Aan Baan Shaan Wala Dubai

آن ،بان شان والا دبئی

جمعرات دسمبر

Aan Baan Shaan Wala Dubai

دبئی کی شان برج الخلیفہ
یہ دنیا کی بلند ترین عمارت ہے جسے متحدہ عرب امارات کے سابق صدر،شخ خلیفہ بن زید النہیان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔اس برج کی بلندی 828میٹر ہے جبکہ اس کی کل منزلیں162ہیں ۔اس طرح یہ دنیا میں سب سے زیادہ منزلوں کی حامل عمارت ہے ۔اس جگہ دنیا کی تیز ترین لفٹ بھی نصب ہے جو 18میٹر فی سیکنڈ یعنی 65کلو میٹر گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہے ۔

اس پورے عمارتی منصوبے میں30 ہزار رہائشی مکانات،9ہوٹلز،6ایکٹرباغات،19رہائشی ٹاورز اور جھیل شامل ہیں ۔
برج الخلیفہ پر تقریباً 8ارب ڈالرز کی لاگت آئی ۔یہاں دنیا کی سب سے بلند ترین مسجد بھی واقع ہے جو 158ویں منزل پر ہے ۔اس عجوبہ روزگار عمارت کو دیکھنے کے لئے ہمہ وقت دنیا ئے عرب اور یورپ کے سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے ۔

(جاری ہے)

شام سے رات گئے تک برج خلیفہ میں وقفے وقفے سے فائرورک اور واٹرورک کادلآ ویز مظاہرہ دیکھا جا سکتا ہے ۔

نیز بلند ترین عمارات پر برقی قمقموں کی مدد سے مختلف شکلیں بھی بنتی نظر آتی ہیں ۔یہاں پاکستانی جھنڈا بھی لہرایا گیا تھا جسے فیس بک پر کروڑوں لوگوں نے دیکھا۔
شیخ زید مسجد (ابو دبئی)
ابو دبئی کہیں یا ابوظہبی بات ایک ہی ہے ۔اس مسجد میں جانے کے لئے خواتین کا شرعی پردے میں ملبوس ہونا ضروری ہے ۔مسجد کے منتظمین بھی آپ کو عبایہ ،اسکارف اور شرعی لباس عاریتاً دیتے ہیں ۔

یہاں آپ کو ننگے پیروں اندر جانا ہوتا ہے لہٰذا موزے ضرور پہنیں۔تعمیراتی حسن،دنیا کی سب سے بڑی مسجد (مسجد نبوی اور حرم کعبہ کے بعد )میں کارونگ اور Ornateکا استعمال بہت فنکارانہ انداز میں کیا گیا ہے ۔موزائیک ٹائلز ،سونے جیسی قیمتی دھات اور آئینوں کا استعمال کمال کا ہے ۔یہ مسجد اپنے انداز کے عجائب گھر سے بھی کم نہیں جہاں مسلم اور غیر مسلم ہر کوئی آداب بجا کر آسکتا ہے ۔

اور آداب وہی ہیں کہ پردے کی لازمی شرائط کی تکمیل کرتے ہوئے آئیے اور فیض پائیے۔
وائلڈوادی
یہ ایک آبی تفریح گاہ ہے جس کا شمار دنیا کے حسین ترین ٹاپ 20واٹر پارکس میں ہوتا ہے ۔اس واٹر پارک میں کچھ رائیڈز پر رائڈنگ کرنا انتہائی دل گردے کا کام ہے ۔سب سے اونچی سلائڈ 390فٹ بلند ہے اور اس کی رفتار تقریباً 50کلو میٹر گھنٹہ ہے ۔یہ واٹر پارک ISOسر ٹیفائیڈ ہے ۔


اس وادی کے اندر آبی مقامات اس تکنیک سے بنائے گئے ہیں کہ ربر کی بوٹ پر سواری کے دوران کہیں کھلا آسمان تو کہیں سائبان مقامات دکھا ئی دیتے ہیں اور ان سے ہمہ وقت کبھی برق رفتاری سے تو کبھی دھیمی رفتار سے پانی سر پر گرتا رہتا ہے ۔اگر آپ اچھے تیراک ہیں تو یہاں یقینا انجوائے کریں گے ۔
ڈیزرٹ سفاری
دبئی کے علاوہ ابوظہبی اور فجیرہ میں بھی صحرا موجود ہیں جنہیں تفریحی نقطہ نظر سے آراستہ کیا گیا ہے ۔

ریت کے چٹیل میدان اور اونچے نیچے گڑھوں میں ماہر ڈرائیور انتہائی چابک دستی سے مخصوص طرز کی گاڑیوں میں سیا حوں کو بٹھا کر پورے صحرا کا چکر لگواتے ہیں ۔حفاظتی بیلٹ باندھنے کے باوجود خوف محسوس ہوتا ہے ۔غرضیکہ ایسا لگتا ہے دبئی نے اپنی مٹی کو بھی سو نا بنا دیا ہے ۔
یہاں مقامی افراد عقاب لئے پھرتے ہیں اپ عقاب کو اپنے ہاتھوں میں لے کر تصویر اترواسکتے ہیں۔

شام ڈھلتے ہی صحرا میں رنگ ونور کی بہار آجاتی ہے ۔مقامی کھانوں پر مشتمل بوفے سج جاتے ہیں اور پس منظر میں عربی گانوں کی دھن اور سازوں کے درمیان عربی رقص دیکھنے کی چیز ہے ۔
پام جمیرا
خوشگوار احساس کے ساتھ عمدہ نظارے اور تفریحی وسائل کی فراوانی موجود ہوتو تھکن ہوا ہو جاتی ہے۔
برج العرب
280میٹر کے فاصلے پر ایک مصنوعی جزیرہ بنا یا گیا ہے جہاں برج العرب تعمیر کیا گیا ہے ۔

اسے دنیا کا پہلا 7اسٹارہوٹل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے برج العرب کو دور سے دیکھا جائے تو ساحل کنارے کھڑا ایک بادبان محسوس ہوتا ہے ۔اس کاشمار دنیا کے مہنگے ترین ہوٹلز میں ہوتا ہے ۔ہوٹل میں ایک ریسٹورنٹ ا لمہا یا زیر سمندر واقع ہے ۔جہاں آپ کھانا تناول کرتے ہوئے سمندری حیات کا دلکش نظارہ بھی کرسکتے ہیں ۔رات کے وقت یہاں جائیں تو روشنی کے مدو جذر بہت خوبصورت نظر آئیں گے۔


آٹھ لین والی شاہراہ اورمیٹروٹرین
متحدہ عرب امارات میں ہر جگہ صاف ستھری کشادہ سڑکیں موجود ہیں ۔دبئی کی ایک شاہراہ پر تو آٹھ گاڑیاں علیحدہ علیحدہ چل سکتی ہیں ۔اسی شاہر اہ پر آگے بڑھا جائے تو فلوٹنگ برج تعمیر کیا گیا ہے ۔اس پل کی تعمیر کا مقصد وہاں کی دو معروف شاہراہوں اور الفرود برج اور المکتوم برج پر ٹریفک کے بے پناہ دباؤ کوکم کرنا ہے ۔

یہاں کچھ سڑکیں 6لینز کی بھی ملتی ہیں جہاں ٹریفک انتہائی نظم وضبط کے ساتھ رواں دواں رہتا ہے ۔
پورے متحدہ عرب امارات میں جگہ جگہ رفتار منظم کرنے والے سائن بورڈز نصب ہیں اور ان سائن بورڈز کے ساتھ کیمرے بھی نصب ہیں۔یہاں مقررہ رفتار سے زائد تیز رفتاری کے مظاہرے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کئے جاتے ہیں ۔ٹریفک پولیس سے بحث مباحثہ یہاں کا کلچر ہی نہیں پبلک ٹرانسپورٹ میں ٹیکسی کے علاوہ ڈبل ڈیکربس اور میٹرو ٹرین میں سفر کرنا خوشگوار تجربہ ہو سکتا ہے ۔

مختلف جگہوں پر پارکنگ پلازا بھی بنے ہوئے ہیں کوئی بھی اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ گاڑی پارک نہیں کر سکتا۔
بولی ووڈ پارک
یہاں آپ کو بھارتی فلم نگری کے بڑے بڑے ستاروں کی قد آور تصاویر اور سینما ہاؤس میں بھارتی فلمیں دیکھنے کو ملیں گی ۔بھارتی فلمیں عربی زبان میں ڈب کرکے بھی دکھائے جانے کا اہتمام نظر آتا ہے کاش ہماری پاکستانی فلمیں ایسی پذیرائی پاتیں۔


دبئی خریداروں کی جنت
ایسا لگتا ہے یہاں دنیا بھر سے لوگ محض خریداری کے لئے ہی آتے ہیں ۔اےئر پورٹ کے نزدیک کار فور،نامی ایک بہترین مال ہے ۔اسی طرح دبئی مال،رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال یہاں موجود ہے ۔آپ چلتے جاےئے مال ختم ہونے میں نہیں آتا ۔اسی جگہ مچھلی گھر بھی ہے ۔رنگ برنگی مچھلیاں جودیوقامت بھی ہیں ہزاروں لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں ۔


مراحب ہوٹل کے عصرانے
ویسے تو پورے عرب امارات میں کانٹی نینٹل ،چائنیز،پاکستانی ،ہندوستانی ،تھائی اور سنگا پورئین ڈشز بھی مل جاتی ہیں جن کے مخصوص ریسٹورنٹس بھی ہیں مگر جب آپ کسی دوسری جگہ کی مخصوص ثقافت سے روشناس ہوتے ہیں تو مقامی کھانے ہی چکھتے یا کھاتے ہیں ۔عربی کھانوں میں مندی اور مندی خاصا لطف اندوز کرنے والی دشز ہیں جو اب کراچی کے ریسٹورنٹس میں بھی پاکستانی ذائقے کے ساتھ دستیاب ہورہی ہیں ۔


دبئی میں یہ ذرا کم تیکھی دستیاب ہوتی ہیں ۔میٹھے میں کنافہ ان کے شاہی ٹکڑے ہیں جنہیں جو نہ کھائے تو جانئے کچھ کھایا ہی نہیں ۔ان تمام جگہوں کے علاوہ ابو ظہبی کے ساحلی،صحرا خصوصاً عجمان ،فجیرہ کی الہدیا
مسجد ،ڈیرہ کے بازار کہ جہاں دستکاریاں بہت خوبصورت ملتی ہیں اور شارجہ کا عجائب گھر دیکھنے کی جگہیں ہیں ماننے کی بات ہے دنیا میں کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں سے جا کر لوٹنے کو جی نہیں چاہتا ۔دبئی بھی ایسا ہی ایک سحر انگیز اور عجوبہ روزگار شہر ہے۔

تاریخ اشاعت: 2018-12-27

Your Thoughts and Comments