Dulari

دُلاری

جمعرات نومبر

Dulari
اعتبار ساجد:
بھارت میں شیاسینا بحرنگ دل اور مہاسبھائی کارندوں کی کارستانیاں سب پرھیاں ہوچکی ہیں۔ اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے وجود کاکھلادشمن ہے بلکہ وہ مسلمانوں کابھی بدترین دشمن ہے اور خود بھارت میں بسنے والی دیگر قوموں سے تعلق رکھنے والے افراد کابھی دشمن ہے۔وہ صرف اورصرف ہندوجاتی کی برتری کاخواہاں ہے۔

اس کے نیتا صاف کہتے ہیں کہ جوبھارت میں رہنا چاہتا ہے اسے ہندوازم کوماننا پڑے گا۔جو نہیں مانے گااسے زندہ نہیں رہنے دیا جائے گا۔مسلمانوں سے ہندوؤں کی نفرت کوئی نئی بات نہیں یہ صدیوں پرانا قصہ ہے۔وہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں جوبھارت کی وکالت کرتے ہوئے اس ایک سیکولر اسٹیٹ یعنی لادینی ریاست قرار دیتے ہیں وہ لوگ بدترین جھوٹے ہیں جوبھارت کولبرل یعنی آزاد ملک تصور کرتے ہیں اور اس کی حمایت میں لکھتے اور بولتے ہیں۔

(جاری ہے)

بھارت قطعاََ مسلمان دوست نہیں اسلام دشمن ملک ہے۔ قائداعظم نے بھارت کااصلی چہرہ دیکھ کرہی کانگریس چھوڑی تھی انہوں نے پاکستان بنانے کیلئے دوقومی نظریے کی ضرورت بہت پہلے محسوس کرلی تھی۔قرار داد مقاصد کے ہرلفظ سے اس مودی راج میں آج کھلے بندوں دندناتے پھر رہے ہیں اور پاکستان سے ہرقسم کاتعلق واسطہ توڑنا چاہتے ہیں تو اس کی وجہ اُس جن کابوتل سے برآمد ہونا ہے جونریندرامودی نے برسراقتدار آتے ہیں تعصب کی بندبوتل کاگ کھول کرآزاد کردیا تھا۔

یہ مسلمانوں سے صدیوں کی نفرت کااظہار ہے۔مسلمان سلاطین ہند کے سامنے بڑے بڑے ہندومہاشے کی کھکھی بندھی رہتی تھی۔درباروں میں یہ ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوتے تھے شہزادوں اور نوابوں کی پالکیوں کے کہارہوتے تھے۔پگڑیاں باندھ کربھی درباروں اور رجواڑروں میں ذلیل وخوار ہوتے تھے۔کسی کی جرات نہیں تھی کہ کسی مسلم سلطان کے سامنے تن کر کھڑا ہوسکے۔

کسی پنڈت کی یہ ہمت نہیں تھی کہ نوابین کی اجازت اور حکم کے بغیر زبان ہلاسکے۔حیدرعلی اور سلطان ٹیپو کے زمانے میں بھی یہ بیل گاڑیاں چلاتے تھے۔جلال الدین اکبرنے آئین اکبری کے ذریعے سے ذراسی ڈھیل کیادی کہ ہندو کے اندر کے کالے ناگ پھنکارنے لگے۔اجودھاہائی سے شادی کے بندھن نے شہنشاہ ہند جلال الدین اکبر کوسورج دیوتا کی پرستش کے راستے پرڈال دیا۔

ہندو مسلم کلچر نے ایسی کھچڑی پکائی کہ نہ دال دال رہی نہ چاول چاول رہا۔سادہ دل مسلمان بادشاہ ہندرانی کے دام فریب میں آگیا۔ نورالدین جہانگیر کی پیدائش اور بعدازاں میخواری اور نارکلی کی فرضی رومانی کہانی نے برصغیر ہندمیں مسلمان کاحلیہ بگاڑ کررکھ دیا۔ اودھ کے نوابین کی بدقماشیوں نے مزید رسوائی کے سامان پیداکئے۔واجد علی شاہ کاامام باڑہ تولوگوں کوبھول گیا محلاقی عیاشیاں‘ بدمعاشیاں اور فضول خرچیاں دیا رہیں۔

بہادر شاہ ظفر کی ادب نوازی اور علم دوستی کوتولوگ بھول گئے ان کے مینابازار پھول والوں کی سیر اصراف بیجااور غلط بخشیوں کویاد رکھا۔جس روز پہلے جامع مسجددلی کی سیڑھیوں پربھیک مانگی تھی اسی لمحے ہندوبننے کی مہا سبھائی ذہنیت جاگ اٹھی تھی۔اسے اکھنڈ بھارت کاخواب پورا ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔مال وزر کے تمام ذرائع اور وسائل پر قابض ہندوبنیاجانتا تھاکہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد ہندگی سرزمین پرمسلمان زیادہ بدحال اور بے بس ہوں گئے۔

جنگ آزادی میں اُس نے مسلمانوں کاساتھ نہیں دیا تھا بلکہ آزادی کے سپاہیوں کی مخبری کی تھی۔آج بھی ولی کے کوچہ وبازار گواہ ہیں کہ یہاں قدم قدم پر مسلمانوں کاخون ناحق بہایاگیا۔انہیں ہرطرح سے ستایا، دھمکایااور رلایا گیامگر ہندوؤں کی غالب اکثریت محفوظ ومامون رہی۔ اس نے ہمیشہ اپنے آپ کوعیاری اورمکاری کے ذریعے بچائے رکھا۔اثاثے بچائے جانیں بچائیں‘گھر بار کھیت بچائے کھلیان بچائے۔

اس سے زیادہ کوئی کیا بچاسکتاہے۔برصغیر کے مسلمانوں پر جوکچھ بیتی وہ سب سامنے ہے اور آج جو کچھ بیت رہی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔پاک وہند کی تاریخ کھنگالنے بہت سی دستاویزات فلموں اور اخبارات وجرائد سے قیام پاکستان کاجونقشہ میرے سامنے آیا اسے میں نے ناول کی شکل میں لکھا۔دلاری نام کی لڑکی ہندومت کی پروروہ ہونے کے باوجود خودبخود کسی طرح اسلام کی طرف مائل ہوتی اورتقسیم ہندکے بعد اس نے پاکستان کوہندوستان (اپنے پیدائشی وطن) پر کیوں ترجیح دی اس کے منطقی اسباب میں نے کرداروں کی زبان بیان کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی درحقیقت ہندوذہنیت کیاہے اور قائداعظم نے مسلمانوں کیلئے علیحدہ مملکت پرکیوں زور دیاتھا۔

ہر چند کہ اس ناول کوآثاروافکار کادمی کراچی نے متعددناولوں کے مقابلے میں اول قرار ددے کرمجھے اعزاز وانعام سے بھی نوازاجن کیلئے میں منتظمین اکادمی کاممنون ہوں لیکن زیادہ طمانیت یہ سوچ کرہوتی ہے کہ میرااندیشہ اور خیال شیوسینا کے بے لگام گھوڑوں کے کرتوت اور پس منظر کوظاہر کرنے میں کامیاب رہا۔کل بھارت سے دوستی کی باتیں ہورہی تھیں آج اس نے ہمارے کھلاڑیوں ہمارے گلوکاروں اور ہمارے سیاست دانوں کو اتنادل داشتہ اور مایوس کردیا ہے کہ خودہندسرکارکی کشمیر لچسلیٹو کونسل کے مسلمان ممبرپارلیمنٹ اپنے منہ پرسیاسی پھینکنے کے واقعے کے بعد یہ کہنے پر مجبورہوگئے کہ قائداعظم کافیصلہ بابکل درست تھا۔


آج خود بھارت کے بعض دانشور اور لکھاری بھی اپنے سرکاری انعامات اور اعزازات یہ کہہ کرلوٹارہے ہیں کہ وہ بی جے پی کی انسانیت سوزپالیسیوں اور مسلم کش ذہنیت کے خلاف باقاعدہ مزاحمتی تحریکیں چلائیں گے۔گلزار جیسے شاعر وادیب اور فلم میکر بھی بادیدہٴ نم یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ گاندھی کے قاتل کامجسمہ بنانے والے ہاتھ بھی کبھی پیداہوں گے یہ توکبھی سان وگمان میں بھی نہیں تھا‘کاش مودی کوعقل آجائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-05

Your Thoughts and Comments