Rooti Mamta Ansu Baha Baha Kar

روتی رہی ممتا آنسو بہا بہا کر

سلمان انصاری پیر اپریل

Rooti Mamta Ansu Baha Baha Kar
آج کل نت نئی ٹیکنالوجی کا استعمال ہر انسان کو اپنی طرف راغب کرنے پر مجبورکر تا ہے ہرشخص یہ چاہتا ہے کہ جوبھی نئی ٹیکنالوجی متعارف ہو رہی ہے ہم اس کو ضرور استعمال کریں یا پھر وہ ٹیکنالوجی ہمارے پاس ضرور ہونی چاہیئے لیکن رشتوں کی جب بات آتی ہے تو بناوٹی رشتے سمندرکی لہروں کی طرح ایسے چل رہے ہیں جیسے کوئی جہاز طوفانی لہروں کا سامنا کرتے ہوئے ڈگمگا تا رہتا ہے لیکن زندگی کو پر سکون بنانے کیلئے ہمیں صرف ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ احساس ،خدمت اور عزت کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔


احساس کرنے سے ہماری شان میں کمی نہیں آجاتی اور خدمت کرنے سے ہمارے ہاتھ پاؤں گھِس نہیں جاتے اور عزت کرنے سے ہماری اخلاقیات میں کمی نہیں آجاتی بلکہ احساس ،خدمت اور عزت سے ہماری زندگی اپنی اصلیت کو پہچانتی ہے کہ کسی بھی قسم کے حالات ہوں ہم اپنے مسلمان بھائی یا بہن کے ساتھ کھڑے ہونگے تو کل کوئی ہمارے ساتھ بھی کھڑا ہوگا اگر ہم کسی کا بھی احساس، خدمت اور عزت نہیں کریں گے تو ہمیں ایک دن ایسا احساس ضرور ہوگا کہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ہم اس دنیا میں اکیلے رہ گئے ہیں ۔

(جاری ہے)


آج کل تو رشتوں میں اور رشتہ داری میں ایک دوسرے کے لئے ٹائم ہی نہیں ہوتا کہ ایک دوسرے کو صحیح معنوں میں ٹائم دے سکیں اول تو رشتے یا رشتے دار ایک دوسرے کو اہمیت ہی نہیں دیتے اور اگر دیتے بھی ہیں تو آدھے رشتے دار تو ایسے ہوتے ہیں جو یہ سوچ رکھتے ہیں کہ ہم ان کے گھر نہیں جاتے یہ لوگ غریب ہیں اور ہمارے لیول کے مطابق زندگی نہیں گزارتے یا پھر ان کے گھر وہ سہولیات زندگی میسر نہ ہیں جو ہمارے گھر میں میسر ہیں ۔

اکثر رشتے تو ایسی باتوں سے نبھائے جاتے ہیں کہ یہ لوگ ایسے ہیں یہ لوگ ویسے ہیں فلاں کا بیٹا ایسا ہے فلاں کا بیٹی ویسی ہے ۔
ایسی صورتحال میں گھر کے ماحول کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کس طرح کرتے ہیں لیکن آج کل تربیت کیا خاک ہوگی والدین کے پاس بچوں کیلئے ٹائم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کیا نہیں کر رہے ؟گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی والدین اپنے موبائل ،ٹی وی یا لیپ ٹاپ میں مصروف رہتے ہیں لیکن بچے انکی محبت وپیار کو ترستے رہتے ہیں یہاں تک کے اُن کے اندر احساس کمتری کا مادہ پیدا ہوجاتاہے ۔


ایک ممتا جو کے اپنی ننھی پری کی زندگی کی دعائیں کرتی تھی اپنی ننھی پری کو کو دیکھ کر جیتی تھی اُسی کی لاپرواہی نے اُس کی ننھی پری کی جان لے لی ۔اس ممتاکی شادی 4سال قبل ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سال اس کو ایک ننھی پری سے نواز دیا تھادونوں میاں بیوی اپنی زندگی میں خوش تھے کیونکہ ننھی پری کے آنے سے دونوں گھروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی ماں باپ دونوں ننھی پری سے بہت زیادہ پیار کرتے اور اللہ کا شکر بجا لاتے تھے ۔

ننھی پری 3سال کی ہوگئی اور ماں باپ کی آنکھ کی روشنی بنتی چلی گئی لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس ننھی پری کے ساتھ کیا ہونے والا ہے خوشی خوشی رہنے والے میاں بیوی کی خوشیاں کیسے ختم ہونے والی ہیں۔
ننھی پری کا باپ ایک کارخانے میں کپڑے بنانے کا کام کیا کرتاتھا وہ روزانہ کی طرح اپنی بیٹی کو پیار کر کے گھر سے روانہ ہوا،ماں بھی معمول کے مطابق گھر کے کام کاج میں لگی ہوئی تھی ماں کو معلوم نہیں تھا کہ اس پر کیا قیامت ٹوٹنے والی ہے ماں گھر کاکا م کاج کر رہی تھی اورننھی پری ایک بال کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی جو کہ اس کے باپ نے اُسے کھیلنے کے لئے لا کر دی تھی ۔

ماں گھر کا کام کاج ختم کرنے کے بعد ٹی وی دیکھنے بیٹھ گئی ماں کا ذہن ننھی پری سے ہٹ گیا تھا ننھی پری کی بال کھیلتے کھیلتے پانی والی بالٹی میں جا گری ننھی پری بھی بال کو اُٹھانے کیلئے پانی والی بالٹی کی طرف چل پڑی ۔
ننھی پری نے دیکھا کہ بال پانی والی بالٹی میں پڑی ہے اُ س نے بال اُٹھانے کیلئے پانی والی بالٹی میں ہاتھ ڈالا لیکن بالٹی بڑی ہونے اور اس میں پانی بھی موجود ہونے کی وجہ سے اس کا ہاتھ بال تک نہ پہنچ پایا تو ننھی پری نے دوبارہ لمبا ہاتھ کر تے ہوئے بال کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن اس بار وہ بال کو اٹھاتے اٹھاتے منہ کے بل پانی والی بالٹی میں جا گری ننھی پری کا منہ پانی میں ڈوب گیا اور ٹانگیں اوپر ہوگئیں ۔

ننھی پری پانی کے اندر بلبلانے لگی لیکن ماں ٹی وی دیکھنے میں مست تھی اُسے بچی کی آواز نہیں آرہی تھی اور آتی بھی کیسے بچی کا منہ تو پانی میں تھا ۔
بالٹی میں منہ کے بل گرنے اور کافی دیر تک پڑے رہنے سے ننھی پری کے دماغ میں پانی چلا گیا اور آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے کچھ ہی دیر بعد ننھی پری دم توڑ گئی ،ننھی پری کی پھوپھو جو کسی کام سے باہر گئی ہوئی تھی جب واپس آئی تو کیا دیکھتی ہے کہ ننھی پری پانی والی بالٹی میں منہ کے بل گری ہوئی ہے یہ سب دیکھنا تھا کہ پھوپھو کے ہوش اُڑ گئے اس نے ننھی پری کو اٹھا یا اور چیخنا چلانا شروع کر دیا کیونکہ بچی کی سانسیں بند ہوچکی تھیں ۔

ننھی پری کی ماں نے چیخنے کی آوازیں سنی تو فوراً باہر آکر دیکھا کہ اسکی ننھی پری کو اسکی نند نے اٹھایا ہو اہے اور وہ رو رہی ہے ۔نند نے بتا یا کہ ننھی پری منہ کے بل پانی والی بالٹی میں گری ہوئی تھی اور اسکی سانسیں نہیں چل رہیں۔
ننھی بچی کی ماں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی وہ بچی کو لے کر گھر سے فوراً نکلی اور گلیوں میں پاگلوں کی طرح بھاگتی ہوئی ڈاکٹر کے پاس پہنچی ڈاکٹر نے بچی کا چیک اپ کرنے کے بعد بتایا کہ بچی کو آدھا گھنٹا ہو گیا ہے یہ فوت ہوگئی ہے ،ماں کی ممتا دھاڑیں مار مار کر رونے لگی اور روتے روتے بیہوش ہوگئی ننھی پری کے باپ کو جب اطلاع کی گئی تو وہ باپ جو ننھی پری کو دیکھ کر کام پر جاتا اور واپس آکر اُسے بہت پیار کیا کرتا تھا ہوش و حواس کھو بیٹا اور سارے گھر میں کہرام مچ گیا ۔


اس ماں کی لاپرواہی نے ایک معصوم کی جان لے لی ،افسوس آج کے ماں باپ اپنی اولاد پر اتنی توجہ نہیں دیتے جو دینے کاحق ہوتا ہے آج ہر گھر میں ٹی وی ،ایل سی ڈی ،ڈراموں اور فلموں کا عروج ہے یا پھر ٹچ موبائل کے بغیر تو کوئی ایک قدم تک نہیں اُٹھاتا۔کیوں ماں باپ اپنے بچوں کے بارے میں اتنے لاپرواہ ہوجاتے ہیں کہ انہیں بعد میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتاہے جدید دور میں رہتے ہوئے ٹیکنالوجی اور سہولتوں کا استعمال ضرور کریں لیکن اتنا بھی نہ کریں کہ اپنے پیاروں کو ہی بھول جائیں اللہ پاک ہمیں اپنے بچوں خصوصاً ننھے بچوں کی بہت زیادہ دیکھ بھال اور ان پر توجہ کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین
تاریخ اشاعت: 2019-04-22

Your Thoughts and Comments