Sitaar Ul Ayyob

ستّار العیّوب

منگل دسمبر

سیّدہ سعیدہ خاتون عظیمی
رات کا پچھلا پہر ہونے کو آیا ۔مجال ہے جو ذرا بھی آنکھ جھپکی ہو ۔مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔گذشتہ تقریباً دو مہینوں سے اب تو ان کا یہ روٹین ہی بن گیا ہے ۔ہفتے میں تین چار دن رات رات بھر غائب رہتے ہیں ۔کچھ پوچھوتو بڑی صفائی سے کہہ دیتے ہیں ۔
”ارے میری جان ! تمہیں کیاپتہ ۔

روزی کمانے کے لئے مردوں کو کیسے کیسے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں“۔
جب میں پوچھتی ہوں کہ :
”مگر آپ تو دن میں کام پر جاتے ہیں ۔اب یہ رات کو بھی کیسا کام شروع ہو گیا ہے ۔جس میں ہم آپ کی صورت کو بھی ترس گئے ہیں “۔کتنے پیار سے کہتے :
”ارے تم تو میرے دل کی ملکہ ہو ۔میری جان ہو ۔
تمہاری عیش آرام کے لئے مجھے ایکسٹر اکام بھی تو کرنے پڑتے ہیں نا۔

(جاری ہے)


مگر میں تو آپ کی بیوی ہوں ۔میرا اصل عیش آرام تو آپ کی قربت ہے میں تنہا گھر میں پہن اوڑھ کے کس کو دکھاؤں گی“۔
کیسے مزے میں ہنس کے کہتے ہیں۔ہم تو تمہاری نظروں میں بستے ہیں ۔جب تم آئینے میں اپنا عکس دیکھو گی ۔تو جان لینا ہم نے تمہارے سراپا کو چھولیا ہے “۔
مگر ․․․․․․
”اگر مگر کچھ نہیں ۔بس اب سونے دو تھک گیا ہوں ۔

صبح کام پر جانا ہے “۔
الٰہی کیا کروں ۔میں کیسی بیوی ہوں وہ کیسا شوہر ہے ۔اللہ تو کہتا ہے میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں ۔لباس تو جسم سے قریب تررہتا ہے ۔
ابھی تین سال پہلے کی ہی تو بات ہے ۔میں کالج سے اپنی سہیلی کے ساتھ باہر نکلی ۔چند قدم ہی چلے تھے کہ ایک خوبرونوجوان نے سامنے آکر بڑی بے تکلفی سے میری سہیلی کو مخاطب کیا ۔

ثانی وہ سامنے گاڑی ہے تمہیں لینے آیا ہوں ۔میری سہیلی خوشی سے اچھل پڑی ۔ارے بھائی جان آج آپ کو اس وقت کیسے فرصت مل گئی ۔پھر وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بولی :
نشو․․․․!یہ میرے بھائی جان ہیں ۔آجاؤ ہم تمہیں بھی اپنی گاڑی میں چھوڑ دیں گے ۔
پھر اس نے تو جیسے گھر ہی دیکھا لیا ۔ثانی کو ہر روزلینے آجاتا ۔سہیلی ہونے کے ناطے مجھے بھی لفٹ مل جاتی اور پھر آنے بہانے گھروں میں بھی آناجانا شروع ہو گیا ۔

پانچ چھ مہینوں میں بے قراری ایسی بڑھی کہ حدوں کو تجاوز کرنے کا خطرہ لاحق ہو گیا ۔انہی دنوں ایک بڑا اچھا رشتہ آیا ۔یہ ہمارے دور پرے کے رشتے دار بھی تھے ۔سارا گھر اس رشتے کے فیور میں تھا ۔جب انہیں پتہ چلا تو اپنی ماں بہن کو رشتہ لینے میرے گھر بھیجا ۔
میری ماں نے صاف انکار کردیا کہ ہم نے اس کا رشتہ دیکھ لیا ہے ۔بس اگلے سال اس کی ڈگری کا آخری سال ہے ۔

اس کے بعد اس کی وہاں شادی ہو جائے گی ۔ہم سب گھر والے اس پر خوش ہیں ۔مگر یہاں تو قصہ ہی اور تھا ۔صاحب بہادر ہمارے عشق میں اندھے ہورہے تھے اور سچ پوچھو تو میرا بھی دل یہاں مائل تھا ۔صورت تو ہماری ہمیشہ سے جیسی تھی سوتھی ۔
اس بے ایمان نے تعریف کرکرکے ایسا شیشے میں اتار لیا کہ اب آئینے میں اپنی جگہ کوئی حور نظر آنے لگی اور پھر اس پر طرہ یہ کہ اس کی ماں نے رشتے کی انکاری پر جیسے دل میں تہیہ کر لیا کہ یہ شادی تو ہونی ہی ہونی ہے ۔

آخر اس کے بیٹے میں کیا کمی ہے ۔
جب باوجود بھر پور کو شش کے میرے ماں باپ اس رشتے پر راضی نہ ہوئے ۔تو کالج آتے جاتے ایک دن یا سر کہنے لگا:
”میری ماں کہتی ہے جب لڑکی اور لڑکا بالغ ہو جائیں تو شریعت کے قانون کے تحت وہ اپنی پسند کی شادی کر سکتے ہیں ۔چلو ہم کہیں اور جاکر شادی کرلیتے ہیں ۔سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
میرا دل اس کی یہ بات سن کے کانپ گیا تھا ۔

میں نے اس سے کہا میرے ماں باپ میرا کیسے برا چاہ سکتے ہیں ۔دراصل انہیں یہ اطلاع ملی ہے کہ تم جذباتی آدمی ہو ۔لاابالی ہو۔شادی کے بعد کی ذمہ داریاں نبھانہ سکوگے ۔
یہ سن کر اسے کیسا جوش چڑھا تھا ۔کیا کہا میں جذباتی ہوں لاابالی ہوں غیر ذمہ دارہوں نشوکیا تم بھی مجھے ایسا سمجھتی ہو ۔تم تو میرے دل میں جھانک سکتی ہو ۔تم ہی بتاؤ کیا اس دل میں تمہیں کسی اور کی تصویر دکھائی دیتی ہے ۔


بھلا اس وقت میں اس کے دل میں کیا جھانکتی ۔اس وقت تو وہ کیوپڈکا بت بناہاتھوں میں تیر لئے میرے سامنے کھڑا تھا جس کی نوک میرے مرکز دل میں چبھنے لگی تھی ۔
میری ماں کہا کرتی تھی۔بیٹی زندگی کے اہم کاموں میں استخارہ کرنے کا حکم ہے ۔استخارہ اپنے کاموں میں اللہ پاک سے مشورہ کرنا ہے ۔میں نے استخارہ کیا ۔اللہ میاں سے دعا کرتے کرتے سو گئی تھی کہ اب اس کٹھن موڑ پر میں کون سا راستہ اختیار کروں ۔

پہلی رات ہی میں نے خواب دیکھا میں ایک انجان راستے پر چل رہی ہوں ۔
بڑی محویت کے ساتھ اپنی دھن میں چلی جاتی ہوں ۔اتنے میں ایک ناگ آکر میرے پاؤں سے لپٹ جاتا ہے ۔میں چھڑا کر آگے بڑھتی ہوں ۔پھر وہ ناگ آکے میرے بدن سے لپٹنے لگتا ہے ۔میں پھر اسے خوفزدہ ہوکے الگ کرتی ہوں ۔وہ پھر میرے گلے سے لپٹ جاتا ہے ۔میں اے الگ کرنے کی کوشش کرتی ہوں ۔

اسی خوف میں آنکھ کھل گئی ۔
دوسرے دن پھر میں نے خواب دیکھا کہ میں کسی نا معلوم منزل کی طرف بڑھی چلی جاتی ہوں ۔میری پوری توجہ اس منزل کی طرف ہے کہ اتنے میں کیا دیکھتی ہوں کہ جس راہ پر میں چل رہی ہوں اس پر سانپ ہی سانپ ہیں ۔جو میرے پاؤں سے لپٹ لپٹ کے میرے راستے کی رکاوٹ بنتے جاتے ہیں۔ سارے خواب میں میں ان سانپوں کو ہٹاتی رہی اور چلنے کے لئے اپنی راہ ہموار کرتی رہی ۔

ساتھ ساتھ دل میں یہ عزم بھی رہا کہ ان سانپوں کے ڈر سے میں رکنے والی نہیں ۔
خواب سے جاگی تو دماغ کہنے لگا ۔اس سے پہلے تو کبھی میں نے سانپ نہیں دیکھے تھے ۔ضرور اس کا تعلق میری ازدواجی زندگی سے ہے ۔میر ے دل نے فوراً جواب دیا تم اتنی کم ہمت کب سے ہو گئی راہ کے سانپوں سے ڈرگئیں کم ہمت اور ڈرپوک لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں ۔ان خیالات سے میرے عزم کو اور تقویت ملی ۔


جب میں خواب سے جاگی ۔تو سب سے پہلے میرے دل میں خیال آیا ۔میرا نفس مجھے سانپ بن بن کے مجھے میرے کام سے باز رکھنے کی کوشش کررہا ہے ۔میں پنے نفس کا کہنا نہیں مانوں گی جو مجھے دشمن کے بھیس میں ڈرا رہا ہے ۔تب میں نے اپنے رب سے بڑی عاجزی کے ساتھ رجوع کیا ۔
اور پھر ہماری شادی ہوگئی۔
ان تین سالوں میں اللہ پاک نے سارے راستے ہموار کر دئیے اور اب یہ باد مخالف کیسی چلنے لگی ہے ۔

چند دن اور اسی ڈھب پر گزر گئے ۔ایک رات کے پچھلے پہر جب وہ گھر لوٹا ۔میں بیٹھی اس کا انتظار کررہی تھی ۔وہ مجھے دیکھ کر چونک گیا ۔گھبرا کے بولا تو ابھی تک جاگ رہی ہے ۔میں نے کہا آپ کا انتظار کررہی تھی ۔نرم سے لہجے میں شرمندہ شرمندہ ساکہنے لگا ۔جان من! میرا انتظار نہ کیا کر ۔جا سوجا ۔اس دم مجھے یوں لگا جیسے میرے اور اس کے درمیان ایک پردہ ساہٹ رہا ہے ۔

میری نگاہ اس کے چہرے پر جم کررہ گئی ۔اس کے پیچھے اس کے خیال کی روشنی میں اس کے گزرے لمحے کا عکس میں نے دیکھ لیا کہ اب اس کی جانِ من میں نہیں بلکہ کوئی اور ہے قبل اس کے کہ میرا کمزور نفس درمیان میں آتا ۔میرا وہ عزم اس کے چہرے اور میری نگاہ کے درمیان حجاب بن گیا ۔جس عزم کے ساتھ میں نے اپنے رب سے اس کی لکھی تقدیر پر استقامت چاہی تھی ۔دل نے کہا اے میرے رب ہم سب تیرے کمزور بندے ہیں ۔

جس طرح تو اپنے بندوں کے عیب ڈھانپتا ہے مجھے بھی اس کی توفیق عطا فرما اور ہمارے نفسوں کی کمزوریاں دور فرما۔
اس دن مجھے پتہ چلا اللہ تعالیٰ کی ستار العیوبی کیا ہے ۔میں اپنے دل کا درد بھول کر اس کی ستاری پر غور کرنے لگی ۔اس کی صفت ستار العیوب ہمارے عیبوں پرپر دہ ڈال دیتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایک آدمی جب دوسرے آدمی کو دیکھتا ہے ۔تو اس کا بشریٰ چہرہ دکھائی دیتا ہے ۔

عیب دکھائی نہیں دیتا ۔نفس کی ہر کمزوری روشنی کی ایک تصویر ہے ۔گناہ کی تمام تصویریں چہرے کے آئینے میں منعکس ہوجاتی ہیں ۔اللہ کی صفت ستار العیوب آدمی کے آئینے پر اپنی روشنی کا پردہ ڈال دیتی ہے ۔دوسرا کوئی اس کے گناہ کو نہیں دیکھ سکتا ۔اللہ کے سوا اور کسی کی نگاہ اس کے پردے میں نہیں دیکھتی ۔
میں سوچنے لگی اگر ہمارے درمیان سے اللہ تعالیٰ کی ستاری کا پردہ ہٹ جائے ۔

تو ہر چہرہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا نظر آئے گا پھر ایک دوسرے پر بھروسہ اٹھ جائے گا ۔سب ایک دوسرے کے خیالات کا عکس اس کے چہرے پر دیکھ لیں گے ۔
اس دنیا میں ہر شے مفروضہ ہے ۔اس دنیا کا انسان بھی فکشن ہے ۔بدلتی چیز کا کیا اعتبار ۔ہر لمحے ایک خیال روشنی بن کر اس کے اوپر چھاجاتا ہے ۔پھر دوسرے لمحے دوسرا خیال آجاتا ہے ۔ایک رنگ آتا ہے ۔ایک رنگ جاتا ہے ۔

مٹی کی دنیا کی ہر چیز مٹی ہے ۔مٹی کے کھلونوں پریہاں رنگ رنگ کی پالش کرکے پیش کیا جارہا ہے ۔ہے تو مٹی ہی ،وہ حقیقت ،وہ ساقی ،وہ ساغر،وہ شراب کہاں ہے ۔جس کا مزا میں نے ازل میں چکھا تھا ۔وہ کبھی نہیں بدلتی ۔نہ اس کا رنگ بدلتا ہے ۔نہ اس کا مزابدلتا ہے ۔
میرے دل میں ند اآئی پھر کیا بدلتا ہے ،پھر کیا بدلتا ہے ،پھر کیا بدلتا ہے․․․․؟اسی تکرار کے ساتھ ایک زور دار چھنا کے کی آواز آئی۔

مٹی کا پیالہ ٹوٹ کرکر چیں کرچیں ہو چکا تھا ۔میرا عزم اب بھی باقی تھا۔ اسے اپنے وعدے کا پاس تھا ۔ساقی میخانہ نے ایک گھونٹ پلا کر اسے رند کی صف میں کھڑا کردیا تھا ۔میرے عزم نے اپنی مٹی کی دیواریں گرتی دیکھ کرساقی کے قدموں میں سر جھکا دیا۔ ساغرنہ رہا ۔تو کیسے شراب پیوں گی ۔
تجھے تیری ستاری اور تیری کریمی کا واسطہ ۔اے میرے رب ! میرے لئے یسا سا غر بنا دے ۔

جو کبھی نہ ٹوٹے ۔ایسی شراب پلا جس کا سرور ہمیشہ قائم رہے ۔
شانِ کریمی جوش میں آگئی ۔اسی ستار العیوب نے مٹی کے ہر ٹکڑے پر اپنا حجاب ڈال دیا۔ آج تمہیں موت کے ساغر میں زندگی کی شراب پلائی جائے گی ۔نہ جس کا کبھی مزابدلے گا ،نہ ساغر بدلے گا ،نہ ساقی بدلے گا۔
میرے عزم نے ساقی کے قدموں میں اپنی جان رکھ دی اور ہمیشہ کے لئے فنا ہوگیا۔

تاریخ اشاعت: 2018-12-18

Your Thoughts and Comments