Uff Yeh Filter Zada Digital Zindagi

اف یہ فلٹر زدہ ڈیجیٹل زندگی۔۔!!!

سعدیہ نساء پیر جولائی

Uff Yeh Filter Zada Digital Zindagi
یہ ڈیجیٹل دور ہے یہاں گھر میں ٹینڈے اور آلو بینگن کھانے کے بعد فیس بک پر بتایا جاتا ہے کہ میں نے فرائیڈ رائس ودپران اور الغم بلغم کیساتھ کھایا ہے۔۔۔ پلاسٹک کا ڈنر سیٹ یا سٹیل کے برتن میں کوئی تصویر لگائی تو شرم محسوس ہوتی ہے۔۔۔
ہر دوسرے دن بہانے بہانے سے گھر کے لان ( امیر رشتے داروں کے لان) کی تصویر لگانی ہے، پارکنگ میں کھڑی مہنگی گاڑی ساتھ سلفیاں بنانی ہیں کیونکہ جب تک اپنی امارت کا رعب نا ڈالا جائے کوئی عزت تو کرے گا نہی۔

۔۔ ؟؟؟

ہم سادہ طرز زندگی چھوڑ چکے ہیں۔۔ اپنے ہم زبان سے اپنی زبان میں بات کرتے شرم آتی ہے۔۔ مادری و قومی زبان میں بات کی تو بھلا رعب کیسے ڈالا جائیگا کہ ہم نے یونیورسٹی سے ڈگری لی ہے۔۔۔۔۔ ڈگری بھلے 2 جی پی اے والی ہی کیوں نا ہو۔

(جاری ہے)

۔

آج سے نو دس سال پہلے 2 میگا پکسل والے موبائل کیمرے آئے تھے، نئی نئی فیس بک چلی تھی، تب میری ایک دوست کہتی تھی " تم بہت فوٹو جینک ہو، تصویریں بہت پیاری آتی ہیں تمھاری"حالانکہ اسوقت بیوٹی فلٹرز نہی تھے ۔


آج دنیا ترقی کر چکی ہے، ایچ ڈی کیمرے اور بیوٹی فلٹرز کی بھرمار ہے۔۔ ڈیجیٹل ورلڈ میں خود کو حسین ترین ثابت کرنے کے لیے فلٹرز شدہ تصاویر بنوانے کا سب کا شوق پڑ گئیا ہے۔
لیکن کہیں اس شوق میں ہم اپنے ہی ساتھ زیادتی تو نہی کر رہے۔۔۔؟؟ ہم اپنی پہچان مٹا رہے ہیں۔۔ اتنا بھی مصنوعی زندگی کو کیا جینا کہ خود کو خود کے ہاتھوں ختم کیا جائے۔

۔؟؟
اللہ کی پناہ ہے لوگ اتنا فلٹرز لگاتے ہیں، اتنا زیادہ کہ اپنی پہچان مٹا دیتے ہیں۔ ملائم چہرہ، گورا رنگ۔۔اف ف ف

ایک وقت تھا میں نے بھی بیوٹی ایپس ڈاونلوڈ کیں، لیکن اسوقت بھی میں نے خود میں زمین اسمان کا فرق نا رکھا تھا۔۔ آج بھی میرے موبائل پر نارمل موڈ ہے۔۔ اب میں جیسی ہوں ویسی تصاویر بنوانا پسند کرتی ہوں۔۔ میں اس مصنوعی زندگی سے دور ہوں۔

۔۔ کیونکہ میں نے خود سے محبت شروع کر دی ہے۔۔ میں نے اپنی زبان سے محبت شروع کر دی ہے۔۔ اپنے کلچر اپنے رسم و رواج سے محبت شروع کر دی ہے۔
میں آج شدت سے چاہتی ہوں کے اس دو چارپائیوں جتنے لان کی بجائے 10 12 چارپائیوں والا پرانی طرز کا صحن ہو۔۔کھلی ہوا آ رہی ہو۔۔جہاں شام میں بیٹھ کر گپ شپ کی جائے۔۔۔ ایک پرانی طرز کا اوپن کچن بھی ہو جہاں پر اماں بیٹھی کھانا پکائے اور بچے چولہے کے پاس بیٹھ کر کھانا کھائیں۔

۔۔میں اپنی زندگی سادگی سے جینا چاہتی ہوں۔۔۔
نا کسی کی زبان پر نا کسی کے مزہب پر بات کرنی ہے۔۔ لوگوں کو جینے دینا ہے۔۔اور خود سے محبت کرنی ہے۔۔

لیکن ہم لوگوں کے سامنے اپنی عزت بنانے کے چکر میں مصنوعی زندگی جیے جاتے ہیں۔ جبکہ بھول جاتے ہیں وتعز من تشاء وتزل من تشاء۔۔
شمس تبریز کہتے ہیں " محبت کے چالیس اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ ، اگر تم چاہتے ہو کہ لوگ تم سے مختلف سلوک کریں تو تمھیں پہلے اپنے سے روا سلوک کو بدلنا ہو گا۔

جب تم خود سے پورے خلوص سے محبت نہی کرو گے کوئی صورت نہی کہ تم سے محبت کی جا سکے۔۔اور جب تم اس مرتبے کو پہنچ جاو گے تو ہر اس کانٹے کے لیے شکر گزار ہونا جو تم پر پھینکا جائے ۔ یہ علامت ہے کہ جلد تم پر گلاب بھی پھینکے جائیں گے۔۔۔ تم دوسروں کو اپنی بے عزتی کا الزام کیسے دے سکتے ہو جب تم خود کی ہی عزت نہی کرتے نا ہی خود سے محبت کرتے ہو۔۔""

خود سے محبت کریں اور دنیا سے بھی۔۔۔ جئیں اور جینے دیں۔۔زندگی جتنی سادہ ہو گی اتنی پرکشش ہو جائیگی۔۔۔۔ڈگریاں، خوبصورتی، عہدے سب مٹی میں ہی مل جانے ہیں۔۔۔
تاریخ اشاعت: 2020-07-06

Your Thoughts and Comments