Tawazo

تواضع

جبران ظفر اتوار نومبر

Tawazo
”پتر!آواز ٹھیک نہیں آ رہی ․․․․ہیلو!․․․باس سا تھ آئے گا تیرے ؟․․․․ہیلو!․․․․کب تک پہنچے گا ․․․اتوار کو ․․․ہیلو!ہیلو!․․․“۔اس کے ساتھ ہی فون بند ہو گیا۔ملک خاور کی بیگم خالدہ فون پر اپنے بیٹے سے مخاطب تھیں۔گھر کاواحد فون بھی خراب ہو چکا تھا۔بیٹے سے مزید بات بھی ممکن نہ تھی ۔ بس اتنا پتہ لگ سکا کہ وہ اپنے باس کے ہمراہ اتوار کے دن دوبئی سے پاکستان آرہا ہے۔

اور وہ ایک دو دن ڈیرے پر قیام کرے گا۔
شام کا وقت تھا ۔ملک خاور بیٹھک میں مسہر ی پر نیم دراز تھا ۔خالدہ نے مہمان کی آمد کا ذکر چھیڑا ۔خا وربولا”جو بھی ہو ،مہما ن کی تواضع میں کوئی کثر نہیں رہنی چاہیے ۔”باہر کے لوگ تو برگر پیزے وغیرہ کھاتے ہیں ۔وہ پرتکلف کھانے کہاں سے لائیں ؟“خالدہ نے مسئلہ بیان کیا۔

(جاری ہے)

”ساگ بنا لیں ؟“ خالدہ نے سوال کیا۔

ملک صاحب حقارت سے بولے”اتنی دور سے مہما ن آ رہا ہے۔اس کو گھاس پھو س کھلانا ہے؟“”تو کیا بنانا ہے ؟“بیگم نے جل کر کہا۔خاوند دھیمے لہجے میں بولا ”اری نیک بخت ! کوئی گوشت وغیر ہ کا سالن کر لے۔اپنی لاج تو رکھ لے۔“”اپنا گوشت بناؤں کیا ؟ “خالدہ جھلا گئی۔خا ور کچھ دیر خا موش رہا ۔
پھر اس نے اپنے خا ص ملازم ’نورے‘ کو آواز دی۔

پستہ قد نورا بھا گا بھا گا آیا۔”جی سر!“۔نورا آتے ہی بولا۔مالک نے پوچھا ”کوئی ڈنگر ذبح والے کھڑے ہیں؟“نورا ذہن پر زور دے کر بولا”ایک بھینس تو بیماری سے مر گئی تھی ۔پچھلی عید پہ دو بکرے․․․․ملک صاحب! دو میمنے ہیں ۔مگر وہ بہت چھو ٹے ہیں۔“ملک خاور نے سر پکڑ لیا ۔نورا جھٹ سے بولا”صاحب ! وہ․․․․ شیرو!․․․“”خبردار!․․․․“ ملک نورے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ کر بولا۔

نوراگنگ ہو گیا۔آخر ملک نے اپنے مرغ’ شیر‘و کو اتنے لاڈ سے جو پالا تھا۔اس کی خوراک میں بادام ،پستہ،اخروٹ اور نہ جا نے کیا کیا ہوتا تھا۔ارد گرد کے دیہاتوں میں شیرو کا چرچا تھا۔”اب اپنی لاج کہا ں گئی ملک صاحب!“خالدہ نے تمسخر اڑایا۔کچھ وقت کے لیے سناٹا چھا گیا ۔”ٹھیک ہے نورے !“ملک صاحب نے سکوت توڑا ۔”شیخو کو پکڑ اور سالن بنوا“۔

نورا فوراًبولا”مالک! اس کو پکڑنا تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔“
اگلے دن نورا مویشی خانے پہنچا۔دو میمنے چارے پر ہاتھ صاف کر رہے تھے۔نورے نے باہر نظر دوڑائی ۔شیرو نلکے کے اوپر بیٹھا تھا۔اس کو پکڑنا کوئی خالہ جی کا گھر نہ تھا۔سورج پوری تما زت سے چمک رہا تھا۔دیسی مرغ کی کلغی بڑی دلکش لگ رہی تھی۔دم کے پر تو گویا پالش سے چمکا ئے ہوں ۔

اور ٹھونگ کسی درانتی کی مانند۔واقعی شیرو قدرت کا شاہکار تھا ۔
نورا اب سرعت سے آگے بڑھ رہا تھا۔اس نے جھپٹ کر شیرو کی گردن دبوچنے کی کوشش کی۔شیرو ایک جست لگا کے نورے کے شکنجے میں آنے سے بچ گیا۔اور نورے کا ماتھا گرم نلکے سے ٹکرایا اور اس کے منہ سے ایک اندوہ ناک چیخ بلند ہوئی۔نورے کے حواس بحال ہوئے تو اس نے شیرو کو ’پریڈ‘ کرتے پایا۔

گویا وہ حواس باختہ نورے کا مزاق اڑا رہا تھا۔
تیرہ بخت نورااپنے کمرے میں گیا ۔ایک برف کا ٹکڑا لے کر ماتھے کی ٹکور کرنے لگا۔ایک بار پھر وہ شیرو کی تلاش میں نکل پڑا۔نچنت مرغا پڑوس سے متصل دیوار پہ بیٹھا تھا ۔نورے کو دیکھ کر اس نے اپنا پنجہ دیوار پر مارنا شروع کر دیاگویا نورے کو للکار رہا ہو۔نورے نے برف پھینکی اور پوری طاقت کے ساتھ دیوار کی طرف دوڑا ۔

جیسے ہی وہ چھلانگ لگانے لگا ،اس کا پاؤں پھسلا اور وہ سیدھا دیوار میں جا ٹکرا یا ۔دیوار کچی تھی ۔وہ برابر کے گھر کے باورچی خانے میں گرا۔پڑوسن نورے کو برا بھلا کہنے لگی ۔شیرو نے عقب سے فتح کا نعرہ بلند کیا۔زخمی نورے نے حکیم کی دکان کا رخ کیا۔
راسخ العزم نورا تمام تر چوٹوں کے باوجود شیرو سے بدلہ چاہتا تھا۔نورے نے قریب گاؤں سے گڑ اور گھی کی مٹھائی لی ،اس میں زہر ملایا اور مویشی خانے کے باہر رکھ دی۔

کچھ وقت کے بعد ’ٹھگنے‘ نورے نے دیکھا کہ شیرو تو اٹھلا اٹھلا کر چل رہا ہے۔وہ مویشی خا نے کے سامنے پہنچا۔مٹھائی غائب تھی۔ایک میمنا تڑپ رہا تھا۔نورے نے آؤ دیکھا نہ تاؤ،میمنے کو اٹھا کر حکیم کی طرف دوڑ لگا دی۔قسمت نے یا وری کی اور میمنے کی جان بچ گئی۔
نورے نے آ خری حر بے کے طور پر قصائی سے مدد کی ٹھا نی۔قصائی اپنے ساتھ ایک آدمی اور لایا ۔

کافی جست و خیز کے بعد شیرو قا بو میں آ گیا۔شیرو کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔نورے کے پاؤ ں ز مین پر ٹک نہ رہے تھے۔
اتوار کے دن ڈیرے پر خاور،اس کی بیگم اور نورا مہمانوں کی راہ تک رہے تھے۔نورے نے کلف لگا سفید سوٹ پہنا ہوا تھا۔ہاتھ میں بندوق بھی تھی تاکہ مہمان باس پر رعب رہے۔آخرکار مہمان آگئے۔ان کا پرتپاک استقبا ل کیا گیا ۔ملک صاحب نے بیٹے کے با س کو ڈیرے کی سیر کرائی۔

اس نے دیہا ت پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔
کھا نے کا وقت ہوا۔مہمان کھانے کے لیے دسترخوان پر بیٹھے۔نورا کسی فوجی کی طرح بندوق کندھے پر لٹکائے ’ہوشیار‘ کھڑا ہو گیا۔مہمان نے ڈونگے کا ڈھکن اٹھایا۔سالن کی خوشبو نو رے کی کا میابی کا اعلان کر رہی تھی۔اس کی شادمانی کا ٹھکانہ نہ تھا۔باس نے خاور کے بیٹے کے کان میں کچھ بولا۔لڑکا بولا ”کوئی ساگ نہیں کھانے میں؟“میزبا ن ملک خاور پریشانی کے عالم میں بولا”کیوں بیٹا؟خیریت؟“با س بولا ”انکل ہم شاکا ہاری ہوں ۔ماس،مچھلی نہیں کھاتا“۔خاموشی چھا گئی۔نورے نے بندوق کندھے سے اتاری اور نال کا رخ باس کی طرف کر دیا۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-29

Your Thoughts and Comments