Mazboot Bazuon Ka Sahara

مضبوط بازوؤں کا سہارا

جمعرات مئی

Mazboot Bazuon Ka Sahara
شفیق الرحمن
جب ہومر سائیکل پر سوار جا رہا تھا تو اس وقت بہت دور ایک ٹرین رات کی تاریکی میں تیزی سے جا رہی تھی۔گاڑی امریکن لڑکوں سے بھری ہوئی تھی۔ان میں مارکس بھی تھا اور اس کا دوست ٹوبی جارج بھی۔سب نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ان کی آنکھوں‘چہرے کے اظہار‘ قہقہوں اور گانے میں بلاکی زندگی تھی۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ صرف فوج ہی نہ تھی پوری قوم تھی۔

وہ قواعد‘ضبط نفس اور فن حرب و ضرب کی چالیں سیکھ کر مشین بن چکے تھے‘لیکن یہ نہیں بھولے تھے کہ وہ انسان ہیں۔ان کے شوروغل میں بھی وقار جھلکتا تھا۔انہیں خطرے کا احساس ضرور تھا مگر وہ نڈر بھی تھے۔وہ جانتے تھے کہ محاذ پر جا رہے ہیں لیکن انہیں بلاوجہ نہیں بھیجا جا رہا تھا۔

(جاری ہے)

وہ سپاہی کے کام سے بھی واقف تھے۔ چند ایک کی عمر چالیس سے اوپر تھی ورنہ زیادہ تعداد نوعمر لڑکوں کی تھی۔

لڑکے جو گاؤں سے آئے تھے‘ شہروں سے آئے تھے‘کھیتوں اور دفتروں سے آئے تھے۔امیروں کے لڑکے‘غریبوں کے لڑکے۔اس عجیب سے ماحول میں‘جہاں ہیجان تھا‘افراتفری تھی‘قہقہے تھے‘بے خبری تھی‘ تدبر اور سنجیدگی تھی وہاں ایک گوشے میں مارکس اور اس کا دوست ٹوبی جارج محوِ گفتگو تھے۔
”ہم محاذ پر جا رہے ہیں۔“
”ہاں۔


”مارکس‘میں اکثر سوچتا رہتا ہوں کہ جنگ نہ ہوتی تو تم سے کبھی نہ مل سکتا‘نہ تمہارے کنبے کے متعلق سن پاتا۔“
”ہاں ٹوبی میں بھی یہی سوچتا رہتا ہوں۔“
مارکس خاموش ہو گیا‘شاید یہ نامعلوم خطرے کی دہشت تھی۔
اس نے ٹوبی سے ایک اہم سوال پوچھا۔
”یہ بتاؤ تم موت سے ڈرتے ہو یا نہیں؟“
اس سوال کا جواب آسان نہ تھا‘ٹوبی سوچ میں پڑ گیا۔


”اگر یہ کہوں کہ نہیں ڈرتا تو سراسر جھوٹ ہو گا۔مارکس میں خوفزدہ ہوں اور تم؟“
”میرے ذہن میں بھی ہر وقت یہی خیال رہتا ہے۔اچھا بتاؤ کہ زندہ لوٹ آئے تو پھر۔“
”واپس آنے کی خوشی تو ہو گی لیکن میرا کوئی گھر بار نہیں ہے۔تمہاری طرح عزیز و اقارب نہیں ہیں جن کا چاؤ ہو۔نہ کوئی لڑکی میرا انتظار کر رہی ہے‘جیسے تمہاری محبوبہ تمہاری منتظر ہے۔

پھر بھی لوٹ آنے کی خوشی ضرور ہو گی۔“
دیر تک دونوں چپ رہے۔آخر مارکس نے پوچھا”تمہیں موسیقی کیوں پسند ہے؟“
”بس یونہی پسند ہے۔“
ٹرین تیزی سے جا رہی تھی۔ڈبے میں شور مچا ہوا تھا۔
”تم نے اپنے متعلق نہیں بتایا؟“ٹوبی بولا۔
”مجھے ان دنوں ابا مرحوم بہت یاد آتے ہیں۔امی بھی یاد آتی ہے۔بہن بیس‘دونوں چھوٹے بھائی‘میری اور اس کے والد سب یاد آتے ہیں۔

سارے پڑوسی‘ایرا کی دکان‘ریل کی پٹڑی‘سکول‘گرجا‘لائبریری‘اپنے استاد اور لڑکپن کے وہ سب ساتھی‘جن میں سے کئی سدھار چکے ہیں۔جن کی موت کی وجہ جنگ نہ تھی بیماریاں اور حادثے تھے۔“
”کیسی عجیب بات ہے‘یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اتھیکا میرا اپنا قصبہ ہو۔مارکس!اگر خیریت رہی تو مجھے اتھیکا لے چلو گے؟میں وہ سب جگہیں دیکھوں گا جو تمہیں اس قدر عزیز ہیں۔


”ضرور لے چلوں گا‘تمہیں اپنے عزیزوں سے بھی ملاؤں گا۔ہم غریب ہیں‘غربت نے کبھی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔میرے ابا بہت اچھے آدمی تھے اگرچہ وہ زیادہ کامیاب نہیں رہے۔انہوں نے کبھی روپیہ جمع نہیں کیا‘نہ کچھ چھوڑا۔“
”ان کا نام میتھو میکالے تھا نا؟“
”ہاں وہ باغوں اور دکانوں پر کام کیا کرتے تھے۔سیدھی سادھی محنت‘مشقت۔

دیکھنے میں وہ اور آدمیوں سے مختلف نہیں تھے۔لیکن بڑے عظیم انسان تھے۔انہیں ہر وقت کنبے کا خیال رہتا تھا۔کنبہ انہیں بے حد عزیز تھا۔سکے بچا بچا کر انہوں نے ہمارے لئے رباب خریدا۔ رباب ان دنوں کس کے ہاں ہوتا ہے؟لیکن انہوں نے لے دیا۔قیمت کی ادائیگی میں انہیں پانچ برس لگے۔اتنا بڑھیا رباب میں نے آج تک نہیں دیکھا۔پھر وہ بہن بیس کے لئے پیانو لائے۔

مدتوں میں یہی سمجھتا رہا کہ دنیا میں سب آدمی ابا جیسے نیک نفس اور محبت والے ہوں گے۔لیکن یہ غلط فہمی تھی۔لوگ بُرے بھی نہیں ہیں‘لیکن ان میں وہ عظمت مفقود ہے جو ابا میں تھی۔ہو سکتا ہے کہ میں لوگوں کو پہچانتا نہیں۔ان کی خوبیاں نہیں پرکھ سکتا۔بہت سے انسان اچھے ہوتے ہیں مگر انہیں کوئی سمجھتا نہیں۔“
”کاش میں ان سے ملا ہوتا۔

وہ میرے والد نہ تھے‘پھر بھی انہیں جاننے کا فخر تو حاصل ہو جاتا۔میں اپنے والد کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔پتا نہیں وہ کون تھے‘کیسے تھے‘یا شاید اسی میں بہتری ہو۔کیونکہ کبھی کبھی یگانگت مایوس کن بھی ہو سکتی ہے۔ہوش سنبھالا تو اپنے آپ کو تن تنہا پایا۔سکول پہنچ کر سنا کہ بچوں کے والدین بھی ہوتے ہیں جو انہیں پیار کرتے ہیں۔میں اس پیار سے سدا محروم رہا۔

میں تو صرف یہ جانتا تھا کہ دنیا میں ہر انسان اکیلا ہے۔تبھی تنہائی کا اتنی جلدی عادی ہو گیا۔جب مجھے پتا چلا کہ میں یتیم ہوں تو احساس غم بڑھتا گیا۔شاید اسی لئے مجھے موسیقی پسند ہے۔گیت احساس تنہائی کو کس قدر شدید کر دیتے ہیں۔مارکس!ایک بات پوچھوں؟بیس کیسی لڑکی ہے؟“
مارکس جانتا تھا کہ ٹوبی بے حد شرمیلا ہے اور جھجک جھجک کر اس نے یہ پوچھا ہے۔


”شرماؤ مت ٹوبی جو چاہو پوچھ لو۔میری بہن بڑی اچھی لڑکی ہے۔ہم گھر جائیں گے تو تم خود دیکھ لو گے۔مجھے یقین ہے کہ وہ تمہیں پسند کرے گی۔“
”مجھے؟“
”ہاں مجھے یونہی یقین سا ہے کہ تم ایک دوسرے کو پسند کرنے لگو گے۔ایسا ہوا تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔“
بہن اور دوست کے متعلق باتیں کرتے ہوئے مارکس بھی ہچکچا رہا تھا۔

اسے دونوں عزیز تھے۔پھر بھی یہ جھجک فطری تھی لیکن دوستی کا خلوص غالب آگیا۔
”ٹوبی تم اس سے شادی کر لینا۔اتھیکا میں گھر بنا لینا۔بڑا اچھا قصبہ ہے۔لوگ بہت اچھے ہیں۔تم وہاں خوش رہو گے۔تو تمہیں بیس کی تصویر دیتا ہوں۔اسے حفاظت سے رکھنا جیسے میری کی تصویر ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہے۔“
ٹوبی نے دوست کی بہن کی شبیہ دیکھی۔تصویر دیکھتا رہا۔


”بیس پیاری لڑکی ہے۔پتا نہیں کیوں مجھے یہ اجنبی معلوم نہیں ہوتی۔یوں معلوم ہوتا ہے جیسے میں اسے جانتا ہوں۔میں نے اب تک بیس کے ذکر سے احتراز کیا۔امید ہے کہ تم میری بات کا برا نہ مانو گے۔مجھے احساس کمتری رہا ہے۔یتیم خانے میں پلا ہوا بے یارومددگار لڑکا جس نے ماں باپ کی شکل نہیں دیکھی۔مجھے تو یہ بھی پتا نہیں کہ میں کون ہوں۔کوئی کہتا ہے کہ مجھ میں ہسپانوی اور فرانسیسی خون کی آمیزش ہے‘کوئی کہتا ہے کہ میں اطالوی اور یونانی ہوں۔

کوئی“
”تم امریکن ہو۔تمہاری قومیت پر کسے شبہ ہے؟“
”یہ تو درست ہے لیکن کس قسم کا امریکن؟“
”ایسا امریکن جس کا نام ٹوبی جارج ہے۔بس یہی کافی ہے۔بیس کی تصویر اپنے پاس رکھتا۔ہم دونوں گھر جائیں گے۔وہاں ہمارے کنبے ہوں گے۔ایک دوسرے سے ملا کریں گے‘موسیقی ہو گی‘کھیل ہوں گے۔بڑا لطف رہے گا۔“
”مارکس مجھے تمہاری ایک ایک بات پر یقین ہے۔

خدا کی قسم تم پر پورا بھروسہ ہے۔یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ باتیں محض دوستی کی وجہ سے نہیں کہہ رہے ہو۔ان میں صداقت ہے۔ایک دن ہم اتھیکا جائیں گے۔“
ٹوبی پھر سوچ میں پڑ گیا۔
”اگر خدا نخواستہ بیس کو میں اچھا نہ لگا‘یا کوئی دوسرا پسند آگیا‘یا ہماری واپسی سے پہلے اس کی شادی ہو گئی تب بھی میں تمہارے ساتھ چلوں گا۔میں نے پہلی مرتبہ محسوس کیا ہے کہ میرا بھی گھر ہے۔

عزیز و اقارب ہیں۔میکالے خاندان کو اپنا کنبہ سمجھتا ہوں۔مجھے ایسے سیدھے سادے لوگ بہت پسند ہیں۔خدا کرے یوں ہو جائے۔سب کام حسب منشا انجام پائیں۔میں اتھیکا چلا جاؤں اور باقی زندگی وہیں رہوں۔“
خدا نے چاہا تو ایسا ہی ہو گا۔ہم دونوں خیریت سے واپس لوٹیں گے۔بقیہ زندگی اکٹھے گزرے گی۔تم اور بیس‘میری اور میں دیکھ لینا“ دونوں خاموش ہو گئے۔


کچھ سپاہی آگئے۔اِدھر اُدھر کی باتیں ہونے لگیں۔سب نے مل کر ایک نہایت چنچل گانا گایا۔گاتے گاتے ٹوبی نے پوچھا”دعاؤں پر تمہیں اعتقاد ہے؟“
مارکس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”یتیم خانے میں بلاناغہ دعا مانگنی پڑتی ہے۔خواہ مخواہ بلا کسی وجہ کے دعائیں مانگا کرتے۔“
”پتا نہیں۔مگر میرا تو خیال ہے کہ دعا کبھی خواہ مخواہ نہیں مانگی جاتی۔

وہ تو خود ہونٹوں پر آجاتی ہے۔“
”صحیح ہے۔تبھی میں نے ان دنوں دعا مانگنی چھوڑ دی تھی۔لڑکپن سے اب تک کچھ نہیں مانگا۔لیکن اب پھر اعتقاد ہو چلا ہے۔“
ٹوبی دعا مانگنے لگا۔اس نے سر جھکایا‘نہ آنکھیں بند کیں‘نہ ہاتھ جوڑے بڑے خلوص سے بولا۔”خدا تعالیٰ مجھے خیریت سے اتھیکا پہنچا! میرے ممالک !جو تو کہے گا میں کروں گا۔

بس ایک دفعہ گھر پہنچ جاؤں۔سب کی حفاظت کر‘سب کو دُکھ درد سے بچا۔بے گھروں کو پناہ دے‘ بھولے بھٹکوں کو راہ دکھا آمین“
”خدا تمہاری دعا قبول کرے“مارکس نے کہا۔
ٹوبی کو یوں محسوس ہوا جیسے دعا نا مکمل رہ گئی ہے۔
”اے معبود!میکالے کنبے کی حفاظت کر۔بیس کی حفاظت کر۔کسی طرح اسے یقین ہو جائے کہ وہ مجھے عزیز ہے۔مارکس اور میری کو محفوظ رکھ اور مارکس کی امی اور دونوں بھائیوں کو بھی۔

قصبے کی رونق برقرار رہے۔گلیاں آباد رہیں۔بربط اور پیانو کے نغمے ختم نہ ہوں۔اے خدا!دنیا کو اپنی حفاظت میں لے لے۔آمین!“
سپاہی ایک اور گیت گا رہے تھے‘جس میں ہر شے کی بے ثباتی کا تذکرہ تھا خصوصاً عورتوں کی ناپائیداد محبت کا ذکر بار بار آتا تھا۔
گیت ختم ہوا تو گہری خاموشی چھا گئی۔کوئی خاص وجہ نہ تھی‘پھر بھی سب چپ ہو گئے۔

آخر ایک سپاہی بولا”کیا ہوا؟سب کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے۔مارکس‘اپنا آرگن باجہ نکالو۔ٹوبی گیت سنائے گا۔“
”کیا سنو گے؟“
”کچھ سنا دو اتنی دیر سے بیہودہ گانے گا رہے ہیں‘اب صاف ستھرے گیت سننے کو جی چاہتا ہے کوئی اچھی سی مقدس چیز‘مقدس اور پاکیزہ۔“
”نعتیہ کلام میں سے تمہیں کیا پسند ہے؟“
”یہ لوگ میرے انتخاب پر ہنسیں گے۔

مجھے وہ نعت پسند ہے مضبوط بازوؤں کا سہارا۔“
”ٹوبی تمہیں یہ نعت آتی ہے؟نہیں تو میں الفاظ بتاتا رہوں گا۔“
”دس برس تک ہر اتوار کو میں نے یہ نعت گائی ہے۔“ٹوبی بوالا۔
مارکس نے باجے پر دھن نکالی‘ٹوبی گانے لگا:
کس قدر یگانگت محسوس ہوتی ہے اور کتنی بہجت
مضبوط بازوؤں کا سہارا ہے اور میں ہوں!
چاروں طرف برکت برس رہی ہے۔سکون ہی سکون ہے
مضبوط بازوؤں کا سہارا ہے اور میں ہوں!
دو چار لڑکوں نے ساتھ دیا پھر تمام لڑکے مارکس اور ٹوبی کے گرد جمع ہو کر گانے لگے۔
کوئی خطرہ نہ کھٹکا‘احساس تحفظ ہے اور سلامتی
مضبوط بازوؤں کا سہارا ہے اور میں ہوں!
رات کی تاریکی میں ٹرین تیزی سے جا رہی تھی۔
تاریخ اشاعت: 2021-05-27

Your Thoughts and Comments