریزی سے اردو میں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔ بدقسمتی دیکھئے کہ 1979 تک اس پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ جنرل ضیاء الحق نے 1979 میں نفاذ اردو کی غرض سے مقتدرہ قومی زبان کا ادارہ قائم کرکے قومی زبان کے نفاذ کا ہدف دیا، اسی دوران وفاق میں سیکرٹڑیٹ ٹریننگ انسٹیٹوٹ کو افسران اور عملہ کو اردو دفتری مراسلت اور ٹائپ کاری کا ہنر سکھانے کا اہتمام کیا گیا، جو افسران اور عملہ اراکین اردو دفتری کورس کرتے انہیں خصوصی الاونس بھی دیا جاتا رہا۔

1988 میں مقتدرہ قومی زبان نے نفاذ اردو کی تیاری مکمل کرتے ہوئے صدر مملکت کو رپورٹ پیش کی اور نفاذ کے لیے رسمی حکم جاری کرنے کی سفارش کی،اسی عرصہ میں جنرل ضیاء الحق ایک حادثے میں شہید ہوگئے اور نفاذ اردو کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔
پاکستان میں چند مخصوص خاندان حکومت اور بیوروکریسی پر قابض ہیں۔ ملک کو لوٹنے اور عوام کو پسماندہ رکھنے پر ان کا اتفاق ہے۔

یہ ستر سالوں سے ملکی وسائل پر نسل درنسل قابض ہیں اور انگریزی زبان پر دسترس کے ذریعے وہ اپنی نسلوں کو حکمرانی اور نوکرشاہی کے لیے تیار کرتے رہے ہیں۔ ماضی میں ملکی وسائل کا ایک بڑا حصہ انگریزی میڈیم اداروں پر خرچ کیا جاتا رہا ہے۔ امریکی ادارہ یوایس ایڈ اور برطانوی ادارہ برٹش کونسل بھی پاکستان میں انگریزی کے فروغ کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے رہے ہیں۔

اسی طرح کثیرالملکی تجارتی کمپنیاں بھی انگریزی زبان کی سرپرستی کرتی رہی ہیں اور اب انہوں نے اردو رسم الخط کو بگاڑنے کے لیے رومن اردو کو فروغ دینے کا بھیانک کھیل بھی شروع کررکھا ہے۔
قیام پاکستان سے قبل عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد نے اردو زبان میں سائنسی علوم باالخصوص طب اور انجنیئرنگ کی تعلیم کا آغاز کردیا تھا۔ ضرورت تو اس امر کی تھی کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے تعلیمی نظام کو جامعہ عثمانیہ کی طرز پر استوار کیا جاتا لیکن انگریزوں کے ذہنی غلاموں نے اس کے بجائے انگریزی کو رائج رکھا، اپنی نسلوں کو انگلش میڈیم تعلیمی اداروں اور بیرون ملک تعلیم دلوا کر سرکاری اداروں پر قابض رکھا اور عوام کو قومی امور سے دور رکھنے کے لیے سرکاری تعلیمی اداروں کو اپاہج بنائے رکھا اور ایک وقت آیا کہ اردو میڈیم اور سرکاری سکول ایک گالی بن گئے۔


آج پاکستان معاشی، سماجی، معاشرتی اور سیاسی پسماندگی کی بدترین علامت بنا ہوا ہے۔ ہم سے بعد آزاد ہونے والے ممالک نے اپنی قومی زبانیں اختیار کرکے ترقی کی منازل طے کیں اور ہم دن بدن انگریزی کے ہاتھوں تباہی کے دہانے پر چلتے رہے۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے بعد جنرل ارشاد نے انگریزی کے بجائے بنگلہ کو قومی زبان قرار دیا اور آج بنگلہ دیش ہم سے کوسوں دور نکل گیا۔

کوریا جیسے ممالک نے ہمارے پانچ سالہ منصوبوں کو اپنی قومی زبان کے ذریعے قومی ترقی کا ذریعہ بنایا۔ انگریزی کی روحانی اولاد نے پاکستانی معاشرے میں یہ تباہ کن تصور عام کیا کہ ترقی کے لیے انگریزی زبان سیکھنی ضروری ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری ملازمتوں کے لیے بنیادی معیار انگریزی زبان میں مہارت قرار دیا گیا۔ سی ایس ایس سمیت کمترین ملازمت کا امتحان بھی انگریزی میں لیا جاتا ہے۔

حالانکہ افغانستان جیسے ملک میں اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کا امتحان انگریزی کے علاوہ پشتو اور فارسی میں دینے کی اجازت ہے۔ بھارت میں بائیس زبانوں میں ملازمتوں کے امتحان دینے کی اجازت ہے۔ اس گمراہ کن تصور نے ہمیں نہ اردو زبان سے منسلک رہنے دیا اور نہ ہم انگریزی سیکھ سکے۔ آج ہزاروں پی ایچ ڈی، ایم فل ، لاکھوں ڈاکٹر اور انجنیئر ہونے کے باوجود ایک بھی عالمی معیار کی علمی شخصیت موجود نہیں۔

اس کی اصل وجہ انگریزی زبان کو اختیار کرنا ہے۔ اسرائیل جس کے پاس سب سے زیادہ نوبل پرائز موجود ہیں کی قومی زبان عبرانی ہے جسے اسرائیل کے علاوہ دنیا میں کوئی نہیں جانتا۔ روس، چین، فرانس، جرمنی، ترکی، ایران اور کوریا جیسے ممالک اپنی قومی زبانوں میں پڑھ لکھ کر آج عالمی معیار کی علمی شخصیات اور اعلیٰ ترین ایجادات کے حامل ہیں۔ حالانکہ پاکستان جیسی ذہانت اور قابلیت ان میں سے کسی قوم کے پاس نہیں۔


پاکستان کی اس بدحالی کے ذمہ دار لیاقت علی خان سے نوازشریف تک برسراقتدار رہنے والے سارے حکمران، سول ،ملٹری اور عدلیہ کے اعلیٰ حکام ہیں۔ یہ اشرافیہ کا وہ گروہ ہے جو ملکی وسائل لوٹ رہا ہے، عوام کو ریاستی معاملات اور سرکاری اداروں سے باہر رکھنے کے لیے انگریزی کی آڑ لیتا رہا ہے۔ قومی زبان اردو کے لیے ماضی میں انفرادی طور پر کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن کبھی بھی نفاذاردو کا مطالبہ عوامی پذیرائی حاصل نہیں کرسکا، اس کی بنیادہ وجہ سیاسی جماعتوں کا قومی زبان سے اعراض بھی ہے۔

یہ سب اقتدار کے لیے ووٹ تو اردو اور مقامی زبانوں میں مانگتے ہیں لیکن حکومت میں جاکر انگریزی کو فروغ دیتے ہیں۔
چیف جسٹس (سابق) جواد ایس خواجہ نے 6 ستمبر 2015 کو نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ دیتے ہوئے قوم پر احسان عظیم کیا اور نفاذ اردو کی آواز ایک بار پھر ملک کے کونے کونے سے اٹھنے لگی۔ حکمران اور نوکرشاہی تو گزشتہ ستر سالوں سے دستور شکنی اور 2015 سے توہین عدالت کا پوری ڈھٹائی سے ارتکاب کررہی ہیں اور نفاذ قومی زبان کیدستوری تقاضوں اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر توجہ نہیں دے رہے۔

اب قوم میں ایک شعور بیدار ہو رہا ہے۔ ملک میں مختلف افراد اور تنظیمیں نفاذ اردو کے لیے عوام کو بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کو متوجہ کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ مختلف عدالتوں میں توہین عدالت اور نفاذ کے مقدمات بھی زیرسماعت ہیں۔ اب عوامی قوت سے نفاذ اردو کو یقینی بنانے کی فیصلہ کن جنگ شروع ہو چکی ہے۔
عوام بیچارے دو وقت کی روٹی کے چکر میں پھنسا دئیے گئے ہیں تاکہ وہ قومی امور بارے سوچنے ،سمجھنے اور اظہار رائے کی قوت سے محروم رہیں۔

اردو زبان سے وابستہ قومی اخبارات، الیکٹرانک میڈیا، ادیب و شعراء اور اردو کے اساتذہ بھی قومی زبان کے نفاذ میں ہمیشہ خاموش رہے ہیں۔ جن طبقات کی روزی ، روٹی، عزت و وقار اس زبان کا مرہون منت ہے، ان کی خاموشی اشرافیہ سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ انگریزوں کے غلاموں سے آزادی حاصل کرکے قوم کو قومی زبان کا تحفہ دیا جائے۔ اس راہ میں حائل رکاوٹین بائیس کروڑ عوام کا مقابلہ نہیں کرسکیں گی۔

اب باشعور پاکستانیوں پر یہ فرض ہے کہ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے خیالات و ہدایات کے مطابق تحریک پاکستان کے اس نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کے لیے عوام کو بیدار کریں اور انہیں قومی زبان کے نفاذ کے ذریعے آزادی کے حقیقی ثمرات سے مستفید کریں۔
مضمون نگار تحریک نفاذ اردو پاکستان کے صدر ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-07-02

Your Thoughts and Comments