Mohabbat Lafani Hai - Akhri Qist

محبت لافانی ہے(آخری قسط)

جمعہ جون

Mohabbat Lafani Hai - Akhri Qist
شفیق الرحمن
ہومر ٹائپ رائٹر کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔فیلکس نے عبارت پڑھی اور ہومر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔”پیغام نامکمل ہے۔ ممکن ہے کہ تمہارا بھائی زخمی ہو گیا ہو یا اسے دشمن نے قید کر لیا ہو۔“
ہومر نے بوڑھے کی طرف اشارہ کیا۔”انہوں نے پورا پیغام سنا تھا۔جان بوجھ کر ٹائپ نہیں کیا۔

انہوں نے اچھی طرح سن لیا تھا۔“
”ہو سکتا ہے کہ نہ سنا ہو۔میں پھر ٹیلی فون کرتا ہوں۔شاید مسٹر سپنگلر گھر پہنچ گئے ہوں۔“
”ہومر خالی خالی آنکھوں سے درو دیوار کو تک رہا تھا۔اس کے چہرے پر شدید نفرت تھی‘کراہت تھی اور غصہ تھا۔اس کی آنکھوں سے ایک آنسو بھی نہ نکلا۔سپنگلر نے اپنی کار تار گھر کے سامنے ٹھہرائی۔

(جاری ہے)

فیلکس دوڑ کر باہر گیا۔


”مسٹر سپنگلر!میں نے کئی دفعہ فون کیا لیکن آپ گھر پر نہیں تھے۔بڑی بُری خبر ہے۔مسٹر گروگن کا انتقال ہو گیا ہے۔“
سپنگلر‘ڈائنا سے بولا۔”تم گھر چلی جاؤ‘میں دیر سے آؤں گا۔کھانے پر انتظار مت کرنا۔یا یوں کرو کہ اپنے والدین کے ہاں چلی جاؤ۔تمہیں کل لے لوں گا۔“
”بہت اچھا۔“
سپنگلر جلدی سے اندر گیا۔گروگن کی طرف دیکھا‘پھر ہومر کی طرف۔


فیلکس!ڈاکٹر نیلسن کو فون کر دو کہ اسی وقت چلے آئیں۔“
اس نے بوڑھے کو کرسی سے اُٹھایا اور عقبی کمرے میں صوفے پر لٹا دیا۔واپس آکر ہومر کا کندھا تھپتھپانے لگا۔
”ہومر!جی بُرا مت کرو۔مسٹر گروگن ضعیف العمر تھے۔ان کی خواہش تھی کہ موت اچانک آجائے۔اسی طرح بیٹھے بیٹھے گزر جائیں۔“
تار مشین بجنے لگی۔سپنگلر پیغام لینے کے لئے جھکا تو اسے ٹائپ رائٹر میں لگا ہوا کاغذ نظر آگیا اور دیر تک وہ سر جھکائے سطروں کو پڑھتا رہا۔

پھر اس کی نگاہیں ایک لمحے کے لئے ہومر کی جانب اٹھ گئیں۔
اس نے مشین پر مکمل پیغام لیا‘بلکہ دوہرایا بھی۔وہ چپ چاپ اپنی کرسی پر جا بیٹھا‘اور دیر تک خلا میں تکتا رہا۔اس کی انگلیاں اُبلے ہوئے انڈے سے کھیلتی رہیں۔جسے وہ خوش نصیبی کی علامت سمجھا کرتا۔اس نے غیر ارادی طور پر انڈا توڑ دیا۔اور چھلکے پھینک کر سفیدی کھانے لگا۔
”فیلکس!تار گھر کے کام کے لئے ہیری بیرک کو ابھی بلا لو۔

ڈاکٹر نیلسن بھی آتے ہوں گے ان سے کہنا کہ بعد میں گفتگو کروں گا۔“
ہومر نے اٹھ کر ٹائپ رائٹر سے نامکمل تار نکالا۔اسے لفافے میں بند کرکے کوٹ کی جیب میں رکھا اور دوسری کاپی کو حفاظت سے فائل میں لگا دیا۔
سپنگلر نے اسے بازو سے تھام لیا۔”آؤ ہومر!ذرا سیر کو چلتے ہیں۔“
تار گھر سے نکل کر دونوں سڑک پر چلنے لگے۔دیر تک کوئی بات نہ ہوئی۔

آخر ہومر بولا۔”انسان کیا کرے؟کس سے بدلہ لے؟کس سے نفرت کرے؟سوچ رہا ہوں کہ کون ہے جو اس کا ذمہ دار ہے؟کیا کروں‘کہاں جاؤں؟زندگی کیسا عجیب تماشا ہے؟دوستی اور محبت کتنی ناپائیدار چیزیں ہیں۔“
سامنے سے آگی اور اس کے ساتھی آرہے تھے۔انہوں نے سلام کیا۔ہومر نے ہر ایک کا نام لے کر سلام کا جواب دیا۔شام ہو چلی تھی‘سورج غروب ہو رہا تھا‘اور آسمان شفق سے جگمگا رہا تھا۔


”کسے بُرا بھلا کہوں؟کسے کُوسوں؟مجھے تو کسی سے نفرت بھی نہیں۔اس دن دوڑ میں بائی فیلڈ نے مجھے پٹخ دیا لیکن میں نے اُسے بھی معاف کر دیا۔نہ مجھے کسی سے عداوت ہے‘نہ کوئی بُرا لگتا ہے۔میں کیسا عجیب ہوں؟میرا دل ان جذبوں سے پاک ہے۔لیکن کوئی مجھے اتنا بتا دے کہ میرا بھائی کیوں مر گیا؟یہ میری زندگی کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔جب ابا کا انتقال ہوا تو اور بات تھی۔

خاصی عمر پا کر‘خاندان کی پرورش سے فارغ ہو کر وہ سدھارے۔ہمیں رنج ہوا لیکن گھاؤ نہیں پہنچے۔بھائی کی موت پر میں تلملا رہا ہوں‘میرے دل پر کچوکے لگ رہے ہیں۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ کس کو ہم سے دشمنی تھی۔ہمارا دشمن کون ہے؟کیا آپ جانتے ہیں؟“
سپنگلر دیر تک سوچتا رہا۔
”میں نہیں جانتا کہ دشمن کون ہے۔لیکن یہ جانتا ہوں کہ وہ ہم انسانوں میں سے نہیں ہے۔

اگر انسان دشمن ہوتا تو ہم سب کے سب خود اپنے آپ سے دشمنی کرتے۔ساری دنیا کے انسان ایک جیسے ہیں۔اگر انہیں ایک دوسرے سے عداوت ہے تو وہ خود اپنی ذات کے دشمن ہیں۔ انسان دوسروں سے نفرت نہیں کرتا بلکہ اپنے آپ سے نفرت کرتا ہے۔جب اسے اپنی ذات سے نفرت ہو جائے تو اسے چاہیے کہ یہاں سے نکل جائے۔اپنا جسم چھوڑ دے‘دنیا چھوڑ دے‘تمہارا بھائی ایسا نہیں تھا۔

اسے زندگی سے محبت تھی۔وہ جینا چاہتا تھا۔تمہارا بھائی زندہ رہے گا۔“
”کیسے؟“
”یہ میں نہیں بتا سکتا۔لیکن میرا عقیدہ ہے کہ ایسے انسان کبھی نہیں مر سکتے۔تمہارا بھائی یولی سیز کے روپ میں زندہ رہے گا۔وہ محبت اسے جیتا رکھے گی جو تمہیں اس سے تھی۔“
”نہیں نہیں۔یہ سب تسلیاں ہیں۔یہ کافی نہیں۔میں اپنے بھائی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔

میں چاہتا ہوں کہ وہ آنکھوں کے سامنے رہے۔میں اسے چھونا چاہتا ہوں۔اس سے باتیں کرنا چاہتا ہوں‘اس کی آواز مجھے سنائی دے‘اس کے قہقہے گونجیں‘میں اس کے ساتھ کھیلوں‘کُشتی لڑوں ۔اور اب۔اب میرا بھائی کہیں نہیں ملے گا۔عمر بھر ڈھونڈتا پھروں‘تب بھی اسے نہ پا سکوں گا۔دنیا بدلی بدلی معلوم ہوتی ہے۔دنیا میں بسنے والے بھی بدل گئے۔

یہاں میرا بھائی کبھی نہیں آئے گا۔“
وہ آبادی سے باہر نکل آئے تھے اور گھاس کے قطعے پر چل رہے تھے۔
”میں تمہیں دلاسے نہیں دے رہا ہوں کیونکہ ایسے شدید غم میں سب تشفیاں بیکار ہیں۔بس یہ یاد رکھنا کہ اچھائی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔اچھا انسان کبھی نہیں مرتا۔بارہا تم اسے دیکھو گے۔کبھی وہ تمہیں گلیوں میں نظر آجائے گا‘کبھی مکانوں میں‘کبھی آبادی اور ویرانوں میں‘باغ میں‘ کُنج میں‘دریا کے کنارے‘بادلوں‘جگہ جگہ دکھائی دے گا۔

ان تمام جذبوں میں اس کی یاد تحلیل ہو جائے گی جو نفاست‘حسن اور پاکیزگی سے تخلیق ہوتے ہیں۔جب بھی محبت کا نور طلوع ہو گا تمہیں اس کا قرب محسوس ہو گا۔اس کا جسم فنا ہو جائے لیکن اس کے وجود کا بہترین حصہ زندہ رہے گا۔
محبت لافانی ہے۔یہی حیات جاودانی ہے۔تمہیں کنکریوں کا کھیل آتا ہے؟“
”جی معمولی سا آتا ہے۔“
”تو پھر کنکریاں اکٹھی کروں۔ایک بازی کھیلیں۔“
”جی بہت اچھا۔“
تاریخ اشاعت: 2021-06-04

Your Thoughts and Comments