Stereotyping Sahi Ya Ghalat

Stereotyping ۔ صحیح یا غلط

سمیہ سلطان اتوار جون

اگراسٹیریو ٹائپنگ کے لغوی معنی دیکھے جائیں تو 'دقیانوسی تصورات' کے ملتے ہیں لیکن اگر اس کی تعریف بیان کی جائے تو کچھ یوں ہے کہ:

کسی بھی شخص، قوم یا گروہ سے متعلق ایک مخصوص گمان یا رائے رکھنا (خاص طور پر وہ رائے جو کہ غلط ہو)۔ عرف عام میں ایک بات کا مشہور ہوجا نا چاہے اس بات یا رائے کا تعلق براہ راست اس شخصیت یا قوم سے ہو کہ نا ہو۔



اس کی ابتداء کہاں سے ہوئی یہ بتانا شائد نا ممکن ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو جب سے انسان کی تخلیق ہوئی ہے تب سے ہی یہ سلسلہ چلتا آرہا ہے۔ کیونکہ انسانی دماغ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا خدا داد نظام عطا کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ارد گرد کے ماحول کامشاہدہ کر سکتا ہے بلکہ وہ خود سے بھی ان گنت تصورات بُن سکتا ہے۔

(جاری ہے)

لاتعداد باتیں، خیالات اور سوچیں اس کے زرخیز ذہن میں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔

انسانی ذہن ایک ایسا شجر ہے جس میں ہمہ وقت خیالات، تصورات اور مناظر پنپتے رہتے ہیں۔ اس شجر میں سوچوں کی آببیاری کے لئے ضروری نہیں کہ منظر بصارت سے گزرا ہو یا پھر سماعتیں خود اس بات سے محفوظ ہوئی ہوں بلکہ یہ تو رائی کا پہاڑ اور پر کا کوا بنانے والا ایک خود رو پودا ہے۔ کسی بھی چیز/ انسان / حیوان ، غرض کائنات کے کسی بھی ذرے کو دیکھ کر ہمارا دماغ اس کے متعلق ہمیں مختلف اشارے دینا شروع کر دیتا ہے۔



ایک بات سے متعلقہ بہت سی باتیں ہمارے کارخانئہ ذہن میں گردش کرنے لگتی ہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ انسان نے کمپیوٹر کا نظام بلکل اپنے دماغ کی طرز پر بنایا ہے۔ ایک لفظ لکھو کچھ ڈھونڈنے کے لئے اور اس کے متعلق دس چیزیں ہمارے سامنے موجود ہوتی ہیں۔ انسانی دماغ کی یہی خودکار صلاحیتیں ہیں جو اس کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کرتی ہیں۔

اور چونکہ اس کے اندر ایک حساس دل بھی دیا گیا ہے اس لئے وہ بیک وقت نیک اور بد، خیر و شر، اور سچ اور جھوٹ میں بھی تمیز کرسکتا ہے۔مگر بہت کم لوگ ایسے ہیں جو پہلی ہی نظر میں سامنے والے میں اچھائی دیکھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گروہوں کی شکل میں پیدا کیا ہے۔ احادیث کے مفہوم سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہم لسانی، علاقائی، رنگ ونسل اور شخصی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف اور جدا ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ذاتی تشخص بر قرار رہے۔ ایک دوسرے سے جدا ہونے کے باوجود ہر انسان انفرادی طور پر مکمل اور حسین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ابن آدم کو ایک منفرد رنگ و روپ اور شناخت عطا کی ہے۔ یہ اس لئے کہ ہم ایک دوسرے کو باآسانی پہچان سکیں۔

کسی گورے کو دیکھ کر ہم فوراً اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ انگریز ہے، کسی کالے کو دیکھ کر کہ یہ افرریقن ہے، کوئی گندمی رنگ کا ہے تو ایشیائی ہوگا ، غرض یہ کہ صرف ایک نظر ڈال کر ہی ہم اس کے علاقے، زبان ، اور نسل کا تعین کرنے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔

ایسا سوچنا یا خود بخود سوچوں کا سلسلہ قائم ہونا ایک بے اختیاری عمل ہے۔ لیکن ہم نے انسانی نفسیات کے اس پہلو کو بہت چالاکی اور ہوشیاری سے جس طرح شر پھیلانے اور لوگوں کو بدنام کرنے میں استعمال کیا ہے، اس سے اسٹیریو ٹائپنگ کا ایک نا رکنے والا سلسہ پروان چڑھتا چلا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ دن بدن فرقہ واریت اور شدت پسندی کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔



تقریباً ہر فرد کے اندر نامحسوس طریقے سے ایک اسٹیریو ٹائپسٹ گھس چکا ہے۔ وہ اسٹیریو ٹائپنگ کسی کی ذات ، زبان، رنگ و نسل ، حتی کہ کسی کے پیشے کے حوالے سے بھی ہوتی ہے۔ اور کسی کی قومیت یا شہریت کے حوالے سے بھی۔ یہ ہمارے دماغوں میں گردش کرتی رہتی ہے اور ہم بر ملا اس کا اظہار کرکے شائد اپنے آپ کو بہت عقلمند ثابت کرتے ہیں۔ اسٹیریو ٹائپکل جملے جو باکثرت جو ہم ایک دوسرے پر اچھالتے رہتے ہیں یا رائے زنی کرتے رہتے ہیں، ان کی فہرست کچھ یوں ہے:

"لالا یہ تو پٹھان ہے ، پھر تو دماغ ہوگا ہی نہیں اس کے پاس۔

"

"یار ! تم لوگ میمن ہو جب ہی تو اتنے کنجوس ہو، کتنی جان نکلتی ہے پیسہ خرچ کرتے ہوئے تمھاری۔"

"دیکھ دیکھ وہ بہاری آرہا ہے، چل چل آواز لگاتے ہیں ۔۔۔جو نہ کٹے آری سے وہ کٹے بہاری سے"

"تم سنیارے ہو؟۔۔۔بھائی تم سے دور ہی اچھے۔ سنیارے تو اپنی ماں کے بھی سگے نہیں ہوتے"

"ارے یہ تو پنجابی ہے ۔

۔۔ڈھگا ہے ڈھگا۔۔۔نہ کھانے کی تمیز نہ بات کرنے کی تمیز"

"بھائی یہ لوگ تو قصاب ہیں، بات بات پر چھریاں نکال لیتے ہیں۔۔۔جھگڑالو قسم کے ہوتے ہیں۔۔۔ہاں بھائی حجاموں اور قصابوں کا کیا بھروسہ، ذرا سی بات پر گردن ہی اڑا دیتے ہیں"

"ائے ہائے، کپڑے دیکھو کیسے پہنی ہوئی ہے، کتنے سستے لگ رہے ہیں۔۔۔کیسے کیسے لوگ آنے لگے ہیں اتنی اچھی جگہوں پہ ، اوقات دیکھتے نہیں ہیں اپنی اور مہنگے مہنگے ہوٹلوں میں آنے کا شوق ہے۔

"

"یار شکل دیکھو اس کی۔۔۔میں شرط لگا کے کہہ سکتا ہوں کے یہ بندہ ونڈو شاپنگ کے لئے آیا ہے، اس کی اتنی حیثیت نہیں کہ اتنے مہنگے برینڈ کی گاڑی خرید سکے۔۔۔تو ہی ڈیل کر اس سے میں تو اپنا وقت ضائع نہیں کر رہا۔"

"یہ دیکھو سامنے سے ڈاڑھی والا آرہا ہے، جھوٹے اور منافق ہوتے ہیں یہ سب۔۔۔طالبان کہیں کے، راستہ بدل لوکہیں بم بلاسٹ نہ کردے یا پھر بندوق نکال کر گولیاں نہ چلانا شروع کردے"

"تم ورکنگ وومن ہو پھر تو بہت ہی خود مختار ہوگی، بیچارے میاں کو اپنی مٹھی میں کر کے رکھتی ہوگی۔

گھر پر وقت نہیں دیتیں تو بچے تو قابو سے ہی باہر ہونگے تمھارے۔"

اسٹیریو ٹائپنگ کی جڑیں ہمارے دماغوں میں اس حد تک پھیل چکی ہیں کہ اب یہ ایک نفسیاتی طرزعمل بن چکا ہے۔ ہم چاہیں نا چاہیں، شعوری یا لاشعوری طور پر سامنے والے کو دیکھ کر درج بالا یا پھر کچھ اسی طرح کے جملے ہمارے ذہن میں بازگشت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اگر ہم ان جملوں کو اپنے دماغ سے جھٹک دیں تو یہ ہمارے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی سکون کا باعث ہے۔

لیکن اس کے برعکس ہم میں سے اندازاً ٪95 ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ان باتوں پر یقین کرتے ہوئے فوراً اپنا فیصلہ صادر کردیتے ہیں کہ یہ تو ہے ہی ایسا۔

انگریزی کا ایک بہت مشہور مقولہ ہے:
Don’t judge a book by its cover

مگر جناب ہم نہ صرف قاضی بنتے ہیں بلکہ لوگوں کے جزا و سزا کے مالک بھی بن جاتے ہیں۔ اپنی انا کا پرچم سربلند رکھنے کے لئے کبھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے۔

بلکہ اپنے غلط تجزیے اور غلط نظریے پر اڑ جاتے ہیں۔ اگرچہ وہ شخص ہمارے بنائے ہوئے خاکے پر پورا نہ بھی اترتا ہو تب بھی ہم کسی طور یہ نہیں مانتے بلکہ تاک میں رہتے ہیں کہ کب اس سے کوئی لغزش یا کوتاہی ہو اور ہم اپنا موقف درست ثابت کرسکیں۔

اسٹیریو ٹائپنگ صحیح ہے یا غلط۔۔۔میری ذاتی رائے میں اس کا حتمی جواب دینا بہت مشکل ہے۔ لیکن اپنی رائے اور فیصلے دوسروں پر ٹھونسنا، زبردستی اپنا نظریہ ایک فرد پر یا پوری قوم پر لاگو کرنا غلط ہے۔

ایسے نفسیاتی داؤ پیچ میں الجھ کر ہم صرف فرقہ واریت، تنگ نظری، شدت پسندی اور دہشت گردی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ بحیثیت مسلمان اور پاکستانی، ہمارا خاکہ دنیا کے سامنے ایک اجڈ اور دہشت گرد قوم کے اسی اسٹیریو ٹائپنگ کو استعمال کرکے پیش کیا گیا ہے۔ اور ہم بھی اکثر جگہوں پر ایسی تنگ نظری اور شدت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں یا میڈیا کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ خاکہ دنیا کے باقی قوموں کے ذہنوں پر نقش ہوگیا ہے۔ میرے خیال سے رویوں میں ،معاشرے میں اور سوچ میں اعتدال پسندی پیدا کرکے اسٹیریو ٹائپنگ کو ہم مثبت سمت میں لے جا سکتے ہیں۔ معاشرے میں اس کے مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے ؟؟؟ ۔
تاریخ اشاعت: 2020-06-28

Your Thoughts and Comments