Cahliye Molana Room Ke Dais Istanbul

چلئے مولانا روم کے دیس استنبول

جمعہ اکتوبر

Cahliye Molana Room Ke Dais Istanbul

شاہین ملک

لوگ اشاروں میں اپنا مدعا بیان کرتے نظر آتے ہیں ۔یہاں دیکھنے کو بہت کچھ ہے مثلاً گرینڈ بازار ہی کو دیکھ لیجئے۔یہاں تقریباً 3ہزار کے قریب دکانیں ہیں اور زیر زمین ریل کا مواصلاتی نظام بھی بہت عمدہ ہے بلکہ یہاں تو آپ ٹیکسوں کے جھنجھٹ سے بچے رہیں گے۔
مسجد فتح محمد
گولڈن ہورن کے قریب یہ مسجد کلا سیکی ترک فن تعمیر کا دلکش نمونہ ہے ۔

اس مسجد کی تز ئین کاری میں Baroqueاثر بھی دیکھنے کو ملتا ہے یعنی بہت خوبصورت امتزاج کے ساتھ مسجد قابل دید ہے ۔سب سے اونچا گنبد 26میٹر کے قطر پر مشتمل ہے ۔یہ چار بڑے ستونوں پر پیوست ہے اور چار مختصر قامت کے گنبد اسے سہارا دےئے ہوئے ہیں ،دومینار چھوٹے بھی ہیں اور ان سے جڑی گیلریاں نہایت پر کشش ہیں۔

(جاری ہے)


صوفیہ میوزیم
صرف10لیراتر کی لےئر بطور ٹکٹ خرچ کر لیجئے اور اندر میوزیم میں بیش بہار نوادرات اور تہذیبوں کے عکس دیکھ آےئے یہ قیمت یقینا وصول ہوجائے گی۔

کسی دور میں یہ ایسٹرن آرتھوڈوکس چرچ ہوا کرتا تھا جسے اب دنیا کے اہم عجوبوں میں شمار کیا جانے لگا ہے ۔
Hagia Sophia(ہاگیہ صوفیہ)
ترکی کے شہر استنبول میں واقع یہ عجائب گھر تاریخ کی عظیم عمارتوں میں شمار ہوتا ہے ۔1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد عثمانی ترکوں نے یہ گر جا گھر مسجد میں تبدیل کر دیا۔
1935ء میں اتاترک نے اس کی یہ حیثیت بھی ختم کرکے اسے عجائب گھر بنا دیا۔

لاطینی زبان میں Sancta Sophiaاور ترک زبان میں Ayasofyaکہا جاتا ہے ۔انگریزی میں اسے St.Sophiaبھی کہا جاتا ہے ۔یونیسکو نے 1985میں اسے عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دیا تھا ۔
یہاں آپ کو جگہ جگہ اسلامی عبارات لکھی نظر آتی ہیں اور حضرت مریم کی وہ شبیہہ بھی موجود ہے جس میں وہ حضرت عیسیٰ کو گود میں لئے ہوئے ہیں ۔آیا صوفیہ کی جنوبی دیوار پر چھوٹے چھوٹے پتھروں سے بنائی گئی ایک شبیہہ 14ویں صدی عیسویٰ کی ہے ،جسے تجدید اور مرمت کے بعد پھر سے بحال کر دیا گیا ہے ۔


ہاگیہ صوفیہ کے پاس مسلمانوں کی تاریخی عمارات اور بھی ہیں مثلاً نیلی مسجد جس کا اصل نام مسجد سلطان احمد ہے ۔ترک قوم پرستوں کا یہ موقف ہے کہ ہاگیہ صوفیہ سلطان محمد کی جانب سے قسطنطنیہ فتح کرنے کی ایک اہم علامت ہے ،اسی لئے اسے مسجد میں بدل دینا چاہئے۔
مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ کا مزار
اس مزار کے چار گیٹ ہیں جو صبح 9بجے کھلتے ہیں ۔

ایک جانب مولانا شمس تبریز رحمتہ اللہ کی مسجد اور مرقد ہے ۔
گیٹ نمبر1درویش گیٹ ہے جہاں سے صرف مولانا کے حلقہ ارادت تربیت یافتہ درویش اندر داخل ہو سکتے تھے۔
گیٹ نمبر 2شہزادوں اور مولانا کے رشتہ داروں کے لئے مخصوص تھا۔
گیٹ نمبر 3کوگستاخانہ گیٹ کہتے ہیں ۔مولانا رومی رحمتہ اللہ کے مزار پر مراقبہ کرنے والے جو درویش سلوک کی منزلیں طے نہ کر سکتے انہیں اس گیٹ سے باہر کا راستہ دکھایا جاتا تھا۔


گیٹ نمبر4گیٹ خاموشاں ہے جہاں سے صرف جنازے گزراکرتے تھے۔مزار کے باہر مختلف کمروں میں مولانا رومی رحمتہ اللہ سے متعلق مختلف اشیاء،درویشوں کے کپڑے ،مراقبہ کا کمرہ ،مولانا کا کچن اور استعمال کی دوسری اشیاء رکھی گئی ہیں ۔درویشوں کے مجسمے دیکھ کر ایسا لگتا ہے ہم مولانا کے دور میں واپس آگئے ہیں ۔درویشوں کی مختلف قسم کی لمبی،گول ٹوپیاں ،پگڑیاں اور مختلف سائز کی خوبصورت پازیب ،مولانا سلطان ولد فرزندار جمند مولانا رومی رحمتہ اللہ کا جبہ،پگڑی اور دوسری اشیاء بھی رکھی ہوئی ہیں ۔


مولانا کے مزار کے باہرتین چھوٹے چھوٹے مقبرے ہیں جن میں ایک حریم پاشا کا،دوسرا سنان پاشا اور تیسرا فاطمہ خاتون کا ہے اور ایک دلچسپ تعمیر مختلف پیالوں کی ہے ۔ایک پیالہ دس فٹ اونچا ہے اور اس چار فٹ چوڑے پتھر پر نو پیالے بنے ہوئے ہیں ۔سب سے اوپر ایک پیالہ پھر ذرا نیچے دو پیالے ،ان کے نیچے تین پیالے اور پھر ذرا نیچے دو پیاے ۔
ان کے نیچے پھر تین پیالے اور آخر میں سب سے نیچے ایک پیالہ یہ پیالے اس ترتیب کے ساتھ بنائے گئے تھے کہ سب سے اوپر کے پیالے کا پانی نیچے کے دو پیالوں میں گرتا تھا پھر ان سے نیچے تین پیالوں میں سے پانی نیچے کے دو پیالوں میں سے ہوتا ہوا آخر میں ایک بڑے پیالی میں گرتا تھا یہ دارصل ایک سبیل ہے مگر بے حد انوکھی اور دلچسپ بھی ہے ۔


یہاں ہمیں گائید نے بتایا کہ اس سبیل میں انسانی زندگی کی پوری فلاسفی چھپی ہوئی ہے سب سے اوپر والا پیالہ ظاہر کرتا ہے انسان دنیامیں اکیلا آتا ہے ۔نیچے دو پیالے ظاہر کرتے ہیں کہ جو ان ہونے پر اس کی شادی ہوجاتی ہے ۔اس کے نیچے تین پیالے ظاہر کرتے ہیں کہ شادی کے بعد بچے ہو جاتے ہیں ۔بچے جوان ہو جائیں اور ان کی شادی ہو جائیں تو بوڑھے میاں بیوی دونوں پھر اکیلے رہ جاتے ہیں اور آخری پیالہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان جس طرح شروع میں اکیلا دنیا میں آیا تھا ایسے اکیلا ہی چلا جائے گا۔


مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ مثنوی جسے یاد ہو وہ ترکی میں بہت انجوائے کرے گا۔مزار کے چبوترے پر لکڑی کا ایک تابوت پڑا ہے جوکمال فنکاری کا اعلیٰ نمونہ ہے ۔یہ اخروٹ کی لکڑی سے سلجو قی عہد کے فن چوب کاری کے انداز میں بنایا گیا ہے ۔لکڑی کی باریک جالیاں اور ان جالیوں پر قرآنی یات ہاتھ سے کندہ کی گئی ہیں ۔
یہ تابوت مولانا رومی رحمتہ اللہ کے لئے بنایا گیا تھا لیکن اس وقت ان کا مزار پتھر سے تعمیر ہو چکا تھا ۔

اس لئے یہ تابو ت مزار کے قریب ویسے ہی رکھ دیا گیا تھا ۔تابوت کے اوپر بھی سبزرنگ کا عمامہ دھرا ہے ۔قبرص کو فتح کے بعد سلطان علی پاشا نے چاندی کے شمع دان بنوا کر مولانا کے مزار پر رکھوائے تھے،وہ بھی یہاں موجود ہیں ۔
مزار کے گرد چاندی کا تین فٹ اونچا جنگلہ ہے یہیں ایک قیمتی ڈبیہ میں نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک بھی رکھا ہے ۔

مختلف ملکوں کے زائرین ہر روز عقیدت کے پھو نچھاور کرنے یہاں آتے ہیں ۔ایک قرآن شریف جسے چاندی سے لکھا گیا ہے اسے رات کے وقت چاند کی روشنی میں پڑھا جا سکتا ہے ۔باقی مولانا رحمتہ اللہ کے مزار پر اطمینان ہے ،سکون اور روشنی ہی روشنی ۔
ایک مشہور مورخ گبن نے استنبول کو دنیا کا زندہ شہر کہا تھا اور واقعی صحیح کہا تھا ۔

تاریخ اشاعت: 2018-10-26

Your Thoughts and Comments