Siyah Mooti

سیاہ موتی

عائشہ عبدالرشید جمعہ اکتوبر

Siyah Mooti
شام کے دھندلکے گہرے ہونے کو ہیں، سورج اپنے دن بھرکے سفر کے بعد منزلِ مقصود کی جانب رواں دواں ہے اور چاند اپنی مسافت شروع کرنے کوپر تول رہا ہے .
لوہے کے دروازے سے کچے صحن کا احاطہ صاف دکھائ دے رہا ہے جس کی چھوٹی چھوٹی دیواریں اسے آس پاس والوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں. ایک جانب برگد کا گھنا پیڑ ہے جس پر نائیلون کی دو رسیوں کو باندھ کر جھولا بنانے کی کوشش کی گئ ہے. اوپر کی شاخوں پر پرندوں نے اپنے گھونسلے بنا رکھے ہیں، کچھ پرندے گھونسلوں میں دبکے بیٹھے ہیں اور کچھ شاخوں پر خاموش تماشائ بنے صحن میں ہونے والی کارگردگی کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں .

(جاری ہے)


درخت کے نیچے ایک چارپائ بچھی ہے جس پر تیکھے نقوش والی گندمی رنگت کی حامل ایک لڑکی درخت کے تنے سے سہارا لیے سر جھکائے بیٹھی ہے . سیاہ بالوں نے اس کے چہرے کا دونوں جانب سےاحاطہ کیا ہوا ہے، بدن پر سیاہ ڈھیلا ڈھالا لباس ہے، آنکھوں میں تحیّر اور بے بسی سارے دن کی مشقت کےبعد اب تھک ہار بیٹھی ہے اور نظر کے فیصلے کی منتظر ہے .
دائیں ہاتھ میں ایک سوئ ہے جس میں کالا دھاگا پرویا ہوا ہے .

بائیں ہاتھ کی جانب پیروں کے سامنے ایک ہیولا سا دکھائ دے رہاہے جس سے مدہم سفید روشنی نمودار ہو رہی ہے .
تھوڑا قریب سے دیکھنے پر ہیولا ذرا سا واضح ہوتا ہے .
ہیولے پر جابجا خون کے دھبے لگے ہیں اور ہر تھوڑے فاصلے پر لمبا اور گہرا چیرا لگا ہے جس سے لہو میں لت پت نظر آنے والا نامکمل اندرونی منظر مکمل المیہ بیان کر رہا ہے . ہیولے کے ان چیروں پر کہیں کہیں سیاہ دھاگے سے بخیے لگے ہیں جو اندرونی منظر کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں. زخموں کے دہانوں سے خون رس رس جم چکا ہے.
سفید روشنی اب سیاہ دھاگے اور سیاہ ماحول کے ساتھ مل کر سرمئ نظر آ رہی ہے.
لڑکی کے بائیں ہاتھ میں ایک فریم ہے اور اس کی نظریں اسی پر مرتکز ہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ہیولے کو فریم میں قید کرنے کے جتن کرتے کرتے اب تھک کر چور ہو چکی ہے.
لکڑی کے فریم پر بھی جگہ جگہ روح کے ہیولے سے ٹپکتی خواہشات ، تمنّاؤں اور ضرورتوں کے دھبے لگے ہیں .

آرزوئیں خون میں لت پت ہیں مگر فریم کی حدود میں قید ہونے سے قاصر ہیں . ان کی مزاحمت کے زور سے اب بخیے بھی ادھڑنے کو ہیں . ہر دو بخیوں کی درز سےان کے غیر واضح خدوخال لڑکی کے چہرے کے تاثرات کا واضح مقصد بیان کر رہے ہیں .
اس کے چہرے پر ناکامی اور شکست خوردگی کے سرمئ بادل چھا گئے ہیں ، آنکھوں میں یاسیت کی زور آور ہوائیں چل رہی ہیں اورآنسوؤں کی بوندوں کی جھڑیطآنکھ سے ٹھوڑی تک کے سفر کے بعد روح کے ہیولے میں جذب ہو رہی ہے .


درخت پر بیٹھے پرندے اس لڑکی کو تک رہے ہیں جس کے ہونٹ مصلحت کے موٹے موٹے بخیوں سے سِلے ہوئے ہیں اور جس کے ہاتھ کی سوئ کا سر شکست خوردگی کے احساس سے جھکا ہوا ہے .
پرندے اس ہیولے ہر گرنے والے آنسوؤں کو دیکھ رہے ہیں جو روح میں جذب ہوتے ہی بالکل سیاہ موتی کی شکل اختیار کر چکے ہیں. پرندوں کی آنکھوں میں موتیوں کو دیکھ کر جو چمک آئ تھی وہ ان کی رنگت دیکھ کر ماند پڑ چکی ہے
ہائے ! سیاہی در سیاہی .

... مگر آنسوؤں سے لبریز آنکھوں میں زندگی کی لہر دوڑ گئ ہے .
سیاہ موتی ؟؟؟ ہاں .... ! سیاہ موتی ... اور یہ موتی بہر حال سیاہی کے موتی سے بہت بہتر ہوتا ہے ، سیاہ ہے تو کیا ہوا ؟ کہ موتی تو وہ ہوتا ہے جس کی کالک بھی چمکتی ہے .
اور ہاں .....اے پرندو ! رکو اور سنو ! قدرت ہر ایک کو چمک عطا کرتی ہے وہ رنگ نہیں دیکھتی وہ تو بس ظرف آزماتی ہے اور خوبصورت موتیوں کے خزانے ودیعت کرتی ہے جو امتحان اور آزمائش کی مٹی تلے دفن ہوتے ہیں .


اس سیاہ لبادے والی کا ظرف تو بس مٹی کےکچے صحن تک تھا مگر جب حوصلے اور صبر کے بیلچوں سےمٹی کھودی تو اس کچےاحاطے سے سچے موتی نکلے اور ان کی چمک نے رات کی سیاہی کو یہ پیغام دیا کہ موتی تو اندھیروں میں ہی چمکتے ہیں .
ان کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے ، نظروں کو مسرت بخشتی ہے ، پُر نور سَحرِ نو کا پیام دیتی ہے اور امیدکا استعیارہ بن جاتی ہے ....... !
تاریخ اشاعت: 2020-10-02

Your Thoughts and Comments