Ehad Rafta Ki Shaan O Shikwa

عہد رفتہ کی شان وشکوہ

بدھ مارچ

Ehad Rafta Ki Shaan O Shikwa

پروفیسر ڈاکٹر محمد افضل
سرینگر جموں اور کشمیر کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔ سری کے معنی خوبصورت اور نگر شہر کو کہتے ہیں۔ اس کی آبادی تقریباً 5 لاکھ ہے۔ شہر جموں سطح سمندر سے تقریباً نو سو فٹ بلند اور سرینگر سطح سمندر سے پانچ ہزار تین سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ شہر شہر جھیلوں‘ ہاؤس بوٹ شکارا (چھوٹی کشتیاں) اور مغلیہ دور کے حسین و جمیل باغات کی وجہ سے مشہور ہے۔

بھارت کے دوسرے شہروں سے بالکل مختلف ہے۔ یہ دریائے جہلم کے کنارے پر واقع ہے یہاں پر چھوٹی چھوٹی تنگ گلیاں ہیں جن میں سیاح اکثر سیر کرتے ہوئے گم بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ شہر فن کا مرکز اور علم کا گہوارہ بھی رہا ہے۔ کئی سو سال پہلے یہاں ایک یونیورسٹی بھی قائم کی گئی۔ سرینگر کے دو حصے ہیں۔ پرانا اور نیا شہر‘ پرانا شہر بدھ مذہب کے پہلے بادشاہ اشوکا نے دو ہزار سال قبل آباد کیا اور آج کل کا نیا شہر راجہ پر اور اسینا (79 ء سے 139ء ) نے آباد کیا اس نے اس کا نام میرا پرا پورا رکھا۔

(جاری ہے)

معروف چینی سیاح ھیو آن سنگ نے 630 میں جب اس شہر کا دورہ کیا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھا کہ یہ شہر دریائے جہلم کے دائیں کنارے پر واقع ہے۔ یہ شہر شمال سے جنوب کی طرف چار کلو میٹر لمبا اور مشرق سے مغرب کی طرف دو کلو میٹر چوڑا ہے۔
ڈل جھیل دراصل تین حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ یہ جھیل پانی کے پچیدہ راستوں پر مشتمل ہے اور تقریباً پانچ کلو میٹر لمبی ہے۔

پانی پر سبزیوں کے چھوٹے چھوٹے باغات جزیرے اور ہاؤس بوٹ یعنی کشتی گھروں پر مشتمل ہیں۔ جھیل کا ایک حصہ پانی کے راستے ناگن جھیل سے ملا ہوا ہے۔ دریائے جہلم کے کنارے چھوٹے چھوٹے پیارے راستے ہیں جن پر آپ باآسانی سائیکل پربھی گھوم پھر سکتے ہیں۔ ڈل گیٹ کے مقام پر جھیل کا ٹھنڈا اور صاف شفاف پانی دریائے جہلم میں مل جاتا ہے۔ پھر کئی کلومیٹر دور وولر ڈیم کی جھیل میں ضم ہو جاتا ہے۔

وولر ڈیم سے آگے دریائے جہلم پاکستان کا رخ کر لیتا ہے۔ہم نے ائرپورٹ سے ٹیکسی لی اور سیدھے سرینگر کی ڈل جھیل کے کنارے پہنچے۔ ایک پندرہ فٹ چھوٹی کشتی پر بیٹھے۔ جسے ’’شکارا‘‘ کہتے ہیں۔ ہم نے شکارا پر سامان رکھا اور اپنے ہاؤس بوٹ کی طرف روانہ ہو گئے۔ سرینگر میں ہوٹل میں رہنے کا تصور ناپید ہے۔ سب سیاح انہیں ہاؤس بوٹ پر رہ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اس جھیل میں بے شمار ہاؤس بوٹ ہیں۔ جس ہاؤس بوٹ میں ہم نے قیام کرنا تھا اس کا نام نانگا پربت تھا۔ ایک خوبصورت اخروٹ کی لکڑی کی بنی ہوئی بڑی کشتی۔ ایک چھوٹی سی سیڑھی سے چڑھ کر ہم ہاؤس بوٹ کے مختصر سے صحن میں داخل ہوئے۔ ہمارا سامان احمد علی نامی ملازم اندر لے گیا۔ معراج دین چاپڑی صاحب جو اس کشتی گھر کے مالک تھے نے ہمارا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا۔

یہ بالکل ایک گھر کی طرح تھا۔ بیٹھک اور ڈرائنگ روزم‘ دو تین کمرے اور پھر باتھ روم اور کچن‘ غسل کیلئے گرم اور ٹھنڈا پانی ہر وقت دستیاب ہوتا ہے۔ اس خوبصورت کشیدہ کاری کی ہوئی اخروٹ کی لکڑی کی بنی ہوئی ہاؤس بوٹ کی قیمت تقریباً 25 لاکھ روپے بتائی گئی۔ شام کو کبھی کبھار ہم سیڑھی سے وسیع چھت کے اوپر چڑھ جاتے وہاں پر ایک خوبصورت چھتری اور اسکے نیچے میز کرسیاں رکھی ہوتی ہیں۔

ان پر گھنٹوں براجمان ہوتے۔ سستاتے اور نظاروں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ وہاں سے ہم اس وسیع جھیل کا نظارہ کرتے۔ جھیل کے دوسری طرف حد نظر پہاڑوں کا سلسلہ ہے۔
چھوٹی کشتیوں یعنی شکارا پر تاجر Floating Mer-chants پھل فروٹ سبزیاں مٹھائیاں شالیں اور کپڑے بیچنے آتے ہیں۔ اس طرح کشتیوں پر زمرد‘ فیروزے‘ نیلم‘ پکھراج غرضیکہ طرح طرح کے خوبصورت موتی ارزاں قیمت پر بھی بیچتے آتے یہ چلتی پھرتی دکانیں ہیں اور ہاؤس بوٹ والے سیاحوں کے استعمال کیلئے ان کشتیوں سے سبزیاں اور پھل خرید کر لذیذ کھانے پکاتے ہیں۔

جب ہم اپنی کشتی شکارا پرجھیل کی سیر کرنے نکلے تو گل فروش بچے اور بچیاں اپنی چھوٹی کشتیوں پر رنگ برنگے خوبصورت تازہ پھول بیچنے آتے۔
ہم نے جب ہاؤس بوٹ پر قیام کیا تو ہچکولے ہمہ وقت محسوس کرتے۔ کھاتے پیتے چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے لیٹتے سوتے‘ پانی کی لہروں پر تیرتے رہتے یہ ایک انوکھا تجربہ تھا۔ کبھی کبھار رات کو آنکھ کھل جاتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے زلزلہ ہو۔

تھوڑی دیر بعد احساس ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہیے۔ رات کو بجلی اکثر چلی جاتی تو لالٹین جلائی جاتی۔ کشتی پر مدہم روشنی میں کھانا کھاتے۔ درمیاں میں لالٹین اور پھر کشمیری قورمہ اور دیگر کشمیری لذیز کھانے دستر خوان پر بچھے ہوتے ہر کھانے میں چاول ضروری ہوتے ہیں۔ پہلے دن ہی ہم نے روٹی کی فرمائش کر دی تو معراج دین صاحب نے کہا ’’ڈاکٹر صاحب آج آپ ہمارے مہمان ہیں اور وادی کشمیر میں اگر کوئی مہمان آ جائے اور چاول کے بجائے روٹی پیش کی جائے تو بہت برا منایا جاتا ہے۔

’’میں نے جواباً کہا‘‘ پاکستان میں بھی دال پکا کر دستر خوان پررکھ دی جائے تو مہمان برا محسوس کرتے ہیں‘‘
ہاؤس بوٹ پر فرج نہیں ہوتے۔ اسی طرح مشروبات کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے بھی بوتلیں جھیل میں رکھی جاتی ہیں۔ یہ ایک قدرتی فریج کا کام دیتا ہے۔ اسی طرح پھل فروٹ اور سبزیاں بھی ٹھنڈی رکھھنے کیلئے جھیل میں اتار دیتے ہیں اور حسب ضرورت استعمال کیئے نکال لی جاتی ہیں۔

شام کو اکثر سویٹر پہننا پڑتا تھا اور رات کو خاصی ٹھنڈک ہو جاتی تھی۔ اس جھیل کے کنارے حضرت بل کی مسجد ہے جہاں حضور ﷺ کا موئے مبارک بھی ہے۔ اسی طرح شیخ عبداﷲ کا مزار اور باغات کا سلسلہ بھی نہر کے چاروں طرف ہیں۔ جھیل کے مشرق اور شمال کی جانب اونچے اونچے پہاڑ ہیں جو سردیوں میں برف سے ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں۔
ڈل جھیل میں تیرتے باغات Floating Gard-ens ایک دلچسپ حسین اور انوکھی بات ہے۔

جو دنیا میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتے۔ جھیل میں سے جڑی بوٹیاں کاٹ کر اکٹھی کر لی جاتی ہیں۔ اسکا جال بنا جاتا ہے اور اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے۔ پھر اس پر کاشت کی جاتی ہے۔ ان تیرتے باغات کو کشمیری زبان میں رد کہا جاتا ہے۔ اس پر طرح طرح کی پھل اور سبزیاں مثلاً تربوز‘ٹماٹر‘ بھنڈی‘کریلے‘ کھیرے وغیرہ لگائے جاتے ہیں۔ کبھی کبھار صبح باغبان جب گھر کی کھڑکی کھول کر دیکھتا ہے تو باغ ندارد یعنی باغ چوری ہو چکا ہے۔

ایسی انوکھی بات کہیں اور نہیں ہوتی۔
اس بڑی جھیل میں تین جزیرے ہیں۔ ایک جزیرے کا نام چار چنار ہے کیونکہ اس چھوٹے جزیرے پر چنار کے چار درخت ہیں۔ ہم شکارے سے اس چھوٹے اور خوبصورت جزیرے پر اترے۔ وہاں پر ایک چھوٹا سے قحبہ خانہ بھی ہے۔ اس جزیرے پر چنار کے ایک درخت کے نیچے ایک فوٹو گرافر سیاحوں کو کشمیری لباس جسے پھیرن کہتے ہیں۔ یہ ایک اور کوٹ کیطرح ہوتا ہے اسے پہنا کر سیاحوں کی تصاویر کھینچتے ہیں۔

ہم نے بھی کشمیری پھیرن پہن کر تصوبر بنوائی۔ فوٹو گرافر نے ایک بڑی تصویر درخت کے ساتھ آویزاں کی ہوئی تھی۔ ہم نے فوراً پہچان لی کہ یہ ایک پاکستانی کھلاڑی کی ہے۔ میں نے پھر بھی اس سے پوچھا ’’بھائی آپ کو پتہ ہے یہ تصویر کس کی ہے؟‘‘ تو وہ فوراً بولا کہ ‘‘ یہ تو ہمارے کرکٹر وسیم اکریم کی تصویر ہے۔ یہ بہت اچھا آل راؤنڈر ہے۔

’’ہم مسکرا دیئے اور کہا یہ تو پاکستان کا کھلاڑی ہے۔ کہنے لگا ایک ہی بات ہے۔ ان کی پاکستانیت کو دیکھ کر ہم بہت خوش ہوئے اور حیران بھی۔ ایک جزیرہ روپا ہے۔ ایک اور جزیرے پر نہرو میموریل پارک ہے سیرگاہ کے علاوہ یہاں پر گرمیوں میں شام کو ناچ گانے کی محفل بھی ہوتی ہے۔ ایک طرف کبوتر خانہ ہے۔ جو مغلیہ دور کی پرانی یادیں تازہ کرتی ہے۔

ایک زمانے میں مغلیہ دور میں کبوتر پیغام رسائی کے کام آتے تھے۔ اس جگہ پر اعلیٰ نسل کے کبوتر رکھے جاتے تھے جو ملکہ نورجہاں اورشہنشاہ جہانگیر کے محبت نامے اور خط لے جاتے تھے۔ ایک اور طرف جا نکلے تو دیکھا کہ کشتیوں پر ایک پورا بازار ہے۔ جس میں شالیں‘ پشمینہ کی دکانیں‘ قیمتی پتھروں کی دکان جن میں فیروزہ زمرد‘ یاقوت اور بہت سے قیمتی پتھر ارزاں فروخت ہوتے ہیں۔

کچھ خریداری کر کے ہم کشتی گھر پر واپس آئے اور آرام کیا۔ شام کو پھر سیاحت کیلئے نکل پڑے۔ کشمیریوں میں جو جوش و جذبہ اور ولولہ دیکھا جو میں نے تحریک پاکستان کے بارے میں اپنے والد اور دیگر لوگوں سے سنا اور کتابوں میں پڑھا۔ لگتا ہے کہ وادی کشمیر کے مسلمان ان لوگوں کی طرح ہیں جو 1947 ء زمانے میں پاکستان میں رہتے تھے۔ نیک‘ پرخلوص‘ بااخلاق‘ انصاف پسند‘ اصول پرست‘ یہ ساری خوبیاں جو سرسید احمد خان‘ قائداعظم محمد علی جناح‘ علامہ اقبال‘ مولانا شوکت علی جوہر‘ مولانا محمد علی جوہر‘ نوابزادہ لیاقت علی خان جیسے لیڈروں میں تھیں اور مسلمانوں کے لئے مشعل راہ بنیں۔

نتیجتاً پاکستان وجود میں آیا لیکن پاکستان کے آزاد ہونے کے بعد یہ خوبیاں پورن ماشی کے چاند یعنی چودھویں کے چاند کی طرح گھٹتی جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے نام نہاد رہنماؤں‘ سیاست دانوں‘ اسران اور سربراہان ہیں یہ خوبیاں کم ہی پائی جاتی ہیں۔ اﷲ ہمیں قائداعظم محمد علی جناح جیسے بے لوث قائد دے اور وادی کشمیر میں بسنے والے مسلمان جن میں پاکستانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کی طرح ہمیں بھی ایسے ہی جذبے سے سرشار کر دے۔

(آمین اس دعا کے ساتھ ہی ہاؤس بوٹ کے ہچکولوں نے ہمیں نیند کی آغوش میں دھکیل دیا۔
اگلی صبح آنکھ کھلی تو چڑیوں کے چہچہانے کی آواز آئی اور پھر سورج کی کرنیں پہاڑوں کی اوٹ سے ہمارے ہاؤس بوٹ کی کھڑکی سے اندر جھانکنے لگیں۔ تکیے سے سر اٹھا کر کھڑی سے باہر دیکھا تو پانی کی چمکتی لہروں پر چھوٹی چھوٹی کشتیاں سبزیاں پھل فروٹ اور دیگر سامان لے کر دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں قطار اندر قطار چل رہی تھیں۔

جھیل کے اس پار باغات ایک دلکش نظارہ پیش کر رہے تھے۔ صبح غسل کیا اور پھر تیار ہو کر انہیں باغات کی سیر کو نکل پڑے۔
شہنشاہ جہانگیر نے اپنی کتاب تزک جہانگیری میں کشمیر جنت نظیر پر یہ سطور خود رقم کئے۔ کشمیر ایک سدا بہار باغ ہے۔ یہاں کے دلکش اور دلفریب مرغزار اور کیف آ گئیں روح پرور آبشار توصیف و تعریف سے مستغنی ہیں۔ ان مرغزاروں اور آبشاروں کی خوبصورتی کی تصویری قلم نہیں کھینچ سکتا۔

یہاں ان گنت چشمے ہیں۔ جن کا بہتا ہوا پانی انسان کے دل میں ایک عجیب کیف و سرور پیدا کرتا ہے جہاں تک نگاہ پہنچتی ہے سرسبزی و شادابی مرغزار و چمن اور بہتے ہوئے چشموں کے سوا کچھ نہیں آتا۔ سرخ گلاب اور نرگس وغیرہ کی یہاں بہتات ہے۔ پھولوں کی اتنی کثرت ہے کہ شمار نہیں کئے جا سکتے۔ بہار کے کیف آ گئیں و نشاط انگیز موسم میں کشمیر کی تمام ادیان اور باغ پھولوں سے بھر جاتے ہیں۔

مکانوں کی دیواروں‘ دروازوں‘ چھتوں‘ غرض جدھر بھی نگاہ دوڑایئے آپ کو پھول ہی پھول نظر آئیں گے۔ بادام اور شفتالو کے باغوں کے دلفریب مناظر بہترین اور ازحد دلکش ہوتے ہیں۔ والد مرحوم کی ہمراہی میں اکثر زعفران کے کھیتوں کے گرد گھومتا اور خزاں کے پربہار موسم کا نظارہ کیا کرتا تھا۔ اس سے آنکھوں کی طراوت اور دل کو خوشی حاصل ہوتی تھی۔


شہنشاہ جہانگیر کی سرپرستی میں کشمیر نے حسن و جمال کی اعلیٰ ترین منزلیں طے کیں۔ جہانگیر کا جمالیاتی ذوق تھا۔ اس نے ہر خوبصورت منظر کا حظ اٹھایا اور یادگار باغات اور عمارتیں بنائیں۔ ان کی اکثر یادگاریں آج بھی موجود ہیں۔ وہ اکثر کشمیر بذریعہ بھمبر روانہ ہوتے۔ بھمبر سے کشمیر تک شاہی قافلے کو چوبیس پڑاؤ پڑتے تھے۔ کل فاصلہ پنتالیس کوس ہے۔

(ایک کوس پانچ کلو میٹر کے برابر ہوتا ہے)
شاہ جہاں نے بھی کشمیر کا چار مرتبہ دورہ کیا۔ اس نے کشمیر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیئے۔ اس کے زمانے میں عالی شان عمارات اور محل تعمیر کئے گئے۔ حسین اور دلکش باغات لگائے گئے اور زراعت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ شاہ جہاں نے جب کشمیر کا دورہ کیا تو فرحت بخش باغ کی رنگینی اور سرسبزی سے بے حد متاثر ہوا۔

دورہ سرینگر میں ہمیں ان باغوں میں سے سب سے زیادہ حسین نشاط باغ لگا۔ اسے ملکہ نورجہاں کے بھائی آصف خان نے ڈل جھیل کے جنوب میں تعمیر کروایا تھا۔ اس کے نو درجے ہیں ہر درجے میں ایک ایک آبشار اور ہر آبشار پر ایک عمارت ہے۔ باغ کے شروع میں ایک خوبصورت عمارت بنائی گئی ہے جس کا رخ ڈل جھیل کی طرف اور دوسرا باغ کی جانب۔ نشاط باغ کے عقب میں عظیم الشان پہاڑ اسے اپنی آغوش میں لئے ہوئے ہیں جو سارا سال سرسبز اور ترو تازہ رہتے ہیں۔

اسی طرح بے شمار امراء اور شہزازوں نے رنگین شگفتہ اور دلکش باغ بنائے۔ داراشکوہ نے سرینگر سے دور بیچ بہارہ کے مقام پر ایک خوبصورت باغ اور محل بنایا۔ اور پھر اپنے والد شاہ جہاں کو یہاں آنے کی دعوت دی۔ والد کی آمد پر دارا نے رات کو چراغاں بھی کیا۔
اسی طرح ہم نے سرینگر میں جھیل کے کنارے شالامار باغ کی سیر کی جو انتہائی حسین ہے۔ یہ لاہور کے شالامار باغ سے زیادہ خوبصورت ہے کیونکہ یہاں سے پانی پہاڑوں کے دامن سے پھوٹتے ہوئے قدرتی چشموں سے آتا ہے۔

جب کہ شالامار باغ میں ایسا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ جہان نے لاہور میں کشمیر کے باغات کی تقلید کرتے ہوئے شالا مار باغ بنوایا تو اس میں زمین سے ان گنت کنوؤں کے ذریعے پانی حاصل کیا جن کو سینکڑوں بیلوں کی مدد سے نکالا جاتا تھا۔
سرینگر سے ٹیکسی پر بیٹھ کر ہم اسلام آباد پہنچے (جو پہلے اننت ناگ کہلواتا تھا) یہ راستے میں ایک چھوٹا قصبہ جس کا نام اننت ناگ تھا۔

یہاں پہنچنے پر شاہ جہاں نے اپنے دور حکومت میں اس کا نام بدل کر اسلام آباد رکھا۔ اس طرح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نام کی ابتدا شاہ جہاں کے زمانے سے ہی ہو گئی تھی۔ عالمگیر اپنے دور حکومت میں سیاسی و جنگی مصروفیات کی وجہ سے صرف ایک دفعہ کشمیر آ سکا۔
کشمیر میں سرسبز چاروں اطراف نظر آتا ہے۔ پھل اور ہریالی ہر موسم کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔

موسم بہار میں بادام کے درخت پھل دار نظر آتے ہیں۔ اپریل کے مہینے میں جب پہاڑوں پر سے برف پگھلنا شروع ہوتی ہے تو اس وقت چنار کے درختوں پر پتے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔ موسم بہار کی آمد کا اعلان کرتے ہیں۔ تازہ اور لذیذ چیری سٹرابری (Cher- Strawbereies) مئی میں بازار میں فروخت ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جون میں آڑو اور خوبانی اور جولائی میں سیب بازار کا حسن دوبالا کرتے ہیں۔

مئی اور جون میں چلتے پانی کا شور شرابہ وادی کے حسن کو دوبالا کرتا ہے۔ پانی سفید برف پوش پہاڑوں سے پگھل کر زمینداروں کے بنائے گئے راستوں پر سے ہوتا ہوا چاول اور گندم کی فصلوں کو پانی دتیا ہوا آگے بڑھتا جاتا ہے۔
انہی مہینوں میں کشمیر کی حسین دوشیزائیں رنگا رنگ لباس اوڑھے ٹولیوں کی صورت میں گانے گاتی گنگناتی نیچے جھکی ہوئی چاول کے چھوٹے چھوٹے پودے لگاتی نظر آتی ہیں۔

یہ منظر آپ کو وادی کے ہر کھیت میں نظر آتا ہے۔ ایک ایسے ہی کھیت کے قریب سے گزرے تو ڈرائیور احمد نے بتایا کہ بھارت کے فوجی جب اس علاقے میں آتے ہیں تو کئی دفعہ کھیتوں میں اکیلی کام کرتی ہوں لڑکیوں کو اغواء کر کے اپنے کیمپوں میں لے جاتے تھے اور ان کے ساتھ اجتماعی ظلم و زیادتی ک مرتکب ہوتے۔ پھر اس کے بعد لڑکوں کا کچھ پتہ نہ چلتا۔ غالباً ان کو قتل کر دیا جاتا اس کے بعد خواتین ایک گروپ کی شکل میں کھیتوں میں کام کے لئے جاتی ہیں تاکہ مل جل کر اپنا دفاع کر سکیں اور ان درنوں سے محفوظ رہ سکیں۔


سرینگر کے مضافات کی سیر کرتے ہوئے ہم اکثر قصداً پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے گم ہو جاتے۔ چنار کے درخت جو پتوں سے بھرے ہوتے تھے ان کے سائے تلے میلوں دور نکل جاتے تھے۔ کبھی کبھی ہم پہاڑوں پر چڑھ جاتے جہاں دیہات کے لوگ دیودار کے درخت کی لکڑی کاٹتے نظر آتے تاکہ نیا گھر بنا سکیں یا ان گھروں کی مرمت کی جا سکے جو برف سے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ بھیڑ بکریاں چرانے والے چرواہے ان کو اونچی چراہ گاہوں پر لے جاتے ہیں۔

پرسکون اور خاموش وادیوں کی سیر سے لطف اندوز ہو کر جب شہر سرینگر میں پہنچتے تو خاصہ شور شرابہ ہوتا۔ پھر ہاؤس بوٹ آرام کے لئے پہنچتے تو ان کو بالکل پرسکون پاتے۔
دوران سفر ہمارے ڈرائیور نے بتایا کہ خزاں کی آمد پر ناشپاتی‘ انار اور اخروٹ تیار ہو چکا ہوتا ہے۔ مرغابی اور دیگر پرندے سردی کی آمد سے قبل نقل مکانی کرتے ہوئے کشمیر میں آ کر تھوڑی دیر رکتے ہیں اور پھر میدانوں کا رخ کر لیتے ہیں۔

نومبر میں پت جھڑ کے فوراً بعد کسی بھی وقت برفباری شروع ہو سکتی ہے۔ ہاؤس بوٹ کے اوپر منوں برف اکٹھی ہو جاتی ہے اور مالک و ملازم مل کر برف ہٹاتے ہیں اور ان کشتی گھروں کو پانی میں برف کے وزن سے دب جانے اور ڈوبنے سے بچا لیتے ہیں۔ سردیوں میں ہر جگہ ہر گھر ہر درخت سفید لباس میں ملبوس نظر آتے ہیں۔ کبھی کبھار ڈل جھیل بالکل جم جاتی اور لوگ اس کے اوپر چلتے ہیں گو یہ خطرناک عمل ہے۔

ہاؤس بوٹ کے مالکان سردی کو کم کرنے کے لئے انگیٹھی جلاتے ہیں اور باہر قالین لٹکا لیتے ہیں تاکہ ٹھنڈی برفانی ہواؤں سے بچا جا سکے۔

ہم جب بھی دوپہر کو یا رات کو تھکے ماندے واپس ہاؤس بوٹ پر پہنچتے تو طرح طرح کے مرغن کھانے ہمارے لئے تیار ہوتے۔ ان کشمیری پرتکلف کھانوں سے ہماری تواضع کی جاتی۔ گشتابہ‘ قیمے کے بنے ہوئے کوفتے جو دہی میں تیار کئے جاتے ہیں نہایت لذیذ ہوتے ہیں۔

اسی طرح رستہ چاول کے بنے ہوئے کوفتے روغن جوش اور یخنی بھی سردیوں میں جسم کو گھر رکھنے کے لئے یہاں کے لوگوں کے لئے موزوں ہے۔ طباق مٹر مرچ رنگن قورمہ میتھی قورمہ کرمہ ساگ جو بڑے بڑے ساگ یا پالک کے پتوں سے بناتے ہیں۔
بہت ہی مزیدار پائے۔ اسی طرح ندوا یخنی دہی میں نرگس کے پتے کشمیری نان جس میں کش مش بادام اور مونگ پھلی ڈالی جاتی ہے نہایت لذیذ ہوتے ہیں۔

فروٹ اور بادام کا پلاؤ مشہور ہے۔ اسی طرح بینگن یا بھنڈی کا کشمیری برتھا مشہور ہے۔ کشمیری چاہئے جس میں ادرک اور الائچی ہوتی ہے۔ یہ برصغیر پاک و ہند میں سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اسی طرح کشمیری قہوہ جس میں بادام اور دودھ ہوتا ہے ہمیں بہت پسند آیا جو اب پاکستان میں شادی بیاہوں کی تقریبات میں عام ہو چکا ہے۔ سیب کا جوس بھی ناشتے میں پیتے اور ڈل جھیل سے حاصل کی گئی ٹراؤٹ مچھلی تل کر پیش کی جاتی تو مزے لے لے کر کھاتے۔

ڈل جھیل میں ٹراؤٹ مچھلی کثرت سے پائی جاتی ہے۔
کشمیری لباس
مرد اور عورتیں کشمیری لباس یکساں زیب تن کرتے ہیں۔ سب ایک چوغہ پہنتے ہیں جسے عرف عام میں پھیرن (پیراھن) کہتے ہیں۔ مسلمان خوبصورت پھیرن ٹخنوں تک اور ہندو گھٹنوں تک پہنتے ہیں۔ عورتوں کے پھیرن اور لباس پر خوبصورت کڑھائی ہوتی ہے۔ موسم سرما میں کشمیری لوگ سردی سے بچنے کیلئے ایک مٹی کی انگیٹھی جسم کے ساتھ لگا کر رکھتے ہیں جسے کانگڑی کہتے ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-03-20

Your Thoughts and Comments