Shab E Arzu

شبِ آرزو

شمع خضر پیر ستمبر

Shab E Arzu
بستر پر نیم دراز ہوتے ہی چھم سے خیالِ یار کہ اب محو ہونے میں بظاہر کوئی رکاوٹ حائل نہیں،سوچ و بچار کے تانے بانے؛محور ایک ہی شخص،نئی نئی اُلفت کے تار دل میں مدھم سُر بکھیرنے میں مگن،لب دِل کی پیروی کرتے ہوئے دُعاؤں کا حصار اُس دُشمنِ جاں کے گرد باندھنے میں مشغول کہ یک جاں دو قالب ہوں گویا!
اُسے یاد نہ پڑتا تھا کہ اِس سے قبل کسی شے کیلئے اِتنی شدّومد سے اُس رب کو یاد کیا ہو اُس نے، اور کرتی بھی کیوں؟اُسے ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئ کبھی اِتنی جدوجہد کرنے کی؛ہر چیز بِن مانگے مِل گئ تھی تو اب وہ کیا مان دل میں لیئے رات کے پچھلے پہر بیدار ہو؟ تہجّد کی نماز سے بھی نام کی حد تک شناسائ تھی.

مگر اب...

(جاری ہے)

اب صورتحال قدرے مختلف تھی،کسی کی چاہت پا لینا آسان تھوڑی ہوتا ہے اور پھر کس قدر اندیشے بھی تو جگہ بناتے ہیں دِل میں کہ اگر وہ میرا نصیب نہ بن سکا تو؟ اور اگر سب راہیں ہموار ہونے کے باوجود اُس کا دِل بھر گیا تو؟ دُعا تو ضروری تھی نا کہ سُنا ہے وہ اپنے بندوں کی بہت سُنتا ہے؛تہی داماں نہیں لوٹاتا، بے پناہ مہرباں ہے وہ!
لیکن آزمائش تو وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں دِل اڑی کرتا ہے،یہ سچّائ اُس کم فہم پر افشاں نہیں ہوئ تھی ابھی.وہی ہوا جِس کے ہونے کا سوچ کے بھی دِل ہولے سے کانپ اُٹھتا تھا،جِس کے ہونے کے وسوسے راتوں کی نیند روٹھ جانے کا باعث بنے تھے اور جس کے برعکس خواہش کی شدّت نے اُس کا سات آسمانوں کے پار مخفی ذات سے رابطہ استوار کرایا تھا..
ہاں! دِل پِھر گیا اُس بے وفا کا،کسی اور حسیں پیکر کی طرف مائل ہو گیا تھا غالباََ، پہلے جیسا التفات اب خواب ہوا، محبت کی پروان چڑھتی کونپلوں کی خوشبو اب صرف یادوں کے بکھرے صفحات میں قید رہ گئ ہو جیسے، حال کو معطر کرنے کی بجائے تعفّن زدہ کرنے کی اضافی صلاحیت کے ساتھ!
تھا تو وہ خاکی انسان ہی نا،پل میں تولا پل میں ماشہ، عارضی اُمنگوں کی گٹھڑی سر پہ لادے ہوئے،ظاہری چکا چوند پر مر مٹنے والا،جب اُس کی اپنی ذات فانی ہے تو محبّت کیونکر دائمی ہوتی اُس کی؟
جب سب راہیں مسدود ہوتی دکھائ دیں اور کوئ قسم ؛کوئ واسطہ کام نہ آیا تو اُسے خدا سے شکوہ ہونے لگا.اِتنی دُعائیں مانگیں،اذکار کیے،روزے بھی رکھے تھے نفلی لیکن کسی دُعا کی شدّت اُس کی مُحبت کی حدّت کو نہ بچا سکی، کیوں؟ آخر اُسی کے دِل کے مُقدر میں ویرانیاں کیوں؟اُس کی معصوم نوخیز محبت کا اِتنی بے دردی سے خون کر دیا گیا،کسی جرم کی نشاندہی کیے بغیر عمر بھر کی سزا سنا دی گئ،کیا اتنی ارزاں ذات تھی اُس کی؟
گویا شکووں کی ایک طویل فہرست ہو جو اُسے تھے خدا سے،نمازوں سے خشوع ختم ہونے لگا،تہجد پڑھنا بھاری...بہت بھاری ہو گیا تھا جیسے،جب خواہش ہی نہیں رہی تھی تو کیسی گریہ و زاری؟ شبِ آرزو اب شبِ غم کی صورت میں ڈھل گئ تھی،خود ترسی کی کیفیت ختم ہونے میں نہ آتی یہاں تک کہ صبح صادق کی کرنیں کُل جہاں کو منور کرنے کی چاہ لئے آن وارد ہوتیں لیکن اُس کا وجود اندھیروں کی زد میں ہی تڑپتا رہ جاتا.
جب دلِ ناتواں کی برداشت اِس معمول کی اذیت اور دماغی تناؤ سے جواب دینے لگی تو رات کے خاموش مگر شناسا پچھلے پہر اُس کے قدم ڈگمگاتے ہوئے اُسی خدا کے حضور آکر دھیمے ہوئے کہ جِس سے شکایتوں کے موضوع پر وہ ایک کتاب تحریر کر سکتی تھی شاید!
نیت باندھنے کی دیر تھی کہ آنسو تواتر سے اُس کا چہرہ بھگونے لگے گویا آج دل کے سبھی غم بہا کر دم لیں گے،اللّہ اکبر کی صدا سے اُس کا دل لرزہ خیز ہوا ہو جیسے،زباں نے ہولے سے ترجمہ سنایا تو جیسے اُس ذاتِ عظیم کی بڑائ نہایت خوبصورتی سے باور کروائ، حمدو ثنا کے بعد اُس خدا کے حوالے اپنی سب بشری کمزوریاں کرتے ہوئے اُس کے دل سے قفل یکے بعد دیگرے کھلنے لگے،رکوع کی صورت میں اُس پروردگار کی پاکی بیان کرتے ہوئے اُسے اپنا تن اور من بھی پاک ہوتا محسوس ہوا تھا اور سجدہ گویا آخری حد ثابت ہوئ، وہ ضبط کے سبھی بندھن کھو بیٹھی اور زاروقطار رو کر اپنے رگ و جاں کے مالک خدا کو راضی کرنےکی ٹھانے ہوئے گریہ کرنے لگی ،آج اُس کی شبِ غم ایک بار پھر سے شبِ آرزو کا دلکش روپ دھار چکی تھی کہ آج اُس کی آرزو مجازی نہیں تھی،زوال نہیں تھا اُس آرزو کو کیونکہ آج اُس نے اپنے رب سے کسی اور کی نہیں بلکہ اُس رب کی اپنی قربت مانگی تھی،جو اُس رب کی چاہ تھی اُسی کے سپرد اُس نے خود کو کر دیا تھا،تو کیسے وہ مہرباں ذات اُسے مایوس لوٹا دیتی؟ جو آگ کے کھلونے کی وہ اِس سے قبل طلبگار تھی کیسے وہ ماؤوں سے کہیں زیادہ محبت کرنے والی ذات سب علم رکھتے ہوئے بھی اُس کے حوالے کر دیتی؟ بچہ روئے گا،گڑگڑائے گا مگر آخر بہل جائے گا لیکن کسی ناقابلِ برداشت تکلیف سے تو محفوظ رہے گا.

"اور بیشک ہم وہ جانتے ہیں جو تم نہیں جانتے!"
دلِ ناداں سے دھول کی تہہ صاف ہونے کی دیر تھی کہ منظر اُجلا دکھائ دینے لگا اور اُس نے یہ جانا کہ وہ اِنسان جو اُسے بےمول کر دیتا وہ تو اُس کے نصیب میں ہو ہی نہیں سکتا تھا،خود کو اس تلخ حقیقت سے روشناس کروانے کا حوصلہ اب اُس میں تھا کہ بھروسہ تم نے کیا اُس پر،اُمیدوں کا سمندر قائم کیا کِس یقین کو بنیاد بنا کر؟ دو چار دِن کی محبت کے خوشنما کاغذ میں لپٹے ہوئے جُملوں سے؟یا پھر اُن بے معنی گفتگو کے لاتعداد زیاں کیے ہوئے پلوں سے؟اور اُن بیشِ قیمت تحفوں کی قدرو قیمت کی پامالی تو عین اُسی لمحے ہو گئی تھی جب پہلی مرتبہ نظر انداز کیا گیا تھا اُسے؛ کیونکہ اُن کی قیمت تو اُس کی انمول توجہ اور چاہت میں ہی پنہاں تھی!
اور یہ بھی کہ یہ دقیق آزمائش اُسے فولاد کی مانند مضبوط کرنے اور اپنے رب سے لو لگانے کے سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ مشکل کِردار ہمیشہ ہونہار اداکاروں کو ہی دیا جاتا ہے،جو اِسے نبھانے کی خداداد صلاحیت رکھتے ہیں.
اور رہی بات دِل کی تو اُسے صبر آہی جاتا ہے،عطا کر دیا جاتا ہے،زخموں کی گہرائ رفتہ رفتہ ہی مندمل ہوتی ہے لیکن وہ رِسنا اور تکلیف دینا چھوڑ دیتے ہیں کہ تکلیف اُٹھائے بغیر جنت نہیں مِلا کرتی تو اُس جنت کا مالک کیونکر آسانی سے نصیب ہوگا؟ اور پھر مجازی سے حقیقی تک کا سفر عظیم قربانیاں تو مانگتا ہی ہے!
تاریخ اشاعت: 2020-09-14

Your Thoughts and Comments