Karachi Ka Safar (tersi Qist)

کراچی کا سفر (تیسری قسط )

نورین شفا بدھ مئی

Karachi Ka Safar (tersi Qist)
پھر بس سے اترکے تھوڑی بہت چہل قدمی کے بعد گھٹنوں کے درد میں کمی محسوس ہونے لگتی۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات کا خوف بھی پیدا ہوتا کہ کہیں یہ درد بس میں پھر سے اپنی سیٹ سمبھالنے کے بعد دوبارہ شروع نہ ہوجائے مگر بد قسمتی سے سفر کے اختتام تک ہر بار اپنی کرسی پہ براجمان ہونے کے ساتھ یہی خدشہ حقیقت میں تبدیل ہوجاتا اور پھر سے وہی درد اور وہی تکلیف۔ اوپر سے اپنے برے سفر کا تو فیصلہ تب ہی ہوچکا تھا جب مجھے پہلی بار اس بات کا علم ہوا تھا کہ کھڑکی کے ساتھ والی کرسی میرے قسمت میں نہیں۔

اپنی زندگی میں جتنے بھی مسافتیں طے کی،ایک اصول جو لازم و ملزوم تھا،جس کا میرے گھر والوں اور یہاں تک کہ دوست واحباب کو بھی علم تھا وہ یہ کہ سفر چاہے جیسا بھی ہو اور گاڑی چاہے کسی بھی قسم کی ہو،کھڑکی اور کھڑکی کے ساتھ والی کرسی نے میرے ہی حصّے میں آنا تھا۔

(جاری ہے)

تو اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے بجائے اس کے کہ کوئی میری جگہ پہ بیٹھنے کی اپنی خواہش ظاہر کرے، خاموشی سے اپنے اس خواہش کا گلہ گھونٹ دیتے یا پھر دوسری کھڑکی کی طرف کا جگہ گھیرنے کے لیے کوششیں شروع کردیتے۔

کھڑکی کی طرف بیٹھ کر طرح طرح کے خوبصورت وادیوں، اونچے اونچے پہاڑوں اور پتھروں سے ٹھاٹھے مارتے دریاوں کے دلکش اور حسین مناظر سے لطف اندوز ہوتے سفر کا تو اپنا ہی مزہ تھا اور ایسے سفر کاسواد چکھنا میری قسمت میں نہ تھا۔ بس ایک ہی خواب جو میں نے اپنے سفر سے متعلق ذہن میں پروان چڑھایا تھا وہ صرف یہی تھا کہ بس میں کھڑکی کے ساتھ ذیرا جما کر اور ساری دنیا سے لاتعلق ہوکر خدا کی شان، عظمت اور بڑھائی کی گواہی دیتے ہوئے بلند و بالا پہاڑوں سے لیکر دور دور تک پھیلے ہرے بھرے میدانوں،جنگلوں، دلکش وادیوں غرض کہ قدرت کے ہر طرح کے خوبصورت، پرکشش اور پرسکون مناظر میں کھوکر طویل سفر کی تلخ حقیقت،اوپر سے اپنے منزل تک پہنچنے کی جلدی اور بے چینی اور ان دونوں کے درمیان انتظار کی سختی جیسے ذہنی خیالات اور دلی جذبات فراموش کردونگی اور ان قدرت کے خاص تاثیر رکھنے والے مناظر سے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل و دماغ کو اطمینان اور سکون پہنچاتی رہونگی مگر سفر سے متعلق یہ خواب خواب ہی رہا اور سفر حقیقت میں اس خواب کے برعکس اختتام پزیر ہوا۔

سفر کے دوران حاصل کردہ تکالیف میں ایک طرف تنگ جگہ کے باعث گھٹنوں کا درد تھا تو دوسری طرف گزرتے وقت کے ساتھ ڈھلتا سورج،شام کی آمد اور آہستہ آہستہ ہر شے کو اپنے سیاہ مائل پردے سے ڈھانپتی ہوئی رات کی تاریخی کے ساتھ اپنے قدم جماتی سخت سردی اور اسی سخت سردی کے زیر اثر کانپتے ہوئے وجود کی تکلیف بھی تھی۔ میں تو بھول ہی گئی تھی کہ دسمبر کی سخت سردی کے احساس میں کافی حد تک کمی سندھ میں داخل ہونے کے بعد یا پھر باقاعدہ کراچی پہنچنے کے بعد محسوس ہوگی باقی کم از کم سندھ کی حدود میں داخل ہونے تک تو اسی خون جما دینے والی ٹھنڈ کے زیر اثر ہی سفر کاٹنا لکھا تھا ۔ ( جاری ہے۔)
تاریخ اشاعت: 2020-05-27

Your Thoughts and Comments