Ehsaas E Gham

احساسِ غم

ہفتہ مئی

Ehsaas E Gham
شفیق الرحمن
مسز میکالے ناشتے پر ہومر کا انتظار کر رہی تھی۔وہ گرم گرم دلیا پیالے میں ڈال ہی رہی تھی کہ ہومر آگیا۔
اس نے بیٹے کی جھلک ہی سی دیکھی لیکن بھانپ گئی کہ رات کے خواب کا اثر اب تک باقی ہے۔ہومر کو یاد بھی نہ تھا کہ وہ خواب میں رویا تھا۔ لیکن وہ کچھ دہشت زدہ سا تھا۔جیسے کسی صدمے کے بعد انسان دیر تک سہما رہتا ہے۔


”آج تو بہت دیر ہو گئی‘ساڑھے نو بج چکے تھے۔پتہ نہیں الارم کیوں نہیں بجا!“ہومر نے کہا۔
”تم محنت بہت کرتے ہو‘آرام بھی کیا کرو۔“
”جی نہیں زیادہ محنت تو نہیں کرتا کل اتوار ہے نا؟“
اس نے دعا پڑھی جو آج بے حد طویل معلوم ہوئی۔دلیا کھانے کیلئے چمچہ اٹھایا۔پھر کچھ سوچ کر رکھ دیا۔

(جاری ہے)


”امی۔“
”ہاں ہومر۔


”رات کو میں آپ سے باتیں کیے بغیر ہی سو گیا۔آپ نے کہا تھا کہ بعض اوقات باتیں کرنے کو جی نہیں چاہتا۔گھر آتے وقت میرا دل بھر آیا۔اور آنسو آگئے۔آپ تو جانتی ہی ہیں کہ بچپن میں بھی میں کبھی نہیں رویا۔روتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے۔یولی سیز بچہ ہے مگر وہ بھی نہیں روتا۔رونے کا فائدہ ہی کیا ہے۔لیکن کل رات نہ جانے کیا ہوا‘میرے آنسو نہ تھمتے تھے۔

گھر آنے کی بجائے میں سڑکوں پر پھرتا رہا۔سکول کی طرف بھی گیا۔اس مکان کے قریب سے بھی گزرا جہاں شام کو پارٹی ہو رہی تھی اور میں تار دے کر آیا تھا۔امی آپ سمجھ گئی ہوں گی کہ تار کس قسم کا تھا۔دیر تک یونہی آوارہ پھرتا رہا تھا۔یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس قصبے کے گلی کوچوں‘عمارتوں اور باشندوں کو پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں۔مجھے ان پر بہت ترس آیا‘بڑی دعائیں مانگیں کہ انہیں کوئی ضرر نہ پہنچے۔

میرا خیال تھا کہ بڑا ہو کر کوئی نہیں روتا۔لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ انسان روتا ہی تب ہے جب اسے سمجھ آجائے۔“
اس کی آواز بھرا گئی۔”امی جب سمجھ آتی ہے تو جی بہت بُرا ہوتا ہے۔چاروں طرف اتنی برائیاں کیوں ہیں؟اتنا حزن کیوں ہے؟“
”تم خود جان لو گے بیٹے۔ہر شخص اپنا راستہ خود تلاش کرتا ہے۔غم خواہ حسین ہو‘خواہ کریہہ۔محسوس کرنے والے کی روح کا عکس ہوتا ہے۔

خوشنما‘مسرور یا مغموم و پُردرد چیزیں۔فی الحقیقت کوئی وجود نہیں رکھتیں۔بلکہ یہ انسان کے محسوسات کا جزو ہیں‘اور ہر انسان بذات خود پوری کائنات ہے۔اس کے گرد دنیا گھومتی ہے۔وہ چاہے تو محبت دنیا کو محیط کر لے۔وہ چاہے تو نفرت اور بغض و عناد کی بارش ہونے لگے۔ خود انسان ہی دنیا میں تغیر لاتا ہے۔“
مسز میکالے گھر کا کام کر رہی تھی۔

کبھی کبھی وہ دوسرے کمرے میں بھی چلی جاتی‘لیکن ماں بیٹے کی گفتگو جاری رہی۔
”پتہ نہیں میں کیوں رویا۔ایسے خیالات کبھی میرے دل میں نہیں آئے اور جب رو چکا تو اتنی دیر تک خاموش کیوں رہا۔کسی سے بات نہیں کی۔“
”تمہیں ترس آگیا۔اور تم رو دیئے۔یہ ترس کسی خاص شخص کے رنج و محن پر نہیں آیا۔یہ سب کے لئے تھا۔کائنات کی ہر شے کے لئے۔

انسان کے دل میں ترس نہ ہو تو وہ انسان نہیں۔اسی جذبے سے وہ مرہم پیدا ہوتا ہے جس سے زندگی کے زخم مندمل ہوتے ہیں۔انسان تبھی روتا ہے جب اسے کائنات کے دکھ درد کا احساس ہو۔اگر یہ احساس معدوم ہو تو پھر وہ خاک کے ذرے سے بھی زیادہ حقیر ہے۔خاک سے تو کونپلیں پھوٹتی ہیں‘پھول کھلتے ہیں لیکن بے ترس انسان کی روح بالکل بنجر ہے۔جہاں روئیدگی مفقود ہے۔

جہاں صرف غرور و اَنا پرورش پاتے ہیں جو تباہی کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔“
ماں ناشتے کے انتظام میں مصروف تھی۔ہومر کے سامنے چیزیں رکھ رہی تھی۔
”بیٹے!یہ احساس غم ہمیشہ رہے گا۔لیکن کبھی مایوس مت ہونا۔نیک نفس دوسروں کا غم بٹاتے ہیں۔برداشت کی عادت ڈالتے ہیں۔لیکن ایک احمق غم کو غم تبھی سمجھتا ہے اگر وہ اس کی ذات سے متعلق ہو۔بد فطرت انسان ہر جگہ غم تقسیم کرتا ہے۔

دوسروں کو غمگین دیکھ کر تسکین محسوس کرتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو کوئی بھی قصوروار نہیں۔اچھے‘بُرے‘کمینے‘سب بے قصور ہیں‘کیوں کہ یہ خود یہاں نہیں آئے۔بُرے کو اپنی برائیوں کا احساس نہیں‘اس لئے وہ معصوم ہے۔اسے ہمیشہ معاف کر دینا چاہیے۔اس کے ساتھ شفقت سے پیش آنا چاہیے کیونکہ وہ اسی کائنات کا ایک حصہ ہے۔انسانی فطرت میں اچھائی‘برائی‘نیکی بدی اس طرح ملی جلی ہیں کہ ایک کو دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ہم سب ایک دوسرے کے کردار و افعال کے ذمہ دار ہی۔کسان کی دعا میری دعا ہے‘قاتل کا جرم میرا جرم ہے۔بیٹے تم اس لئے روئے کہ تم ان باتوں کو سمجھنے لگے ہو۔“
ہومر نے دلیے میں دودھ ڈالا اور کھانے لگا۔
تاریخ اشاعت: 2021-05-08

Your Thoughts and Comments