Safr E Ishq - Qist 2

سفرِ عشق ۔ قسط نمبر 2

دانش حسین اتوار اکتوبر

Safr E Ishq - Qist 2
پانچ محرم الحرام کو ہم کربلا معلیٰ پہنچتے ہیں۔ جیسے ہی کربلا کی زمین پر ہم قدم رکھتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ پاؤں سے ہوتی کوئی چیز سر سے نکل کے گزر چکی ہوں ہو اور انسان میں ایک مسحور کن کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ اور جس شخص کو رونا نہ آئے۔ اس کی آنکھیں بھی بھر آتی ہیں۔ کربلا کی زمین پر اترتے ہی دل میں یہ خیال آتا ہے کہ یہی ہے وہ جگہ جہاں نبی زادوں س کو شہید کیا گیا اور ان کی لاشوں کی پامالی کی گئی۔

۔ان کے گھرانے اور مستورات کی بے حرمتی کی گئی اور سردارِ جنت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جن کی گردن کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بوسہ دیا کرتے تھے اسی سرزمین پر آپ رضی اللہ عنہ کا گلا کاٹا گیا، اور سرِ اقدس کو جسم مبارک سے جدا کر دیا گیا۔ وقت کی جدت اور تیزی نے یہاں چودہ سو سال میں بہت کچھ تبدیل کر دیا لیکن انسان کا ذہن کربلا کی زمین پر تذبذب کا شکار ضرور رہتا ہے کہ نہ جانے کونسا ایسا مقام کونسی ایسی جگہ ہوگی جہاں پر کسی نہ کسی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لخت جگر کو ذبح کیا گیا ہو گا۔

(جاری ہے)

کربلا میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے غازی عباس علم دار کا روضہ آتا ہے۔ اور اس کے بعد امام حسین کے روضہ مبارک کی زیارت ہوتی ہے۔ غازی عباس علم دار کا روضہ جب ہم پہلے دیکھتے ہیں تو یوں گماں ہوتا ہے کہ جیسے آج بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ، امام حسین رضی اللہ عنہ کے آگے کھڑے ہیں اور ان کے لیے ایک ڈھال ہیں۔ حضرت عباس کے روضے پر نظر جاتی ہے تو جلال دکھتا ہے وہی جلال محسوس ہوتا ہے، جو واقعہ کربلا میں حضرت عباس کے کردار سے عیاں ہوتا ہے۔

حضرت عباس اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضے کی درمیانی جگہ کو بین الحرمین کہتے ہیں۔ بین الحرمین میں بہت بڑی تعداد میں لوگ موجود ہوتے ہیں جہاں سے سے دونوں حرمین میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ بین الحرمین میں جو سکون محسوس کیا۔ وہ بہت ہی مختلف ہے۔ اگر آپ کا رخ قبلہ کی جانب ہو تو دائیں جانب امام حسین رضی اللہ عنہ کا روضہ اقدس اور دوسری جانب حضرت عباس کا روضہ مبارک۔

۔اور یوں گماں ہوتا ہے کہ جیسے یہ دنیا کی سب سے محفوظ جگہ ہے۔ جہاں ایک طرف غازی عباس کا روضہ ہے تو دوسری جانب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا روضہ۔ ان روح پرور مناظر سے انکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ ایک طرف عباس کی شجاعت تو دوسری جانب امام حسین رضی اللہ عنہ کا صبر۔۔۔
یہ میری خوش نصیبی ہے کہ بین الحرمین سے میں نے 92 نیوز پر 9 محرم الحرام کو رپورٹ کیا اور اس دن ایسا محسوس ہوا کہ مجھ حقیر کو چُنا گیا اور پیغامِ حُسین کو 92 نیوز کے توسط سے دنیا تک پہنچانے میں میری بھی حاضری لگ گئی۔

۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کے حرم میں ایک مقام گنج شہدا کہلاتا ہے۔ گنج شہداء وہ مقام ہے جہاں پر واقعہ کربلا کے شہدا کے جسدِ مبارک کو دفنایا گیا تھا اور اس کے علاوہ حضرت حبیب ابن مظاہر کی مرقد بھی اسی حرم میں ہے۔ اس کے علاوہ اس حرم میں وہ مقام بھی ہے جہاں امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا اور ان کا سر اقدس ان کے جسم مبارک سے الگ کیا گیا تھا۔

اور یہیں سے چند قدم کے فاصلے پر امام حسین رضی اللہ عنہ کی ضریح مبارک ہے۔ جہاں پر پہنچ کر ہر ایک عاشق جو امام حسین سے عشق کا اظہار کرنے یہاں آتا ہے جو محسوس کرتا ہے وہ الفاظ میں بیان کرنا محال ہے۔ بس یوں لگتا ہے ہے کہ جیسے ہم آئے نہیں بلائے گئے ہوں۔۔ اور چند لمحات کے لیئے وقت ٹھہر سا جاتا ہے کہ خاکسار نے اتنا طویل سفر جس لمحے کیلئے کیا۔

وہ لمحہ آگیا۔ وہ مقدس مقام آگیا۔ انسان جب گھر سے چلتا ہے تو یہ سوچ کر چلتا ہے۔ کہ اس مقدس مقام پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ سے بہت کچھ مانگوں گا۔ لیکن اچنبھے کی بات ہے کہ یہاں پہنچ کر سب بھول جاتا ہے۔ دنیاوی خواہشات دم توڑ جاتی ہی۔ دعائیں بھول جاتی ہیں۔ اور انسان اس سوچ میں ہی گم رہتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر کیسا کرم کر دیا۔ کہ ہمیں جنت کے سردار کی زیارت کروا دی۔

ہمیں بلا کیا گیا۔ ہم پہنچ گئے۔۔۔۔ ان باتوں پر یقین کافی دیر بعد آتاہے۔ اور جب یقین آجاتا ہے۔ تو ایسا لگتا ہے کہ یہی حقیقت ہے۔ جو دنیا ہم پیچھے چھوڑ آئے۔ وہ تو ایک خواب تھا۔ اور انسان اس بات پر بھی شکر گزار ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اس قابل بنا دیا۔ کہ لوگ کہتے ہیں کہ کربلا جانا تو ہمارے لئے بھی دعا کرنا۔۔ اور وہاں پہلی دعا دل سے یہی نکلی کہ ہمیں محم وآلہ محمد کی روزِ محشر سفاعت نصیب ہوجائے۔

۔۔
کربلا میں نہر فرات آج بھی بہتی ہے۔ جہاں سے اہل بیت کو پانی نہیں پینے دیا گیا تھا۔ وہ مقام بھی ہیں جہاں پر حضرت عباس کے بازو قلم ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ایک مقام علی اصغر ہے۔ جہاں امام حسین رضی اللہ عنہ کے چھ ماہ کے پیاسے بچے کو 3 پھروں والا تیر مارا گیا تھا۔
اور اس کے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک مقام، مقامِ علی اکبر ہے۔ جہاں امام حسین رضی اللہ عنہ کے کڑیل جوان بیٹے کو شہید کیا گیا
جب ان مقامات پر انسان جاتا ہے اور خاص طور پر محرم کے ایام میں۔

۔تو یوں لگتا ہے جیسے انسان چودہ سو سال پیچھے چلا گیا ہو اور تمام منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے گو کہ وقت کی جدت نے بہت کچھ تبدیل کر دیا لیکن نشانات اور مقامات آج بھی قائم ہیں
اور محرم کے ایام میں خاص طور پر دس محرم کو انسان جب کربلا کی زمین کو دیکھتا ہے تو دل دہل جاتا ہے۔ خاص طور پر جب تلہِ زینبیہ کی طرف نظر جاتی ہے تو ہر آنکھ اشکبار ہو جاتی ہے کیونکہ اسی مقام سے بنت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید ہوتے دیکھا تھا اور تلہِ زینبیہ کے عقب میں اہل بیت کے خیمے تھے جنہیں جلا دیا گیا تھا اور ان خیام کی یاد میں ان مقامات پر نشانیاں آج بھی ہیں جہاں پر امام حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہداِ کربلا کے خیمے تھے
جنہیں دیکھ کر گیارہ محرم کی وہ سیاہ رات یاد آجاتی ہے جب آل النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان خیموں کو خاکستر کیاگیا تھا۔

جسے دنیا آج شام غریباں کے نام سے یاد کرتی ہے۔ جب سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی مرد نہ زندہ رہا تھا۔ اور امام حسین شہید کر دیئے گئے تھے ۔۔
12 محرم الحرام تک کربلا میں قیام کیا اور اس کے بعد رختِ سفر باندھا نجف اشرف کا۔۔ جہاں امیرالمومینین حضرت امام علی رضی اللہ عنہ کا روضہ مبارک ہے۔ حضرت امام علی رضی اللہ عنہ کے روضے پر جاتے ہی آنکھوں میں غم کے آنسو نہیں بلکہ امام علی رضی اللہ عنہ کے فضائل یاد آجاتے ہیں اور جلال یاد آجاتا ہے ۔

۔ اور کیوں نہ ہو شیر خدا کی بارگاہ میں جو حاضر ہوئے ہیں۔ یہاں پر آکر کر بے ساختا میں نے امام علی رضی اللہ عنہ کی شان میں منقبت بھی پڑھی اور جو جلال اس روضے پر حاضر ہو کر آتا ہے اس کی بات ہی نرالی ہے۔۔(جاری ہے)
تاریخ اشاعت: 2019-10-27

Your Thoughts and Comments