Khoobani Ka Darakhat

خوبانی کا درخت

بدھ مئی

Khoobani Ka Darakhat
شفیق الرحمن
یولی سیز علی الصبح اٹھا۔نئی نئی نکلی ہوئی دھوپ میں اُچھلتا کودتا پڑوس کے احاطے میں چلا گیا‘جہاں گائے بندھی ہوئی تھی۔وہ گائے کو دیکھتا رہا۔ حتیٰ کہ گائے کا مالک بالٹی اور سٹول لے کر آگیا اور دودھ دوہنے لگا۔یولی سیز نے بوڑھے کے پیچھے ہو کر جھانکنے کی کوشش کی۔لیکن کچھ نظر نہیں آیا‘چنانچہ وہ بالکل گائے کے نیچے جا گھسا۔

بوڑھے نے اسے دیکھ لیا‘لیکن چپ رہا۔
گائے نے پیچھے مڑ کر بچے کو دیکھا۔دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں۔گائے کی آنکھوں سے سرد مہری ٹپکتی تھی۔جیسے اسے یہ بے تکلفی اچھی نہیں لگی۔یولی سیز وہاں سے ہٹ کر دور جا کھڑا ہوا۔اس مرتبہ گائے نے اس طرح دیکھا جیسے کسی دوست کو دیکھ رہی ہو۔
گھر لوٹتے ہوئے وہ ایک آدمی کے پاس سے گزرا جو احاطے کے گرد جنگلا لگا رہا تھا۔

(جاری ہے)

یہ شخص اعصابی‘غصیل اور بے صبرا تھا۔بار بار غلطیاں کرتا اور اپنے آپ کو کوستا۔بچہ کچھ دیر اس کی حرکتوں کو دیکھتا رہا‘پھر چل دیا۔
ہفتے کا دن تھا۔سکول کے بچے خوش تھے۔سامنے کے مکان سے آٹھ نو برس کا ایک لڑکا نکلا۔یولی سیز نے اسے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔لڑکے نے جواب دیا۔یہ لائینل کیبٹ تھا جو محلے بھر میں احمق مشہور تھا۔لیکن بڑا خوش مزاج اور پُرخلوص بچہ تھا۔


پھر آگسٹس گاٹلیب باہر نکل آیا۔پہلے ہومر محلے کے لڑکوں کا سرغنہ تھا۔اس کے ملازم ہو جانے کے بعد یہ عہدہ آگی نے سنبھال لیا۔
آگی اپنے چیلوں کی تلاش میں نکلا تھا۔اس کے لئے یولی سیز اور لائینل دونوں بیکار تھے۔ایک بچہ تھا دوسرا پاگل۔
اس نے منہ میں دو انگلیاں ڈال کر سیٹی بجائی۔تیز سیٹی سے گلی گونج اٹھی۔ایک ایک کرکے کھڑکیاں کھلیں اور جواباً سیٹیاں بجنے لگیں۔

لڑکے گھروں سے نکلے اور ذرا سی دیر میں جتھا اکٹھا ہو گیا۔
”آج کہاں کی تیاری ہے؟“ایک لڑکے نے آگی سے پوچھا۔
”دیکھتے ہیں کہ ہینڈرسن کی خوبانیاں پک گئی ہیں یا نہیں!“
”میں بھی چلوں؟“لائینل نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
”اچھا آجاؤ۔اگر خوبانیاں ہوئیں تو چراؤ گے؟“
”چوری کرنا گناہ ہے۔“لائینل بولا۔
”پھلوں کی چوری گناہ نہیں۔

“آگی نے فیصلہ کر دیا۔”اور یولی سیز تم گھر چلے جاؤ۔چھوٹے بچوں کو ایسی خطرناک مہم پر نہیں جانا چاہیے۔“
یولی سیز تین قدم پیچھے ہٹ گیا۔اسے جتھے کے قوانین معلوم تھے۔اس کی عمر کم تھی۔اس لئے آگی کا حکم اسے برا نہیں لگا۔اس نے سوچا کہ اگر شریک نہ ہو سکے‘تو دور ہی سے تماشا دیکھ لیں گے۔
یہ گروہ سڑکیں اور سیدھی گلیاں چھوڑ کر دشوار اور پیچیدہ راستوں سے گزرتا‘دیواریں کودتا ہینڈرسن کے مکان کی طرف روانہ ہوا۔

یولی سیز پیچھے آرہا تھا۔
”دنیا کا کوئی پھل پکی ہوئی خوبانی کا مقابلہ نہیں کر سکتا!“آگی بولا۔
”لیکن خوبانیاں مارچ میں کہاں پکتی ہیں؟“
”یہ اپریل کا مہینہ ہے۔دھوپ تیز پڑے تو کچھ خوبانیاں ضرور پک جاتی ہیں۔“آگی نے جواب دیا۔
”کافی دنوں سے تو بارش ہو رہی ہے۔“
”خوبانیوں میں رس کہاں سے آجاتا ہے؟“کسی نے سوال کیا۔


”بارش کی نمی سے۔بارش بھی اتنی ضروری ہے جتنی کہ دھوپ۔“آگی نے بتایا۔
”تو دن میں دھوپ اور رات کو بارش۔تاکہ تمازت بھی پہنچ جائے اور نمی بھی۔میرا دل گواہی دیتا ہے کہ خوبانیاں تیار ہیں۔“
”مجھے بھی یقین سا ہو چلا ہے۔“ایک طرف سے آواز آئی۔
”لیکن پچھلے سال تو کہیں جون میں جا کر پکی تھیں۔ابھی تو اپریل ہی شروع ہوا ہے۔


”وہ پچھلا سال تھا‘یہ نیال سال ہے۔“آگی بولا۔
”دور خوبانیوں کا درخت نظر آرہا تھا۔سر سبز پھلوں سے لدا پھندا درخت پچھلے دس برس سے محلے کے لڑکوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ہینڈرسن کی عادت تھی کہ پہلے تو چھپا رہتا پھر یک لخت باہر نکل کر لڑکوں کو بھگا دیتا۔اس نے کھڑکی سے جھانگ کر دیکھا اور مسکرانے لگا۔
”سردیاں ختم نہیں ہوئیں اور چھوکرے خوبانیاں توڑنے آپہنچے۔

آج تو ایک نیا شکاری بھی آیا ہے۔کتنا چھوٹا سا ہے۔مشکل سے چار برس کا ہو گا۔“وہ ہنسنے لگا۔
”چرا لو بھئی لڑکوں بوڑھے ہینڈرسن کا پھل!اب مارچ میں تمہارے لئے پکی ہوئی خوبانیاں کہاں سے لاؤں۔“
آگی حملے کی تیاری میں مشغول تھا اور لڑکوں کو ہدایت دے رہا تھا۔مختلف سمتوں سے لڑکے دبے پاؤں درخت کی طرف بڑھنے لگے۔ خوبانیاں کچی ہوں یا پکی ہینڈرسن کے درخت پر لگی ہوئی ہیں‘اور جو خوبانیاں درخت پر ہوں ان کا توڑنا جائز ہے۔


لیکن وہ ڈرے ہوئے بھی تھے۔گناہ کا خیال اور پکڑے جانے کا خوف۔
”معلوم تو یہی ہوتا ہے بوڑھا گھر میں نہیں۔“ایک لڑکا بولا۔
”وہ گھر ہی میں ہو گا۔بھلا ہم آئیں اور وہ یہاں نہ ہو۔وہ ہمیں دھوکے سے پکڑنا چاہتا ہے۔سب خبردار رہو۔اور یولی سیز تم فوراً گھر چلے جاؤ۔“
بچے نے آگی کا حکم مان لیا اور تین قدم پیچھے ہٹ گیا۔
”کیسی ہیں خوبانیاں؟زرد ہو گئیں یا نہیں؟“
”زردی تو نہیں نظر آرہی۔

مگر وہ تو پتوں میں چھپی ہوئی ہوں گی۔یہ لائینل کہاں چلا گیا؟“
”یہ رہا۔“لائینل بے حد ڈرا ہوا تھا۔
”شاباش!چوکنے رہو۔بوڑھا نظر آئے تو سرپٹ بھاگنا۔“
”کہاں ہے بوڑھا؟“لائینل نے اس طرح پوچھا جیسے بوڑھا کوئی چھوٹی سی چیز ہو گی جو دفعتہ خرگوش کی طرح دفعتہ گھاس میں سے نکل آئے گا۔
”مجھے کیا پتہ کہا ں ہے۔

“آگی بولا۔”شاید گھر میں چھپا ہوا ہو یا آس پاس تاک لگائے بیٹھا ہو۔“
”آگی درخت پر تم چڑھو گے نا؟“
”درخت پر میرے سوا کون چڑھ سکتا ہے!پہلے دیکھ تو لو خوبانیاں کیسی ہیں۔“
”سبز ہوں یا زرد۔اب آگئے ہیں تو توڑ کر رہیں گے۔“ایک لڑکا بولا۔
”آگی‘کل سکول کس منہ سے جاؤ گے؟“لائینل نے پوچھا۔
”کہہ تو دیا کہ پھلوں کی چوری اس چوری سے مختلف ہے جس کا ذکر انجیل میں آیا ہے۔

“آگی نے جواب دیا۔
”تو پھر خوف زدہ کیوں ہو؟“
”خوف زدہ کون مسخرا ہے!احتیاط کو یہ خوف سمجھتا ہے۔خواہ مخواہ پکڑے جانے سے فائدہ؟“
”مجھے تو زرد خوبانیاں نظر نہیں آئیں۔“لائینل بولا۔
”تمہیں درخت تو نظر آتا ہے؟“
”ہاں ہرے رنگ کا درخت نظر آرہا ہے۔“
وہ درخت کے نیچے کھڑے تھے‘یولی سیز ذرا دور تھا۔

اسے کچھ علم نہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔اتنا پتا تھا کہ درختوں اور خوبانیوں کے سلسلے میں کوئی کارروائی کی جا رہی ہے۔
لڑکوں نے ایک ایک ٹہنی کا غور سے مطالعہ کیا۔
”سب کچی ہیں۔“
”ہاں میرے خیال میں پرسوں تک پک جائیں گی‘یا زیادہ سے زیادہ ہفتے تک۔“
”یہ ہیں کتنی ساری!ٹہنیاں ٹوٹی پڑی ہیں!!“
”آگی!ہم خالی ہاتھ لوٹ جائیں گے کیا؟ایک آدھ ہی توڑ لو۔


”اچھا سب فرار ہونے کے لئے تیار ہو جائیں‘میں توڑتا ہوں۔آگی نعرہ لگا کر بلی کی طرح درخت پر چڑھ گیا۔
پورا جتھا حیرت سے آگی کے کرتب دیکھ رہا تھا۔یولی سیز اور ہینڈرسن بھی محو تماشا تھے۔
اتنے میں دروازہ کھلا اور ہینڈرسن باہر نکلا۔لڑکے سرپٹ بھاگے۔
”آگی!ہینڈرسن آپہنچا۔“کوئی بھاگتے بھاگتے چلایا۔
آگی لنگور کی طرح ٹہنیوں سے پھسلتا ہوا نیچے اترا۔

زمین پر پاؤں ٹکنے سے پہلے ہی تابڑ توڑ بھاگا۔دفعتہ اسے یاد آگیا کہ یولی سیز پیچھے رہ گیا ہے۔
”بھاگو۔یولی سیز۔بھاگو۔“
لیکن بچہ اطمینان سے وہیں کھڑا رہا۔آگی واپس آیا اور جلدی سے اسے دبوچ کر ہوا ہو گیا۔
بوڑھا ہینڈرسن انہیں دیکھتا رہا۔جب سب لڑکے غائب ہو گئے اور خاموشی چھا گئی تو مسکراتا ہوا گھر میں چلا گیا۔
تاریخ اشاعت: 2021-05-05

Your Thoughts and Comments