Waba Main Marne Ka Dukh

وبا میں مرنے کا دکھ!!

سید بدر سعید جمعرات مارچ

Waba Main Marne Ka Dukh
خوش وخرم ایڈم عمر کے اس حصے میں تھا جہاں انسان زندہ رہنے کی بجائے مرنا پسند کرتا ہے۔ اسی لئے جب شہر میں جان لیوا وبا پھیلی اور لوگ مرنے کے معاملے میں بھی ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے لگے توایڈم کو کسی قسم کی پریشانی لاحق نہ ہوئی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ اس سال وبا سے نہ مرا، تب بھی اگلے دو تین سال میں کسی نہ کسی بہانے مر ہی جائے گا۔

اس نے عمر کا بڑا حصہ ترقی یافتہ ملک کے اس بڑے شہر میں گزار لیا تھااور یہاں کی رنگینیوں اور سنگینیوں سے بخوبی واقف تھا۔ اس کے بچپن کے اکثر دوست اب تک یا تو مر چکے تھے یا پھر اس کے آبائی ملک کے اسی چھوٹے سے گاؤں میں وان کی بڑی چارپائی پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے جہاں ایڈم نے اللہ دتہ کے نام سے اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا اور پھر کسی طرح اس ترقی یافتہ ملک میں آ کر ایڈم بن گیا۔

(جاری ہے)

ایک دن اس کے بیٹے نے اسے بتایا کہ شہر میں ایک جان لیوا وائرس پھیل چکا ہے جس کی وجہ سے لوگ دھڑا دھڑ مر رہے ہیں۔ اس شہر میں شاید ایڈم ہی وہ واحد انسان تھا جس نے یہ خبر سن کرشکر ادا کیا تھاکہ وہ اس وبا زدہ شہر کا باسی ہے۔ اس نے ایک لمحے کے لئے سوچا تھا کہ اگر وہ آج بھی اپنے پسماندہ ملک کے گاؤں میں ہوتا تو شاید عمر کے اس حصہ تک پہنچنے سے پہلے ہی کسی نہ کسی بیماری کی وجہ سے مر چکا ہوتا۔

اس کے نزدیک تازہ ہوا اور دیسی مٹی والے اس گاؤں میں کئی سال قبل مرنے سے بہتر تھا کہ وہ ترقی یافتہ ملک کے اس وبا زدہ شہر میں زندہ ہے۔ ایڈم جب تک اللہ دتہ تھا تب تک وہ عبادتیں نہ کرنے کے باوجود خود کو مسلمان ہی سمجھتا تھا لیکن ایڈم بننے کے بعدہمیشہ اس کا مذہب وہی رہا جو اس کے باس یا کلائینٹ کا ہوتا تھا۔ بنیادی طور پر وہ ملحد ہو چکا تھا۔

اس کا کوئی مذہب نہیں تھا لیکن وہ اس بات پر اصرار کرتا تھا کہ اس نے انسانیت کا مذہب اپنا لیا ہے۔ وہ باقاعدگی سے کچھ لوگوں کی مدد کرتا تھا اور مشکل لمحات میں ان کے کام آتا تھا۔ اس نے نہ تو نمازیں ادا کیں اور نہ ہی کسی چرچ میں جا کر صلیب کا نشان بنایا لیکن وہ ہر جمعہ اور اتوار کو باقاعدگی سے کسی مسجد یا چرچ کے فنڈز میں کچھ پیسے جمع کروا دیتا تھا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ امام مسجد اور پادری دونوں ہی اس کی شرافت، پارسائی اور نیک چالن چلن کے چلتے پھرتے اشتہار بن گئے تھے ۔

اس نے ایک طویل عرصہ اپنے باس اور کلائنٹس کو ہی اپنا سب کچھ سمجھا اور ان کا مذہب اختیار کرتا رہا، ایک بار ایسا بھی ہوا کہ دو مختلف میٹنگز میں اس نے یکے بعد دیگر نماز بھی ادا کی اور بھگوان کے سامنے ماتھا بھی ٹیکا۔ اس کے نزدیک خدا وہی تھا جو اس کے بنک اکاؤنٹ میں پیسے بھیجنے کا سبب بنتا تھا۔ اس نے پہلے ملازمت کی اور پھر اپنا کاروبار شروع کر لیا۔

اب وہ طویل عرصہ سے ذمہ داریوں سے ہاتھ اٹھا چکا تھا۔ کاروبار اس کے بیٹے اور ایک ٹرسٹ کے سپرد تھا۔ وہ ریٹائرڈ زندگی کا لطف لے رہا تھا۔ ایڈم نے بھرپور اور طویل زندگی گزاری تھی اس لئے وہ اس شہر کا واحد انسان تھا جو وباکے موسم میں بھی مطمئن تھا۔
شہر میں قاتل وبا پھیلی تو ہر سو سناٹا چھا گیا۔ لوگ مسلسل ہاتھ دھوتے رہتے لیکن اس کے باوجود خوف ان کے چہرے سے عیاں ہوتا تھا۔

ہر شخص کسی نہ کسی اپنے کو مرتا دیکھ چکا تھا۔ سائنس دان اور ڈاکٹرز اس اجنبی وبا سے چھٹکارہ پانے کے لئے مسلسل تجربات کر رہے تھے لیکن ابھی تک اس کی اینٹی ڈوز تیار نہ ہو سکی تھی۔ ایڈم نے زندگی بھر جذباتی رشتے قائم نہ کئے تھے۔ اس کا ہر تعلق بہت ناپ تول کر بنتا تھا لیکن اسے اس موذی وبا سے پہلی بار خوف تب محسوس ہوا جب اس کے دو میں سے ایک بیٹا وبا کا شکار ہو کر مر گیا۔

ایڈم نے سوچا اگر اس کا دوسرا بیٹا بھی مر گیا تو وبا کے خاتمے کے بعد اسے ایک بار پھر اپنے کاروبار کے معاملات کو دیکھنا ہوں گے۔ وہ عمر کے اس حصہ میں ایسی کسی ایکٹیویٹی کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتا تھا۔ یہ درست تھا کہ طویل عمر نے اس کے دل سے موت کا خوف دور کر دیا تھا۔ وہ پہلے ہی اپنے اعضا کسی ضرورت مند مریضوں کو عطیہ کرنے کی وصیت لکھوا چکا تھا لیکن اس کے باوجود وہ چاہتا تھا کہ زندگی کے آخری دن وہ پورے ہوش و حواس میں ہو۔

وہ اس روز دنیا بنانے والے رب سے اپنے پچھلے سارے گناہوں کی معافی مانگ کر شراب کی پوری بوتل پینا چاہتا تھا تاکہ مرتے وقت اپنی دنیا میں مگن رہے اور کسی دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث نہ بنے۔
ایڈم کی تشویش اپنی جگہ لیکن اس کا دوسرا بیٹا ابھی تک وبا سے محفوظ تھا۔ وہ بار بار ہاتھ دھونے کے علاوہ سینیٹائزر کا بھرپور استعمال کرتا تھا۔

ایڈم نے اسے پچھلے دو ہفتوں سے فیس ماسک اور گلوز کے بنا نہیں دیکھا تھا۔ یہ چیزیں ظاہر کرتی تھیں کہ وہ اپنے بھائی کی بجائے ایڈم کی پیروی کرنا چاہتا ہے اور اس کی طرح دیر تک زندہ رہے گا۔ ایڈم اپنی کار میں روز شہر کی ویران سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا اور شہر کی ویرانی پر ہنستا رہتا۔ اسے یقین تھا کہ وہ کم از کم وبا کی وجہ سے نہیں مرے گا کیونکہ عمر کے اس حصہ میں اس کی موت کے لئے وبا کو بہانہ بنانا انتہائی نامعقول بات ہوتی۔

وہ کسی بھی وقت کسی بھی وجہ کے بغیر مر سکتا تھا جس کے لئے اتنا جواز کافی تھا کہ وہ بڑھاپے کا شکار ہو گیا تھا۔ جوں جوں شہر میں وبا پھیلتی گئی توں توں ایڈم کے ارد گرد بسنے والے لوگ خدا کے قریب ہوتے چلے گئے۔ کوئی مسلمان گھنٹوں سجدے میں پڑا رہتا تو کوئی صلیب کے سامنے کھڑا اپنے گناہوں کی معافی مانگتا رہا۔ ہندو گھر سے مسلسل گھنٹی بجنے کی آوازیں آتی رہتیں۔

ایڈم ان دنوں سوچنے لگا تھا کہ خدا کے وجود پر سوال اپنی جگہ لیکن خدا کا تصور کم از کم اتنا مضبوط ضرور ہے کہ ان سب کو اس کے نام پر سہارا ملنے لگا ہے۔ ایڈم کے پاس ایسا کوئی جذباتی سہارا نہیں تھا اس لئے اس نے ایک بار پھر اپنے آبائی مذہب کا انتخاب کر لیا ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ لا تعداد لوگوں کو مرتا دیکھ کر اسیلگنے لگا تھا کہ جلد ہی اس کا بھی نمبر بھی لگ جائے گا۔

اسے وبا کے دنوں میں سبھی کے ساتھ مرنا پسند نہ تھا۔وہ تو وبا سے ڈرنے والوں کا مذاق اڑایا کرتا تھا لیکن اب حالات تیزی سے بدل رہے تھے۔ جس وبا نے پورا شہر اجاڑ دیا تھا ایک رات وہ ایڈم کے ساتھ بیٹھی شراب پی رہی تھی۔وہ رات بھر اس سے لپٹتا رہا۔ کم از کم ایڈم کو اگلی صبح یہی لگا تھا کہ اس نے رات اسی قاتل وبا کے ساتھ بسر کی ہے جس سے سب ڈرتے ہیں۔

اس نے اپنا ٹیسٹ کروایا تو معلوم ہوا کہ اس کا خیال درست تھا۔ ایڈم اس قاتل وبا کا شکار ہو چکا تھا۔ شہر میں اب تک ایک ہزار سے زائد لوگ اس وبا کی وجہ سے مر چکے تھے۔ بیماری کی تشخیص ہوتے ہی وہ ہسپتال داخل ہو گیا لیکن ڈاکٹروں نے اس کو مزید رکھنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیماری کی دوائی ابھی تک نہیں بنی اس لئے ایڈم کو کم از کم 14 دن کے لئے اپنے گھر میں قید تنہائی کاٹنی پڑے گی۔


وبائی مرض کی تصدیق ہونے کے بعد ایڈم گھر آ گیا لیکن موت کا خوف خونی رشتوں پر بھاری نکلا۔ اس کے بیٹے نے اس کے کمرے میں جھانکنا چھوڑ دیا۔ وہ مکمل طور پر ملازموں کے رحم و کرم پر تھا جو ناک پر کپڑا رکھ کر کمرے میں داخل ہوتے اور فوری طور پر کام نمٹا کر واپس چلے جاتے تھے ۔ ڈاکٹرز اس کے علاج کے لئے تیار نہ تھے کیونکہ اس طرح یہ جان لیوا بیماری ان کو بھی لگ سکتی ہے۔

وہ تنہا اپنے کمرے کی چھت کی جانب تکتا رہتا اور سوچتا کہ وبا کے دنوں میں مرنا جس قدر اذیت ناک عمل ہے۔ اس کے پاس کوئی ملازم لمحہ بھر کے لئے ٹھہرنے پر آمادہ نہ تھا۔ ٹی وی اس نے خود بند کر دیا تھا کیونکہ ان دنوں ہر چینل پر اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد بتائی جاتی تھی۔ ڈاکٹروں نے اس کے اخبارات بھی بند کروا دیئے تھے کیونکہ اخبار کے کاغذ سے بھی وائرس پھیلنے کا خطرہ تھا۔

کھانا صرف پرہیزی بنتا تھا جو کہ کمرے کے باہر رکھ دیا جاتا تھا۔ ایڈم موت کے خون آشام چنگل میں پھنس چکا تھا۔ اسے لگنے لگا تھا کہ یہ سب اس کے خلاف کوئی بھیانک سازش ہے۔ وہ یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھا کہ جس ملک کی ترقی دیکھ کر وہ اللہ دتہ سے ایڈم ہوا اس ملک میں اسے ایک ایسی بیماری لاحق ہو گئی ہے جس کا کوئی علاج ابھی تک نہیں ہے۔ اسے لگتا تھا کہ اس کا بیٹا ساری جائیداد ہتھیانے کے لئے اس کی موت کی پلاننگ رچا رہا ہے اور معاملہ ایسے طے پایا ہے کہ اس پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

ایک روز ملازم نے کمرے میں جھانکا تو اسے ایڈم کی اکڑی ہوئی لاش نظر آئی۔ اسے وبا سے زیادہ اس دکھ نے مار دیا تھا کہ اس کی عمر بھر کا حاصل یہ ملک بھی وبا کے علاج کا اہل نہیں ہے۔ ایڈم کی موت کا علم ہوتے ہی فوری طور پر ہسپتال کا عملہ منگوایا گیا جو اس کی لاش کو ایمبولینس میں رکھ کر ساتھ لے گئی۔
لوگ ہسپتال میں مرنے کے بعد گھر لائے جاتے ہیں۔

ایڈم گھر کے قرنطینہ میں مرنے کے بعد ہسپتال لیجایا گیا تھا۔ اس کی لاش سے لپٹ کر رونے کے لئے کوئی تیار نہ تھا۔ ہر شخص اس وبائی وائرس سے بچنا چاہتا تھا جو ایڈم کی موت کے بعد بھی اس کے جسم سے لپٹا ہوا تھا۔ا س کے بیٹے نے تدفین کے اخراجات ہسپتال کے بنک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر کے انہیں ہی ساری ذمہداری سونپ دی تھی۔ ایڈم کو کسی نے غسل نہیں دیا۔

اسے مومی شیٹ میں لپیٹ کر ایک تابوت میں بند کر دیا گیا تھا۔ اسکا تابوت جس سٹریچر پر رکھا گیا تھا اس کو رسی سے باندھ کر کھینچا گیا تاکہ وائرس زدہ مردے اور زندہ انسانوں کے درمیان فاصلہ برقرار رہے۔ اس کی وصیت کاغذ کے ایک ٹکرے سے زیادہ اہمیت نہ رکھتی تھی کیونکہ وبا سے مرنے والے کے اعضا کسی کو نہیں لگائے جا سکتے تھے، میڈیکل کالج کے طلبہ اس کی باڈی پر تجربات کے لئے تیار نہ تھے۔

ایڈم کو بھرپور زندگی اورمشکل موت ملی تھی۔ نہ توکسی رشتہ دار نے اس کا آخری دیدار کیا اور نہ ہی کسی نے اس کی آخری رسومات ادا کیں۔ شہر سے باہر ایک بڑے سے گڑھے میں دیگر کئی لاشوں کی طرح ایڈم کی لاش کو بھی پھینک دیا گیا اور پھر اس گڑھے میں تیزاب ملا کیمیکل ڈال دیا گیا تاکہ وبائی جراثیم تلف ہو جائیں۔
ایڈم نے اس شہر کو اپنی جوانی دی تھی لیکن یہ بڑا شہر اسے ایک قبر تک نہ دے سکا۔

اسکا جنازہ نہیں اٹھایا گیا، اس کی کوئی قبر نہ تھی۔ وہ ایک ایسے گڑھے میں موجود تیزاب میں تحلیل ہو رہا تھا جہاں اس جیسی کئی لاشیں گل سڑ رہی تھیں۔ ایڈم وبا میں نہیں مرنا چاہتا تھا لیکن وہ اسی شہر میں رہا۔ اسے اس شہر کی جدید ٹیکنالوجی اور ریسرچ پر مان تھا لیکن آخری لمحات میں وہ اس کے کسی کام نہ آ سکی۔ اس کے بیٹے نے ان ٹیکنالوجیز کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

جس وقت ایڈم کو گڑھے میں پھینکا جا رہا تھا اس وقت بھی اس کا بیٹا بہت دور بیٹھا اپنے سامنے سکرین پر یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس نے اسی سکرین پر اپنے باپ کی لاش کو تیزاب میں تحلیل ہوتے دیکھا تھا۔ وہ اس بڑے شہر کو چھوڑ کر ایڈم کے آبائی گاؤں چلا گیا کیونکہ ایڈم کی طرح وہ بھی وبا سے نہیں مرنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ چھوٹا سا ملک اس قابل نہیں کہ اسے بڑھتی ہوئی وبا کے اثرات سے بچا سکے لیکن وہ یہ ضرور جان گیا تھا کہ اگر وہ یہاں وبا کا شکار ہو کر مر،ا تب بھی اس کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہو گا جو وہ اپنے باپ کے ساتھ کر چکا ہے۔

وہ جان گیا تھا کہ اس پسماندہ ملک کے چھوٹے سے گاؤں میں بھی لوگ وبا سے مرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ میت کے ساتھ قبر تک جاتے تھے۔ایڈم کا بیٹا مرنے سے نہیں ڈرتا تھا۔ اس کا سارا خاندان لقمہ اجل بن چکا تھا لیکن وہ وبا کے دنوں میں مرنے کی اذیت دیکھ چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ایڈم وبا سے زیادوبا کے دنوں میں مرنے کی اذیت کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوا تھا۔وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بھانپ گیا تھا کہ وبا میں مرنے والوں کے لئے موت کے بعد روا رکھے گئے ممکنہ رویوں کی اذیت مرنے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے.
تاریخ اشاعت: 2020-03-26

Your Thoughts and Comments