Safr E Ishq - Qist 1

سفرِ عشق ۔ قسط نمبر 1

دانش حسین جمعرات اکتوبر

Safr E Ishq - Qist 1
کہا جاتا ہے سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے یعنی جو انسان سفر کرتا ہے وہ ظفر یعنی کامیابی پاتا ہے۔ یہ جملہ ایسا ہی ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کرنا۔۔ کامیابی کا مطلب جب ہر کسی کی لغت میں الگ ہے۔ کوئی منزل کو پا لینا کامیابی سمجھتا ہے تو کوئی صحیح راستے پر چلنا ہی کامیابی سمجھتا ہے۔کسی کو دنیاوی منزل کامیابی لگتی ہے تو کوئی روحانی، دینی یا عشق کے سفر کو کامیابی سمجھتا ہے لیکن عشق کا سفر ایک ایسا سفر ہے جس میں دینی، روحانی اور دنیاوی تینوں کا مجموعہ شامل ہوتا ہے تو ایسے میں یہ سفر اور بھی سحر انگیر، پرکشش اور معنی خیز بن جاتا ہے۔

آج ایسے ہی ایک سفر کے بارے میں آپ کو بتانے جارہا ہوں۔ میں نے اور آپ نے نے بہت سفر کیے ہوں گے۔ بہت سے سفرنامے پڑھے اور بہت سے کسی نہ کسی سے سنیں ہوں گے۔

(جاری ہے)

البتہ کچھ حقیقت کچھ افسانے ہوں گے۔ لیکن جس سفر عشق کا تذکرہ میں کرنے جا رہا ہوں یہ حقیقت سے بھی آگے کا سفر ہے۔ یہ سفر وہاں کا ہے جہاں جاتے نہیں،بلائے جاتے ہیں اور اس کو الفاظوں میں بیان کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن پھر بھی میری کوشش ہوگی کہ میں نے جو محسوس کیا جو دیکھا، اپنے قارئین کو بھی وہ تخیلات میں وہ دکھا سکوں.
یہ سفر ہے اہل بیت اطہار سے محبت کے اظہار کا، یہ سفر ہے آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ڈھائے جانے والے مصائب پر گِریاں کرنے کا اور ان کو پرسہ دینے کا، یہ سفر ہے خانوادے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اظہارِیکجہتی کا ۔

۔جب بھی محرم الحرام کا چاند نظر آتا ہے تو ہر مسلمان خاص و عام کی دانست میں سب سے پہلا خیال آل الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام حسین رضی اللہ عنہ پر ڈھائے جانے والے مصائب کا آتا ہے یہی وجہ ہے کہ قریباً چودہ سو سال سے محرم کا پہلا عشرہ امام حسین رضی اللہ عنہ سے منسوب ہوکر رہ گیا ہے غمِ حُسین محرم اور صفر تک منایا جاتا ہے لیکن خاص طور پر دس محرم الحرام کو ہرآنکھ اشکبار ہو ہی جاتی ہے اور اگر آنکھوں سے آنسو نہ بھی جاری ہو ہو تو دل ضرور اداس ہوتا ہے جو بھی حبِ اہل بیت رکھتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ گو ہے لیکن جب اسی کربلا کی زمین کا سفر ہو جہاں یہ دل خراش واقعہ رونما ہوا تھا تو اس کو الفاظ میں بیان کرنا نہایت مشکل ہے
اللہ تعالی کا شکر ہے کہ میں ان لوگوں میں شامل ہوگیا۔

جو امام حسین رضی اللہ عنہ کو پرسا دینے کے لیے کربلا کی سر زمین پر جاتے ہیں اور محرم کا پہلا عشرہ یعنی عاشورہ کربلا کی پاک سرزمین پر ہی میں نے گزارہ اور وہاں جو کچھ دیکھا یا جو محسوس کیا،خواہش ہے کہ ہر عاشق محسوس کرے
4 محرم الحرام کو عراق کی سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد کاظمین جاتے ہیں۔ شہرِ کاظمین امام موسی کاظم رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے جہاں پر دو امام حضرت امام موسی کاظم رضی اللہ عنہ اور حضرت امام تقی جواد رضی اللہ عنہ کی مرقد ہے۔

امام موسیٰ کاظم و امام ہیں جو 14 سال تک قید کی حالت میں رہتے ہیں اور قیدخانہ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ حالت رکوع میں ہی 14 سال گزارتے ہیں۔ جسم پر زنجیر بندھی ہوتی ہیں اور اسی حالت رکوع میں وہ اللہ تعالی کی عبادت کیا کرتے ہیں اور 14سال کی اسیری کے بعد امام موسی کاظم کو زہر دے کر شہید کر دیا جاتا ہے اور ان کے جسد خاکی کو بغداد کے ایک پل پر رکھ دیا جاتا ہے۔

۔ جب میں کاظمین میں داخل ہوا تو امام موسیٰ کاظم پر ڈھائے جانے والے مصائب میری آنکھوں کے سامنے سے گزرتے ہیں اور دل پھٹنے لگتا ہے اور میری آنکھیں بھر آتی ہیں کہ الرسول پر کتنے ظلم ڈھائے گئے
کاظمین کے بعد ہم رخ کرتے ہیں سامرہ کے مقدس مقامات کا سامرہ وہ شہر ہے جہاں ہاں داعش کا بہت مضبوط کنٹرول رہا ہے اور داعش کا گڑھ سمجھا جاتا تھا آج بھی یہاں جنگ کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور خستہ حال دیواریں، سخت سیکورٹی، ویران میدان اور سڑک کے دائیں بائیں جنگ کے دوران تباہ شدہ اور جلی ہوئی گاڑیوں کا ملبہ تا حدِ نگاہ دکھائی دیتا ہے۔ جو کئی کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ جس سےاس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ کتنی بھیانک اور اتنی بڑی جنگ کتنی قربانیوں کے بعد جیتی گئی۔ نا جنگ زدہ علاقوں اور بے شمار چوکیوں سے ہوتے ہوئے ہم سامرہ میں حضرت امام نقی رضی اللہ عنہ اور گیارویں امام حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ کے روضے پر جاتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پر امام مہدی کی جائے غیبت ہے۔ یہیں پر امام مہدی آخر زماں کی والدہ نرجس خاتون اور آپ کی پھوپھی حکیمہ خاتون بھی مدفون ہیں.سامرا کے بعد شہر بلد جانا ہوتا ہے بلد بھی داعش کے زیر کنٹرول رہا ہے جو اب واپس عراقی فوج کے پاس آچکا ہے۔ یہاں پر حضرت سید محمد کا مزار ہے۔ سید محمد، امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں۔ لوگ یہاں پر منت مانتے ہیں۔

اور منت پوری ہونے پر بکرے کی قربانی دیتے ہیں۔ بلد کے بعد ہم مدائن جاتے ہیں۔ مدائن میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا روضہ مبارک ہے۔ حضرت سلمان فارسی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں۔ جن کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "سلمان فارسی میرے اہل بیت میں سے ہے" اہل بیت کے علاوہ حضرت سلمان فارسی ہی وہ واحد ہستی ہیں جن کو یہ درجہ ملا۔۔
مدائن اور مضافات کے مقدس مقامات کی زیارت کے بعد وہ سفر شروع ہوا چاہتاہے۔ جسے میں نے فائنل ڈیسٹینیشن یعنی حتمی منزل کا نام دیا۔ وہ ہے کربلائے معلٰی۔ (جاری ہے)
تاریخ اشاعت: 2019-10-24

Your Thoughts and Comments