Tehreek Nifaz Urdu Conference

تحریک نفاذاردوکانفرنس سیالکوٹ ٹی ہاؤس

محمد صہیب فاروق منگل مئی

Tehreek Nifaz Urdu Conference
سلیقے سے ہواؤں میں جوخوشبوگھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جواردوبول سکتے ہیں
بزم اہل سخن سیالکوٹ کے زیراہتمام مئورخہ 21اپریل کوسیالکوٹ ٹی ہاؤس میں تحریک نفاذاردوکے حوالہ سے ایک فقیدالمثال کانفرنس کا انعقادکیا گیاجس کی صدارت نامورشاعروادیب ڈاکٹرپروفیسرعبدالکریم خالدنے کی جبکہ نظامت کے فرائض محترم ایوب صابرنے بخوبی سرانجام دیے اس کانفرنس کے مہمانان خصوصی میں ،محمدظہیربدر ،گل بخشالوی ،بیناگوئندی ،پروفیسر اشفاق شاہین ،دلشاد احمد،اسلام عظمی ،شاہدرضا،خالدلطیف ،حامدمحمود،آصف بھلّی شامل تھے جبکہ مقامی شعراء وادباء میں سے رشیدآفریں ،اعجازاعزائی ،محمودالحسن شاکر،فداحسین فاطم ،مجاہدفاطمی ،عتیق الرحمن صفی ،اجمل فاروقی ،عادل ورد،صغیرحسین صغیر،فرازمحمودفارز،طارق ملک ،امانت علی امانت ،رشیدفراز،مریم سلطانہ ،راناعثمان احامر،نثار سلہری ،مبشرمیو،منیرجعفری ،اقبال ساجد،سعد ضیغم ،ڈاکٹرعمرعزیز،فرانس سائل ،آصف علی علوی ،دلشاد احمد،ڈاکٹرمجاہد بخاری ،مرزایونس طالب ،رحمان امجد،گلزاربخاری،عبدالوہاب میر،محمدصہیب فاروق صدیقی ،کے علاوہ دیگر شریک تھے تقریب کا آغازتلاوت قرآن پاک اورتجمل حسین تجمل کی خوبصورت نعت سے ہوا۔

(جاری ہے)


صدربزم اہل سخن سیالکوٹ عامرشریف نے خطبہ استقبالیہ پڑھا جس میں انہوں نے حاضرین مجلس سے یہ عہدلیاکہ ہمیں پوری طرح سے سپریم کورٹ کے 8ستمبر2015ء کے فیصلے پرعمل درآمدکروانے کے لئے مستقل مزاجی سے ملکرجدوجہدکرناہے تاکہ قومی زبان کے نفاذسے ہم دنیامیں اپنی ایک خاص پہچان پیداکرسکیں اوراس میں ہمارے پاک وطن اورہماری آنے والی نسلوں کی بقا اورتحفظ ہے۔

ایوب صابرنے اردورسم الخط کو زندہ رکھنے کی ضرورت پرزوردیا۔پروفیسر اشفاق شاہین نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ہم انگریزی زبان سے مرعوب ہیں ہمارامیڈیااردوزبان وادب کی ترویج کا بہترین ذریعہ ہے لیکن بدقسمتی سے وہ انگریزی سے متاثرہے اردوزبان کی ترقی کے لئے مستقل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔فورٹ ولیم کالج نے اردوکی ترقی کے لئے بہت کام کیاوہاں ایک چپڑاسی کی بھرتی کے لئے بھی اردودانی شرط تھی
گل بخشالوی نے ایوان بالا اورزیریں میں بیٹھی قیادت کی حالت زارکا شکوہ کیاکہ انہیں اردونہیں آتی ۔

انہوں نے کہاکہ ہماری زبان اردوہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کے چیف جسٹس بھی اردومیں حلف نہیں اٹھاتے انہوں نے کہاکہ اردوزبان وحدانیت کی علمبردارہے جس کے سائے تلے تمام پاکستانی قوم یکجا ہوسکتی ہے ۔
محترم آصف بھلّی نے کہاکہ ہم نے اردوکوایجادکیا ہے نہ کہ دریافت ۔مزیدیہ کہ معاشرے کاہرفرداردوکی ترویج کے لئے کوئی لائحہ عمل تجویزکرے،حامدمحمودنے کہاکہ 1940ء میں قراردادپاکستان میں اردوکوپاکستان کی قومی زبان رکھنے کافیصلہ کیاگیالیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اردوزبان وادب کے اداروں کومکمل اتھارٹی نہیں دی گئی ۔

اسلام عظمی نے کہاکہ نفاذاردوکے فیصلہ پرآج تک عمل درآمدنہیں ہوااس بارے سوشل میڈیااوردیگرپلیٹ فارمزپرہمیں آوازبلندکرناہوگی انہوں نے کہاکہ اردوزبان وادب سے محبت کی وجہ سے ایک زمانہ میں ہرمحلہ میں آئینہ لائبریری ہواکرتی تھی اردولکھنے والوں سے انہوں نے مطالبہ کیاکہ وہ اردوکوعام فہم سادہ الفاط میں پیش کریں ۔
بیناگوئندی نے کہاکہ اردوہماری شناخت ہے ہمیں بچوں کی طرح اس سے پیارکرنا چاہیے ۔

انہوں نے کہاکہ اردوزبان میں دنیابھرکی زبانوں کے الفاظ شامل ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم اس میں اپنی علاقائی زبانوں کے الفاظ کوبھرپورشامل کریں اس سے جہاں یہ ایک uniqueزبان کی صورت اختیارکرے گی وہیں اس سے باہمی محبت پروان چڑھے گی اورزبانوں کے تعصب کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔
محمدظہیر بدرنے کہاکہ کسی زبان کی ترقی اوراحیاء کے لئے سب سے بنیادی با ت یہ ہے کہ اس کے ساتھ معاش کووابستہ کردیاجائے انہوں نے کہاکہ فارسی زبان کودرباری زبان ہونے کی وجہ سے عروج نصیب ہوا۔

مزیدکہاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں اردوزبان وادب کی اشاعت کے ادارہ مقتدرہ اردوکا نام تک تبدیل کردیاگیاجوکہ ایک المیہ ہے
شاہدرضانے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ جس زبان کا معیاری ادب موجودہواسے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوسکتااردوزبان ہرگذرتے دن کے ساتھ ترقی کی جانب گامزن ہے انہوں نے کہا کہ صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیاکے بہت سے دیگرممالک کی یونیورسٹیز میں اردوکے باقاعدہ ڈیپارٹمنٹ قائم ہیں ۔

جواردوکی ترقی کے لئے ایک اچھا شگون ہے ۔
دلشاداحمدنے کہاکہ نفاذاردوکے لئے گذشتہ 70سالوں سے عدالتوں میں کیس دائرہیں لیکن ان پرکوئی عمل درآمدنہیں ۔خالدلطیف نے کہاکہ اردوزبان ایک گلدستہ ہے جس میں پرطرح کے الفاظ کی گنجائش موجود ہے
تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر عبدالکریم خالد نے اردوزبان کے نفاذکے حوالہ سے بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے اردوزبان کے حوالہ سے دوٹوک مئوقف کوبیان کیاکہ انہوں نے 1948ء میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ”میں واضح الفا ظ میں بتادیناچاہتاہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردوہی ہوگی جوشخص آپ کواس سلسلے میں غلط راستے پرڈالنے کی کوشش کرے وہ پاکستان کاپکا دشمن ہے۔


انہوں نے مزیدکہاکہ اردوزبا ن کادائرہ بہت وسیع ہے اس میں گہرائی کے ساتھ گیرائی بھی ہے ۔
کانفرنس کے دوسرے حصہ میں مشاعرہ ہواجبکہ تیسرے اورآخری حصہ میں مہمانان خصوصی کواسناد فضیلت پیش کی گئیں۔
اردوزبان کودنیاکی تیسری بڑی زبان کادرجہ حاصل ہے
اردوہے جس کانام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
قیام پاکستان کی غرض وغایت میں نفاذاردوایک بنیادی کڑی تھی بانیان پاکستان نے اردوزبان کوقومی زبان کادرجہ دلوانے کے لئے لازوال قربانیاں دیں لیکن بدقسمتی سے 70سال سے زائدعرصہ بیتنے کے باوجودآج ہمارے ہاں اردوکووہ مقام ومرتبہ نہیں دیاگیا۔

دنیاکے تمام ترقی یافتہ ممالک نے اپنی قومی زبان کی بدولت ترقی کی ہے لہذاوطن عزیزپاکستان کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کے لئے یہاں نفاذاردوانتہائی ناگزیرہے ۔
تاریخ اشاعت: 2019-05-07

Your Thoughts and Comments