Voltaire ``ourak Hind`` Mein Asal Hindostan Ki Baatein

والٹیئر - ”اوراقِ ہند“ میں اصل ہندوستان کی باتیں

سید سردار احمد پیرزادہ پیر نومبر

Voltaire ``ourak Hind`` Mein Asal Hindostan Ki Baatein
ہم فرانسیسی رائٹر والٹےئر کو بہت خوب جانتے ہیں۔ وہ تاریخ میں ایک روشن خیال موٴرخ اور فلاسفر کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے جس نے انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور آزادانہ تجارت کے لیے عمربھر آواز بلند کی۔ والٹےئر وہ نام ہے جس کی سوچ نے انقلابِ فرانس کی بنیاد فراہم کی۔ اُس نے 20ہزار سے زائد خطوط اور 2ہزار سے زائد کتابیں اور پمفلٹ تحریر کئے۔ وہ اُس عہد میں سماجی اصلاحات کا انتہائی بے باک اور بے خوف حامی تھا جب فرانس میں سنسرشپ کے بے حد سخت قوانین تھے اور انہیں توڑنے والوں کے لیے خوفناک سزائیں تھیں۔

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ والٹےئر کے والد اسے وکیل بنانا چاہتے تھے مگر وہ اپنے باپ کی مرضی کے برخلاف رائٹر بننا چاہتا تھا لیکن شائد ہم میں سے بہت سے یہ نہیں جانتے کہ اسی والٹےئر نے صدیوں پرانے ہندوستان کے بارے میں بھی لکھا۔

(جاری ہے)

یہ وہ دور تھا جب فرانسیسی، برطانوی، پرتگالی، ولندیزی، مغل اور مقامی باشندے ہندوستان کے خزانے، تجارت اور حکومت کو حاصل کرنے کے لیے خونی جدوجہد میں گتھم گتھا تھے۔

والٹےئر کی ایک اہم کتاب جس کا انگریزی ترجمہ ”فریگمنٹس آف انڈیا“ اور اردو ترجمہ ”اوراقِ ہند“ کے نام سے 1937ء میں کیا گیا اَب تک لائبریریوں کی دیمک اور دھول میں دبا رہا۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی استاد اور ممتاز محقق ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے اسے نئی ترتیب اور تدوین کے ساتھ کچھ عرصہ قبل سانجھ پبلیکیشنز لاہور سے شائع کروایا۔

اس کتاب میں تحریر ایک ایک لائن اور ایک ایک واقعے سے ہمیں سینکڑوں برس پرانے ہندوستان کی بہت سے باتیں ٹھیک ٹھیک پتا چلتی ہیں۔ جی ہاں یہ وہی دور ہے جس کے بارے میں ہم اب اگر جاننا چاہیں تو کنفیوژن کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ ہمیں طالبعلمی کے زمانے میں تاریخ کی ایسی کتابیں پڑھائی گئیں جو تاریخ کی کم اور افسانے کی زیادہ لگتی ہیں۔ تاریخ تو حقیقت ہوتی ہے لیکن افسانہ لکھنے والے کی خواہش، جو ضروری نہیں کہ حقیقت پر مبنی ہو۔

ہندوستان کی تاریخ کا یہ کنفیوز دور اُس وقت بے پناہ بھیانک ہوجاتا ہے جب ہم اب اِسے افسانوی تاریخ کی بجائے حقیقی تاریخ میں پڑھتے ہیں۔ والٹےئر نے اپنے روایتی تحریر کے بے رحمانہ انداز میں لکھا کہ ”ہندوستان میں بسنے والی بیس اقوام جن کے وجود کے بارے میں اس سے پہلے یورپ میں کسی کو زیادہ علم نہ تھا، کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی۔ پرتگیزی قوم ہند میں قتلِ عام کرنے کے بعد یورپ کو محض کالی مرچ اور کپڑا ہی دے سکی۔

ہندوستان پر چڑھائی محض اس لیے تھی کہ تاجروں کا لالچ پورا کیا جاسکے جو بادشاہوں کی دوسرے ملکوں پر قبضہ کرنے کی ہوس سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ پیرس اور لندن کے شہریوں کی میزوں پر اتنے مصالحے مہیا کیے جاسکیں جتنا کبھی شہزادے شہزادی کی میز پر بھی میسر نہ تھے، یہ سب اس لیے ہوا کہ یورپ میں عام لوگوں کی بیویوں پر اتنے ہیرے لادے جاسکیں جتنے ملکہ اپنی تاجپوشی کے وقت پہنتی ہے۔

برہمنوں کے وارث، کئی فنون کے موجد، امن سے محبت کرنے والے اور جھگڑوں کا فیصلہ کرانے والے ہمارے تنخواہ دار ایجنٹ بن گئے۔ ہم نے ان کے ملک کو اجاڑ کر رکھ دیا اور اس کی مٹی میں اپنے خون کی کھاد ملا دی۔ ہم نے انہیں بتا دیا کہ لڑائی اور خباثت میں ہم ان سے بہت آگے ہیں اور یہ کہ دانائی میں ہم ان سے کتنا پیچھے ہیں۔ ہماری یورپی اقوام نے اسی وطن میں خود کو ہلاک کرڈالا۔

یہ وطن جہاں ہم صرف امیر بننے کے لیے آئے تھے اور جہاں ابتدائی یونانی محض علم کے حصول کی خاطر آیا کرتے تھے“۔ والٹےئر بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت قائم ہونے کے حوالے سے اوراقِ ہند میں ایک جگہ لکھتا ہے کہ ”بنگال کے صوبیدار کا نام سراج الدولہ تھا اور وہ نسلاََ تاتاری تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اورنگزیب کی طرح وہ بھی تمام ہندوستان پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔

اس میں شک نہیں کہ وہ شان و شوکت چاہتا تھا کیونکہ ایسا کرنے کا اسے موقع ملا ہوا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ہندوستان کے سنگدل اور کمزور دماغ والے بادشاہ شاہ عالم ثانی سے بھی ناخوش تھا جو سست اور بزدل بھی تھا۔ سراج الدولہ ان غیرملکی تاجروں کو بھی ناپسند کرتا تھا جو ہندوستان کے مسائل سے فائدہ اٹھانے اور ان میں اضافہ کرنے آئے تھے۔

یہ بات عام ہے کہ کس طرح میر جعفر نے سراج الدولہ سے غداری کرکے انگریزوں کو بنگال پر قبضہ جمانے کا موقع فراہم کیا لیکن اس بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس نے انگریزوں سے جو خفیہ معاہدہ کیا وہ قرآن شریف کو ضامن بناکر کیا گیا تھا یعنی ایک بادشاہت جو قرآن پر حلف اٹھا کر بیچ دی گئی۔ جعفر نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو حاضر ناظر جان کر میں قسم کھاتا ہوں کہ اس معاہدے پر تادم حیات قائم رہوں گا اور یہ کہ انگریزوں کے دشمن میرے دشمن ہوں گے۔

میں حکمران بنتے ہی سراج الدولہ سے جنگ کے نتیجے میں انگریزوں کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے طور پر 244لاکھ، 80ہزار پاؤنڈ کے برابر نقد رقم ادا کروں گا۔ دستخط جعفر۔ انگریزوں اور میر جعفر کے اس معاہدے کے بعد سراج الدولہ کو شکست ہوئی۔ وہ جان بچانے کے لیے اکیلا چھپتا پھر رہا تھا کہ اسے ایک حجرے کا پتہ چلا جس میں ایک فقیر رہتا تھا۔ اُس نے غار میں واقع فقیر کے حجرے میں پناہ حاصل کی۔

سراج الدولہ نے جلد ہی فقیر کو پہچان لیا۔ وہ ایک زمانے میں بدمعاش ہوا کرتا تھا جس کے کان اور ناک اُس نے کٹوا دےئے تھے۔ فقیر اور سراج الدولہ میں کچھ رقم کے بدلے میں سودا ہوگیا لیکن بعد میں زیادہ رقم کی لالچ میں فقیر نے انگریزوں کو مخبری کردی اور اُسے گرفتار کرکے جعفر کے پاس پہنچا دیا گیا۔ سراج الدولہ کی منتوں، دعاؤں اور آنسوؤں کا جعفر پر کوئی اثر نہ ہوا۔

قتل سے پہلے اس کے سرپر پانی انڈیلا گیا۔ یہ ایک عجیب رسم ہے جو پرانے وقتوں سے گنگا کے کنارے ادا کی جاتی رہی ہے۔ وہی گنگا جس کے پانی سے لوگ انوکھی داستانیں وابستہ کرتے ہیں“۔ والٹےئر نادر شاہ اور ہندوستان پر مسلمانوں کی حکمرانی کا تجزیہ کرتا ہے کہ ”نادرشاہ خراسان کا باشندہ اور پیشے کے لحاظ سے گڈریا تھا جو بعد میں فارس کا بادشاہ بنا اور اپنے ملک کو تباہ کرنے کے بعد شمالی ہندوستان کو تباہ کرنے آپہنچا۔

نادر شاہ نے دہلی سے جو خزانہ لوٹا اس کی مالیت اس وقت تقریباً 1500 ملین فرانسیسی رقم تھی مگر وہ اس کے کام نہ آئی کیونکہ واپس پہنچتے ہی اس کے بھتیجے نے اسے قتل کردیا۔ ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں نے محض حکمرانی کو بہت سمجھا اور عوام کی فلاح و بہبود اور روحانی تربیت میں دلچسپی نہ لی۔ یہی وجہ ہے کہ اب بھی ہندوؤں کی چار قدیم ذاتوں کا وجود باقی ہے“۔

ڈاکٹر حمیرا اشفاق کی مرتب کردہ والٹےئر کی مذکورہ کتاب اوراقِ ہند اور اس جیسی دوسری تاریخ کی حقیقی کتابیں پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ برصغیر میں آنے والے غیرملکی تاجروں کی نیت شروع سے اب تک ایک ہی ہے، برصغیر پر حملہ آور ہونے والے غیرملکیوں کا مقصد شروع سے اب تک ایک ہی ہے اور شاید ہماری دھرتی پر حکمرانی کرنے والے مسلمانوں کا مزاج بھی شروع سے اب تک ایک ہی ہے جنہوں نے محض حکمرانی کو ہی بہت سمجھا اور عوام کے لیے کچھ خاص نہ کیا۔
تاریخ اشاعت: 2019-11-11

Your Thoughts and Comments