Mohabbat Lafani Hai

محبت لافانی ہے

جمعرات جون

Mohabbat Lafani Hai
شفیق الرحمن
اتوار کی سہ پہر کو ہومر اپنی بہن کو لے کر سیر کو نکلا۔سینما ہال کے باہر لوگوں کی قطار لگی ہوئی تھی جس میں لائینل بھی تھا۔
”لائینل سینما کی تیاری ہے؟“ہومر نے پوچھا
”ارادہ تو ہے لیکن دام نہیں ہیں۔“
”تو قطار میں کیوں کھڑے ہو؟“
”آگی‘اینوک‘مینوگین اور میں قیدیوں سے باتیں کرنے جیل خانے گئے تھے لیکن انہوں نے مجھے بھگا دیا۔

واپسی میں لوگوں کی قطار دیکھی تو اس میں شامل ہو گیا۔“
”کتنی دیر سے کھڑے ہو؟“
”ایک گھنٹے سے۔“
”فلم دیکھنے کو جی چاہ رہا ہے؟“ہومر نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔
”بیکار پھر رہا تھا۔سوچا یہیں وقت گزار دوں‘ویسے فلموں کا مجھے زیادہ شوق نہیں ہے۔

(جاری ہے)


”تو ہمارے ساتھ سیر کو چلو‘تھوڑی دیر میں واپس آجائیں گے۔


”شکریہ!یہاں کھڑا کھڑا تنگ آچکا ہوں۔“
تھوڑی دور جا کر یولی سیز کو کچھ نظر آگیا۔لنکن کے زمانے کا ایک سکہ زمین پر گرا پڑا تھا۔
”اسے اُٹھا لو یولی سیز ایسا سکہ بڑا مبارک ہوتا ہے۔“
بچے نے سکہ اُٹھا لیا اور اپنی خوش نصیبی پر مسکرانے لگا۔
وہ تار گھر کے سامنے سے گزر رہے تھے۔
”یہ وہ جگہ ہے جہاں میں کام کرتا ہوں۔

صرف چھ مہینے ہوئے ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صدیاں گزر چکی ہیں۔“
تار گھر میں کوئی تھا۔ہومر نے جھانک کر دیکھا۔
”شاید مسٹر گروگن کام کر رہے ہیں۔پتہ نہیں چھٹی کے دن کیوں چلے آئے۔ذرا پوچھ آؤں۔ابھی آیا۔“
اس نے دوڑ کر سڑک عبور کی اور دفتر میں چلا گیا۔تار کی مشین کھڑک رہی تھی۔لیکن گروگن دنیا و مافیہا سے بے خبر تھا۔


”مسٹر گروگن اُٹھیے۔آپ کو کوئی بلا رہا ہے۔جاگیے۔“
لیکن گروگن نہ اُٹھا۔ہومر دوڑتا ہوا بہن کے پاس گیا۔
”مسٹر گروگن کی طبیعت اچھی نہیں ہے۔ان کی دیکھ بھال میں شاید دیر لگ جائے۔آپ چلیے۔میں بعد میں آجاؤں گا۔“
”بہت اچھا ہومر۔“بہن بولی۔
”انہیں تکلیف کیا ہے؟“لائینل نے پوچھا۔
”مجھے جلد پہنچنا ہے۔

“ہومر نے بھاگتے ہوئے کہا۔”تکلیف و کلیف کچھ نہیں۔فقط ضعیفی ہے۔“
واپس آکر اس نے گروگن کو کئی مرتبہ جھنجھوڑا‘پانی کے چھینٹے دیئے۔تب کہیں جا کر بوڑھے نے آنکھیں کھولیں۔
”جی میں ہومر ہوں۔مجھے علم نہ تھا کہ آج آپ کام پر آرہے ہیں ورنہ کبھی کا پہنچ گیا ہوتا۔میں تو یونہی جا رہا تھا کہ آپ کو دیکھ لیا۔ابھی کافی لاتا ہوں۔

“بوڑھے نے سر ہلایا اور ٹائپ رائٹر میں نیا کاغذ لگا کر تار کی مشین کے سامنے بیٹھ گیا۔ہومر فوراً کاربٹ کی دکان پر پہنچا اور کافی مانگی۔
”تازہ بن رہی ہے دو تین منٹ میں تیار ہو جائے گی۔“
”اگر تھوڑی سی کہیں پڑی ہو تو اسی وقت دے دیجیے۔“
”بالکل ختم ہو چکی ہے۔لیکن جلد تیار ہو جائے گی۔“
”بڑی ضرورت تھی۔

خیر‘میں ابھی آکر لے جاؤں گا۔“
ہومر نے واپس پہنچ کر دیکھا کہ تار کی مشین بج رہی ہے لیکن بوڑھا خاموش ہے۔
”مسٹر گروگن!اُٹھیے‘کہیں سے پیغام آرہا ہے۔انہیں کہہ دیجیے کہ ذرا انتظار کر لیں۔اتنے میں کافی تیار ہو جائے گی۔میں دوڑ کر لے آؤں گا۔جاگیے‘مسٹر گروگن۔ہومر دکان کی طرف بھاگا۔
بوڑھے نے ٹائپ شدہ پیغام کی طرف دیکھا۔


کاغذ پر لکھا تھا:
مسز میکالے
2226 سانتا کلارا ایونیو
اتھیکا۔کیلیفورنیا۔
شعبہ جنگ کو افسوس ہے کہ آپ کا بیٹا مارکس․․․․
بوڑھے نے کرسی سے اُٹھنے کی کوشش کی لیکن اس کا دل ڈوبنے لگا۔اسے دورہ پڑ رہا تھا۔دونوں ہاتھوں سے اس نے سینہ تھام لیا اور ٹائپ رائٹر پر جھک گیا۔
ہومر کافی کا پیالہ لیے ہوئے آیا۔تار کی مشین خاموش تھی۔

دفتر میں ہولناک خاموشی طاری تھی۔
”مسٹر گروگن!!اُٹھیے۔میں کافی لایا ہوں۔“
اس نے سہارا دے کر بوڑھے کو ٹائپ رائٹر سے اُٹھایا۔دفعتہ اس کی آنکھوں کے سامنے ٹائپ شدہ عبارت کوند گئی۔الفاظ پڑھے بغیر ہومر پیغام کا مفہوم سمجھ گیا اس کے ہاتھ پاؤں شل ہو گئے۔پھر بھی وہ بوڑھے کو تھامے رہا۔
”مسٹر گروگن۔“
اتنے میں دوسرا ہرکارہ فیلکس جو اتوار کو کام کرتا تھا‘آگیا۔

اس نے بوڑھے کو غور سے دیکھ کر کہا۔
”ان کا انتقال ہو چکا ہے۔“
”پاگل ہو گئے ہو؟“ہومر چلایا۔
”یہ مر گئے ہیں۔“
”نہیں نہیں۔“ہومر نے چیخ ماری۔
”مسٹر سپنگلر کو بلاتا ہوں۔“فیلکس نے ٹیلی فون کیا مگر جواب نہ ملا۔
”وہ گھر پر نہیں ہیں۔اب کیا ہو گا؟“
(جاری ہے)
تاریخ اشاعت: 2021-06-03

Your Thoughts and Comments