بند کریں
ادب سفر نامہبھلوال سے واخننگن قسط 7 ۔۔۔۔۔۔۔ پیرس 420 کلومیٹر

مزید سفر نامہ

-

مزید عنوان

بھلوال سے واخننگن قسط 7 ۔۔۔۔۔۔۔ پیرس 420 کلومیٹر
یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ہم ہالینڈ آئیں، شنگن ویزہ ہمہ وقت جیب میں ہو اور ہم خوابوں کو تعبیر ہوتا دیکھے بغیر واپس چلے جائیں۔ بیلجیئم خود دیکھ آئے، لکسمبرگ کورس والے لے گئے، جرمنی میں کولون کا میلہ لوٹ لیا، فرینکفرٹ تک گھوم آئے، مگر پیرس اب بھی خواب ایسا تھا
مصنف : ظہیر پراچہ

یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ہم ہالینڈ آئیں، شنگن ویزہ ہمہ وقت جیب میں ہو اور ہم خوابوں کو تعبیر ہوتا دیکھے بغیر واپس چلے جائیں۔ بیلجیئم خود دیکھ آئے، لکسمبرگ کورس والے لے گئے، جرمنی میں کولون کا میلہ لوٹ لیا، فرینکفرٹ تک گھوم آئے، مگر پیرس اب بھی خواب ایسا تھا۔ سنڈی سے پوچھا، بولی "پیرس کون سا بھاگا جا رہا ہے، ویسے پیرس کس کو ملنے جانا ہے۔" "ہے ایک الہڑ حسینہ۔"، "مجھ سے خوبصورت ہے کیا؟"، "تم کس کھیت کی مولی ہو اس کے سامنے؟"، "ویسے ہے کون؟ میں تو جیلس ہوئی جا رہی ہوں اس ان دیکھی حسینہ سے" ،"جینا لولو بریجیڈا" ، "اچھا وہ نوٹرے ڈیم والی بڈھی چڑیل" ، "ہاں مگر ہمارے ذہن میں تو وہ اب بھی ویسی ہی ہے بل کھاتی، لچکتی، جپسی گرل، مگر تم کیا جانو۔" انجم کو لگتا تھا دلچسپی ہی نہیں تھی، ویسے بھی اس کی دلچسپی چلتی پھرتی چیزوں میں زیادہ تھی۔ ملک حمید صاحب کا رویہ "ہوں نہ ہاں، مہنتاں دی گاں" والا تھا۔ محمود سے بات ہوئی، جواب ملا "دانے مک گئے ہیں۔" حسین بھی مصری تھا، اس سے کہا، بولا "اپنے اہرام کو چھوڑ کر دوسروں کے ہرم کو کیا دیکھنا۔" ارشد ملائیشیا سے تھا، کہنے لگا "میں تو پہلے ہی اپنے خرچ پر ہوں، مزید کی ہمت نہیں۔" انا سے پوچھا، کہنے لگی "انتظار کرو۔" سچ کہتی تھی۔ آخر ایک اور کورس والوں کو ترس آ ہی گیا اور ایک ٹرپ پلان کر لیا۔ پروگرام کیا تھا جوگی والا پھیرا تھا۔ رات دو بجے چل کر اگلی رات دو بجے واپسی اور بس۔ سفر کے بارہ گھنٹے نکال کر پیرس کے لئے صرف بارہ گھنٹے، اتنی دیر میں تو پیرس کو چکھا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اتنا وقت تو شانزے لیزے پر مٹر گشت کے لئے بھی کم تھا۔ یہ سوچ کر کہ میسر کو چھوڑ کر نامیسر کی ہوس کرنا کفران نعمت ہے، جانے کی حامی بھر لی۔ ادھر بس سٹارٹ ہوئی ادھر میں وارم اپ ہونا شروع ہو گیا۔ انجم میرے ساتھ بیٹھا تھا۔ تھوڑی دیر تو مجھے برداشت کرتا رہا، آخر تنگ آ کر ڈرائیور کے برابر والی سیٹ پر جا بیٹھا اور لگا میرا کچا چٹھا کھولنے۔ بارڈر پر آنکھ کھلی مگر کوئی خطرہ نہ پا کر پھر وہی میں تھا وہی نیند کی آغوش کشادہ۔ آدھے سے زیادہ سفر گزر گیا تھا جب ڈرائیور نے ہائی وے کے ریسٹ ایریا میں لا اتارا، آدھے گھنٹے میں ناشتے اور دوسری ضروریات سے فارغ ہونے کی ہدایت کے ساتھ۔ ناشتے کی میز پر میں نے انجم سے پوچھا، "ڈرائیور کے ساتھ کیا باتیں ہورہی تھیں میرے بارے میں؟" "کچھ بھی تو نہیں" "اچھا! تو یہ کس کے خراٹوں اور تھائرائیڈ پرابلم کا ذکر تھا؟ میں سمجھا شاید میرا ذکر ہو رہا تھا" ، "تھا تو تمہارا ہی مگر تم تو سوئے ہوئے تھے، ایک لمحے کے لئے بھی تمہارے خراٹے بند نہیں ہوئے" ، "ہاں میں سویا ہوا تھا مگر ذہن کی کھڑکی کھول کر" ، "پھر تو تم بڑے خطرناک آدمی ہو۔" صبح کے آٹھ بجے تھے جب ڈرائیور نے ہمیں پیرس اوپرے کے نواح میں لا اتارا اور خود یہ جا وہ جا۔ وقت کم تھا مقابلہ سخت۔ سو ہم نے جاگر پاوٴں میں اور نقشے ہاتھوں پر چڑھا لئے اور چل سو چل۔ لوور کے باہر شیشے کا جگمگاتا ہرم، فتح کی یادگار، اور ارد گرد کے محلات کی کسی کھڑکی میں ملکہ کیتھرین کی جھلک دیکھنے کی خواہش لئے چارلس ڈیگال چوک سے ہوتے ہوئے اور دریائے سین پر اچٹتی ہوئی نظر ڈال کر آئیفل ٹاور جا پہنچے۔ تاریخ جاننے کا نہ تو ہمارے پاس وقت تھا نہ ضرورت۔ ویسے بھی جب اتنا خوبصورت جغرافیہ سامنے ہو تو تاریخ سے منہ ماری کس لئے۔ اپنی ٹوپی بچانے کے لئے نپولین کے مقبرے کو دور سے دیکھنے میں ہی عافیت جانی۔ جتنی دیر میں ٹکٹ ملتے اتنی دیر میں ادھر ادھر پھر کر کیمرے کی آنکھ سے آئیفل ٹاور کو اپنے ساتھ تصویریں بنوانے کا اعزاز بخشا۔ ایک چالاکی ہم نے یہ کی کہ اپنے سری لنکن ساتھی کرشنا لنگم (نام کے معنی ناقابل بیان) کو فری ٹکٹ کا لالچ دے کر قطار میں لگا دیا۔ لوہے کے فریم سے بنے دس ہزار ٹن وزنی اور ایک ہزار فٹ اونچے آئیفل ٹاور کے اوپر جا کر پہلے تو نپولین پر نظر ڈالنے کی کوشش کی۔ قد تو اس کا اتنا ہی نظر آیا جتنا تھا مگر ٹوپی پھر بھی نہ بچی۔ انجم آئیفل کے دفتر کے باہر کھڑکی سے لگا انتظار کر رہا تھا کہ کب آئیفل کی بیٹی تھامس ایڈیسن کی خدمت سے فارغ ہو اور وہ اس سے گل بات کر سکے۔ اسے محو انتظار چھوڑ کر ہم پیرس کی جھلک دیکھنے لگے۔ وہاں سے پیرس پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالنے سے زیادہ خوشی یہ لکھا دیکھ کر ہوئی کہ لاہور وہاں سے صرف 6164 کلومیٹر ہے۔ یہی راحت اس وقت حاصل ہوئی تھی جب امریکہ میں San Louis Valley میں سات ہزار فٹ کی بلندی پر ہزاروں ایکڑ میں پھیلے sand dunes کا پارک دیکھنے کا موقع ملا اور اس کا موازنہ سکردو کے اتنی ہی اونچائی پر موجود sand dunes سے کیا گیا تھا۔ تھوڑی دیر میں پیرس کا ہوائی جائزہ مکمل ہو گیا تو اگلی منزل نوٹرے ڈیم کا گرجا گھر قرار پایا۔ دریائے سین کے کنارے بنے اس پونے دو سو سالہ قدیم گرجا گھر کے اندر میری نگاہیں کبڑے عاشق کو تلاش کر رہی تھیں اور باہر جپسی گرل کو۔ دونوں میں سے کسی کو نہ پا کر گھنٹے پر الوداعی نظر ڈالی اور میٹرو کی جانب چل دئیے۔ برکینا فاسو کےعلی کو ہم نے اپنے گروپ میں اس لئے شامل کیا تھا کہ سابقہ فرنچ کالونی کا باشندہ ہونے کے ناتے فرانسیسی اس کا لحاظ کریں گے، مگر اس کی تھکی ہوئی فرنچ سن کر ہر کوئی آگے بڑھ جاتا۔ ایک دو موقعوں پر تو شرطوں نے انگریزی میں بھی رہنمائی کرکے French only in France کے تاثر کو دور کر دیا۔ میٹرو سٹیشن کے قریب مکڈانلڈ ٹائپ فوڈ دیکھ کر انجم کا دل مچلا تو اسے اپنے ہاتھوں بنایا ہوا سینڈوچ یہ کہہ کر کھلا دیا کہ سنڈی نے بنایا تھا۔ سچ ہے جنگ، محبت اور پیرس میں سب کچھ جائز ہے۔ ویسے بھی پیرس کی فضا میں کھانے کا کس کو ہوش ہو سکتا تھا سوائے انجم کے۔ پہاڑی پر واقع Sacré-Coeur Basilica ہماری اگلی منزل تھا۔ جنگ ہار کر اٹھاون ہزار جانوں کی یاد میں بنایا گیا یہ گرجا دیکھنے کے قابل تھا، مگر اس کی خوبصورتی گھٹنوں کے بل تین سو سیڑھیاں چڑھتے ان دیوانوں کے پیچھے دب کر رہ گئی جو اپنی کوئی منت پوری کرنے آئے ہوئے تھے۔ ایسے منظر کہاں نہیں ہوتے۔ کوالالمپور میں اسی طرح Batu Caves کی دو سو بہتر سیڑھیاں چڑھتے لنگوٹی میں ملبوس ہندو یاتری یاد آ گئے جن کی سانسیں دھونکنی کی طرح چل رہی تھیں اور پسلیاں جلد پھاڑ کر باہر آنے کو بے قرار۔ یا پھر بھیرہ میں آبائی گھر والی گلی کی نکڑ پر میراں صاحب کی خانقاہ، جہاں دیہاتی بھوکے پیٹوں میراں صاحب کو تنومند بکرا دے کر بچڑا اور ککڑی دے کر بچڑی لینے آتے تھے۔ یا منیلا میں کرائسٹ کے نام پر میخیں ٹھکوائے پھٹے پر لٹکے سوکھے بدن۔ اعتقاد کے نام پر استحصال کہاں نہیں ہے، مشرق ہو کہ مغرب، اظہار مختلف ہیں، شکار ایک سے۔ یہاں سے بھی ہر زاویے سے پیرس کا نظارہ کرنے کے بعد ہم نیچے اتر آئے اور تنگ گلیوں سے ہوتے ہوئے Barbes میں آ نکلے جس پر کسی عرب اکثریتی علاقے کا گمان گزرتا تھا۔ انجم سے نہ رہا گیا اور ہمیں ایک سٹور میں لے گھسا۔ عرب خواتین سامان پر ٹوٹی پڑ رہی تھیں، قیمتیں مناسب مگر سامان نامناسب، ہمارا وہاں کیا کام۔ کچھ آگے سرخ بتیوں والے کلب دعوت نظارہ دے رہے تھے۔ کس کے پاس تانکا جھاکی کا بھی وقت تھا۔ واش روم کی ضرورت دو سڑکوں کے بیچ پبلک واش روم کی طرف لے گئی تو ہمارے پاس مطلوبہ سکے ندارد۔ ہلنے سے بھی معذور تھے اور اندر جانے سے بھی مجبور۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک اور مجبور نے سکے ڈالے اور دروازہ کھول کر اندر جا گھسا۔ میرا پاکستانی ذہن متحرک ہو گیا اور میں دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا۔ جونہی مجبور باہر نکلا، میں دروازہ بند ہونے سے پہلے ہی اندر جا گھسا اور یوں ہم سات مسافر بغیر کچھ خرچ کئے باری باری اپنے اس بوجھ سے آزاد ہو گئے جس نے ہمارے پاوٴں کو بھاری کر رکھا تھا۔ پیرس کی بلدیہ کے کھاتوں میں شاید آج بھی نادہندگان کی فہرست میں ہمارا نام موجود ہو۔ کہتے ہیں پیرس میں موجود آرٹ کے خزانے دیکھنے کے لئے ایک عمر بھی کم ہے، سچ ہی کہتے ہوں گے۔ ہم نے سوچا آدھی عمر اسے دیکھے بغیر گزر گئی ہے تو باقی بھی گزر جائے گی، سو ہم نے لوور کے عجائب گھر کے باہر آرٹ کے چلتے پھرتے اصلی نمونوں کو دیکھ کر تصور کر لیا کہ اندر بھی یہی کچھ ہوگا اور وہ بھی کاغذی پیرہن میں۔ اس لئے یہ ثابت کرنے کو کہ واقعی پیرس سے ہماری مڈ بھیڑ ہو چکی ہے، بھاوٴ تاوٴ کرکے کچھ سوینئر خریدنے پر اکتفا کرکے شام گئے لیڈو کے باہر پہنچ گئے، اپنی آمد کا ثبوت دینے۔ اندر جانے کا وقت تھا نہ حوصلہ۔ شانزے لیزے پر مٹر گشت کے بغیر ایوننگ ان پیرس مکمل تو نہیں ہو سکتی تھی اور وہ بھی ٹوٹے بدن اور بوجھل پاوٴں سے، مگر چوک میں کھڑے ہو کر نظارہ تو کیا جا سکتا تھا، سو ہم نے بھی کیا جگمگاتی روشنیوں، تمتماتی جوانیوں اور زندگی سے لبا لب جسموں کا، کپکپاتے دل کے ساتھ، واپسی کا گجر بجنے تک۔ مقام موعود کی طرف جاتے ہوئے Louis Vuitton پر نظر پڑگئی تو دل مچل گیا۔ پندرہ منٹ میں "دیکھنے ہم بھی گئے" کا دعویٰ تو کیا جا سکتا تھا، سو انجم اور میں ملک صاحب سے یہ کہہ کر اندر چلے گئے "گوڈوں کو ذرا تھامنا اب ہم تو چلے ہیں"، کہ ملک صاحب گوڈوں کے ازلی مریض تھے۔ کرشنا لنگم کو ہم نے بھیج دیا کہ دیر سویر ہو جائے تو بس کو روک لینا۔ پیرس اوپرے سے روانہ ہوئے تو سب خراٹے لے رہے تھے، سوائے ڈرائیور کے، اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بندہٴ ناچیز کے خراٹے اپنے صوتی آہنگ کے باوصف سب سے بلند تھے مگر اب کسے ہوش تھا شکایت کا۔ پیرس کی کشش ایک بار پھر مجھے وہاں کھینچ لے گئی مگر اپنے حسن و جمال، رنگ و بو اور رنگینی و تابانی کے باوجود نویلی دلہن کا سا بانکپن نہ پایا۔ انجم کے بغیر شہر سائیں سائیں کر رہا تھا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ظہیر پراچہ

ظہیر پراچہ کینیڈا میں مقیم ہیں

ظہیر پراچہ کے مزید مضامین پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان