Safr E Ishq - Last Qist

سفرِ عشق - آخری قسط

دانش حسین بدھ اکتوبر

Safr E Ishq - Last Qist


نجف میں ہی دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے جسے وادیِ سلام کہا جاتا ہے۔ یہیں پر دو انبیاءکرام کی مرقد بھی ہیں۔ حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام یہیں پر مدفون ہیں۔ اس قبرستان کی تاریخ، تاریخ ِ انسانی جتنی پرانی ہے۔ اور روایت ہے کہ وادیِ سلام میں 70,000 سے زائد انبیاء کرام علیہم السلام کی قبریں ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں سادات اور شہداء کی قبریں بھی یہاں پر موجود ہیں۔

دنیا کا سب سے بڑا یہ قبرستان آٹھ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے
ایک اور خصوصیت دُرِ نجف ہے۔ وادیِ سلام میں جب بارش ہوتی یے تو وادی میں گرنے والے بارش کے قطرے دُر یعنی پتھر بن جاتے ہیں۔ جسے لوگ انگوٹھی یا لاکٹ میں پہنتے ہیں۔ دنیا بھر میں جتنے بھی دُر نجف ہیں وہ یہیں وادیِ سلام سے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

تبرکات کی خریداری کے وقت آپ کو زبان سے نا آشنا ہونے کی وجہ سے تھوڑی دقت پیش آسکتی ہے۔

لیکن آپ کی رہنمائی کرنے والا یا آپ کے قافلے کا سالار اگر عربی اور فارسی جانتا ہے تو پھر کوئی پریشانی نہیں۔ ہمیں کافی سکون رہا اس معاملے میں۔ کیونکہ ہم جس قافلے کے ساتھ گئے۔ وہ ملتان اور جنوبی پنجاب میں کاروانِ علی حق کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور کاروانِ علی حق کے سالار ندیم عابدی صاحب اور علی حیدر کامران صاحب کے ہمراہ ہونے کی وجہ ہمیں احساس ہی نہ ہوا کہ ہم عربی یا فارسی نہیں جانتے


وادی ِسلام کے بعد ہم نے رخ کیا کوفہ شہر کا۔

جہاں مسجد کوفہ ہےاور حضرت امام علی رضی اللہ عنہ کا گھر بھی آج بھی موجود ہے۔اپنے دور خلافت میں مولا علی رضی اللہ عنہ کا دارلخلافہ کوفہ تھا اور اسی گھر میں ہی امام علی رضی اللہ عنہ کو ان کی شہادت کے بعد غسل دیا گیا تھا اور دیگر کمروں کے نشانات بھی آج بھی ویسے ہی ہی ہیں اور ایک کنواں بھی ہے جو امام علی رضی اللہ عنہ کے استعمال میں رہا تھا۔

مسجد کوفہ میں ہی حضرت مسلم بن عقیل جو امام حسین رضی اللہ عنہ کی جانب سے سے کوفہ میں سفیر بھیجے گئے تھے اور قتل کردیے گئے تھے۔ یہی پر مد فون ہیں۔ حضرت امیر مختار جنہوں نے واقعہ کربلا کا بدلہ لیا تھا اور قاتلوں کو واصلِ جہنم کیا تھا یہیں پر مدفون ہیں۔ کوفہ کے بعد ہم واپس نجف گئے اور اس کے ہم نے عراق کے سر زمین کو الوداع کہا اور رخ کرلیا ایران کا۔

ایران میں ایک شہر قُم ہے۔ جو معصومہِ قم کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ حضرت فاطمہ شہزادیِ قُم، امام رضا رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔ جو اپنے بھائی کی تلاش میں یہاں آتی ہیں۔ اور یہیں وصال فرما جاتی ہیں۔ چند کلومیٹر کے فاصلے پر مسجدِ جمکران ہے۔ یہ مسجدجمکران، امام مہدی آخرزمان سے منسوب ہے۔ یہ بہت ہی بڑی اور پرسکون مسجد ہے۔ جہاں پر وقت گزارنے کا نماز اور عبادات کرنے کے وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوتا اور وقت تیزی سے گزر جاتا ہے۔

عقب میں ایک کنواں ہے۔ جس میں لوگ کاغذ پر اپنی حاجات اور دُعائیں لکھ کر پھینک دیتے ہیں اور لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ان کی مرادیں پوری ہوتیں ہیں۔
شہر قُم کے بعد ہم نے مشھد کا رخ کیا۔ مشہد شہر قُم سے تقریبا ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ جہاں امام رضا رضی اللہ عنہ کا روضہ ہے۔ امام رضا رضی اللہ عنہ کا روضہ مبارک چھ مربعے کی زمین پر محیط ہے۔

اس وسیع و عریض حرم میں بہت سے صحن ہیں۔ جہاں پر نماز ادا ہوتی ہے۔اردو، عربی، فارسی اور دیگر زبانوں میں مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔ اور امام رضا رضی اللہ عنہ کا دسترخوان بھی سجایا جاتا ہے۔ جہاں روزانہ ہزاروں لوگ لوگ کھانا کھانے آتے ہیں۔ مشھد کے صرف حرم میں نہیں بلکہ مشہد کی فضا میں بھی سکون ہے۔ ایک سحر انگیز ٹھندی ہوا تمام تھکان کو دور کر دیتی ہے۔

6 مربع پر محیط اس حرم کا نظام بہت ہی جدید، منظم اور خوبصورت ہے۔ جسے اگر میں لکھنا چاہوں تو بہت طویل ہوجائے گا۔۔
مشہد د میرے سفر کی آخری منزل تھی اور مشہد میں آکے میں نے یہ محسوس کیا کہ ان تمام جگہوں جہاں جہاں میں گیا۔۔ پہلے صرف یہاں کے فیوض و برکات کے بارے میں میں سنا تھا اور سن کے اچھا لگتا تھا۔ لیکن جب اس کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

اپنے دل سے محسوس کیا یا اپنے ذہن میں اس کو اتارا تو گویا بہت کچھ حاصل کرلیا۔ اور فتح یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں مقدس مقامات کی زیارت کر لے۔ حرم کے باہر ایک طویل بازار ہے۔۔ جسے بازارِ امام رضا رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے۔۔ یہاں دور افتادہ علاقوں سے بھی لوگ خریداری کے لیے آتے ہیں۔ یہ مشہد کا ایک قدیمی بازار ہے۔ جہاں سے آپ مختلف اشیاء خیرید سکتےہیں۔

خاص طور پر اگر آپ انگوٹھی یا کوئی پتھر خریدنا چاہتے ہیں۔ تو بازار رضا اچھا انتخاب ہے
اب آخر میں مجموعی طور پر ایران کی کچھ بات کرتا چلوں تو وہاں پر کچھ ایسی چیزیں ہیں جو میں دیکھ کر کافی دنگ رہ گیا کہ اکثر لوگوں کے گمان میں یہ ہوتا ہے کہ ایران ترقی پسند ملک نہیں ہے۔ اور بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے مسائل میں گِھرا ملک ہے۔ لیکن شاید کچھ قارئین کے لیے اچھنبے کی بات ہو کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

میں نے ایران ایک ترقی پذیر ملک دیکھا۔ جس کا انفراسٹرکچر کمال کا ہے۔ سب سے بڑھ کر جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ صفائی کا نظام۔۔شاہراہوں سے لے کر کوچوں تک آپ کو کافی صفائی دیکھنے کو ملے گی، بین الاقوامی تجارت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی لئے زیادہ تر چیزیں وہ خود بناتے ہیں۔ ایران میں ایران کی ہی مصنوعات استعمال کی جاتیں ہیں۔ یہاں تک کے گاڑیاں بھی ایران میں ہی بنائیں جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ کھانے پینے سے لے کر کر صابن تک روزمرہ کے استعمال کی 90 فیصد سے زائد ایران یہیں بنائیں جاتی ہیں۔ یقین نہیں آتا کہ کیسے ایک تنہا ملک بغیر کسی بین الاقوامی قرضے کے احسن طریقے سے چل رہا ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی دولت پر گھمنڈ نہیں کرتے۔ پرانی گاڑی پر شرم محسوس نہیں کرتے۔ جو پہنا ہے اس پر شکر ادا کرتے ہیں۔ نماز پنجگانہ کا بہت بڑا رجحان نوجوانوں میں پایا جاتا ہے۔

کوئی بھی کام کر رہا ہو نماز کے لیے اپنا کام روکتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے۔ ایرانی لوگ انگریزی زبان بالکل نہیں بولتے۔ یہاں تک کہ میں ایک اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر سے ملا اور وہ بھی انگلش نہیں بولتے تھے بلکہ اپنی زبان فارسی میں ہی بات کی۔ ایران میں غیر ایرانی کو زبان کی وجہ سے کافی مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ تو آپ کو تھوڑی بہت فارسی سیکھنا لازم ہوتا ہے۔

لیکن اردو بولنے والے کے لیے فارسی سمجھنا یا سیکھنا زیادہ مشکل نہیں کیونکہ اردو میں فارسی کے بہت سے الفاظ ہیں، جس میں پہلا لفظ آپ کو "خوش آمدید" سننے کو ملے گا۔ جب آپ کسی ایرانی کو بتائیں گے کہ آپ پاکستانی ہیں۔ ایرانیوں کے لہجے کی مٹھاس ہی آپ کو اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دے گی۔ اور اکثریت درمیانے طبقے کی ملے گی۔ نہ کوئی بہت امیر، نہ کوئی بہت غریب۔ اور جس برابری اور مساوات کے ماڈل کا ہم خواب دیکھتے ہیں۔ اس نظام کی ایک جھلک ایران میں دِکھتی ہے۔ جو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہے۔ بنیادی انسانی حقوق اور شرعی اصولوں پر یقین رکھتا ہے۔ ہر کسی کو شرعی آزادی ہے۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔۔ اپنے فیصلے شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے کرنے میں آزاد ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-10-30

Your Thoughts and Comments