Safr E Kabba

سفرِ کعبہ

اتوار اگست

Safr E Kabba
عائشہ احمد
اس جگہ کی تاثیر ہی ٹھنڈی ہے ورنہ کس کو تپتی دھوپ میں کھلے آسمان کے نیچے نیند آتی ہے؟ اور کون ہزاروں لوگوں کے بیچ بیٹھ کر بھی آرام سے سوجاتا ہے ؟
اس جگہ کی تاثیر ہی ٹھنڈی ہے!
وہ سیڑیوں کے ساتھ بنے ستون سے ٹیک لگائے سوگی تھی۔ آس پاس،اوپر نیچے، اردگرد ہر جگہ لوگ ہی لوگ تھے۔ لیکن۔۔۔اس کے اندر کا سکون برقرار تھا ! کوئی آواز اسے پریشان نہیں کر رہی تھی۔


اسے اپنے اردگرد بلکل اسی طرح کی خاموشی کا احساس ہورہا تھا۔۔۔ جیسا اس کے اندر تھا۔ یہ خاموشی سنناٹے کی سی نہیں تھی۔ یہ خاموشی بہت پرسکون تھی ! یہ خاموشی بہت ٹھنڈی تھی ! اس خاموشی کا کوئی بوجھ نہیں تھا۔اس کے اندر تک سکون ہی سکون تھا۔
اس کی آنکھ کھلی تو اس نے بے ساختہ اپنے دائیں جانب دیکھا۔

(جاری ہے)

سامنے بلکل سامنے۔۔۔۔ خانے کعبہ تھا! جیسا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں تھا۔

ٹھنڈا، جامد، پاک، واحد۔۔۔۔۔۔بس ایک!
وہ وہاں کیا مانگتی؟ کیا مانگا جاسکتا تھا وہاں؟ خانے کعبہ کو دیکھنے کے بعد کیا مانگے انسان؟! کیا رہ جاتا ہے ؟
۔۔۔۔۔وہ بھی خالی ہاتھ تھی۔۔۔۔۔ کچھ بھی ایسا نہ تھا جو مانگا جاسکتا تھا صحت، دولت، رشتے، محبت! کیا ؟
"وںاں سے لوگ اپنی جھولیاں بھر بھر کر جاتے ہیں۔" اس نے اپنے ہاتھ دیکھے وہ خالی تھے! اس نے اوپر نظر اٹھا کر کعبہ کو دیکھا! اس کے پاس سب کچھ تھا!
اللہ کے گھر جا کر انسان کچھ بھی مانگنے کے قابل نہیں رہتا۔

اس کی موجودگی کا احساس تو ویسے ہی ہوتا ہیں لیکن اس کی عظمت، اس کی بڑائی، اس کی طاقت اور اپنی اوقات کا صحیح اندازہ انسان کو وہیں حرم پاک میں ہو تا ہے۔
اس نے کعبہ کے اوپر دیکھا بلکل اوپر ! آسمان میں ! وہاں کہیں اوپر! بہت اوپر بیت مامور تھا! وہاں بھی طواف جاری تھا، یہاں بھی طواف جاری ہے۔
اسی ستون کے ساتھ ایک قطار میں آب زم زم رکھا تھا۔


اس کی پہنچ میں تھا۔ وہ پیچھے پلٹ کر، ہاتھ بڑھا کر اسے پی سکتی تھی!
۔۔۔۔بلکل اسی طرح۔۔۔۔ جیسے چند قدم چلتی تو کعبہ کو چھو سکتی تھی!
اس نے ایک گلاس بھر کر آب زم زم پیا تھا اس کی تاثیر بھی ٹھنڈی تھی! پیٹ کی آگ، نفس کی آگ۔۔۔ سب کو بجھانے کے لیے کافی تھا!
وہ مسکرائی! اس کے ہونٹ آب تر تھے۔ اسے یاد آیا کہ کس طرح یہی ایک گلاس پی کر اس نے اپنا پورا عمرہ ادا کیا تھا! تقریباً ۲۷ گھنٹے لگے تھے، اسے اپنے ملک سے یہاں
پہنچنے کے لیے۔

لیکن اس ایک گلاس نے ساری تھکن دور کردی تھی۔ آج آخری دن تھا اس کا یہاں! اور وہ ابھی تک یہی سوچ رہی تھی ایسا کیا ہے جو ما نگ لیا جائے!
واپس جاکر کون سی چیز پھر سے۔ سب سے زیادہ اہم ہو جاے گی؟ ایسا کچھ نہ تھا جو وہ وہاں مانگتی اور اسےنہ دیا جاتا! مگر کیا ؟؟
اس نے اب تک تمام یاد کی گئیں دعائیں مانگ چھوڑی تھی لیکن کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو دل سے مانگا گیا ہو۔

بس! ایک فرض جو پورا ہوا تھا۔ وہ اٹھی اور وضو کر کے دوبارہ وہیں آکر کھڑی ہوگئی۔
اب وہ اپنے قدم کعبہ کی طرف اٹھا رہی تھی! آہستہ آہستہ۔۔۔ ایک ایک عصر کی نماز کا وقت بس ہوا ہی چاہتا تھا اور سورج ابھی بھی پوری شدت کے ساتھ سر پر چمک رہا تھا۔ فرش پر رکھے پیر جل رہے تھے.
لیکن جیسے ہی وہ لوگوں کے ہجوم اندر داخل ہوئی جلن کا یہ احساس کم ہو گیا!
اب کعبہ بس دس قدم دور تھا۔

وہ وہیں رک گئی تھی!
لوگ اس پاس سے گزرتے جارہے تھے۔ اس کے اور کعبہ کے درمیان سے گزرتے جارہے تھے!
اس نے ایک بار پھر ذہن دے کر سوچا۔۔۔کہ کیا مانگا جائے؟ اس نے نظر اٹھا کر اوپر کعبہ کے قد کو دیکھا وہ اب بڑا لگتا تھا ! بہت بڑا ! یا پھر وہی چھوٹی ہوگی تھی۔
چند سیکنڈ بعد اس نے آگے بڑھ کر فاصلہ کم کرتے کرتے۔۔۔۔۔ ختم کردیا! ہاتھ اٹھائے اور کعبہ کو چھوا ! اور وہاں کھڑے ہوکر اس پل۔

۔۔ اسے بس اللہ ہی یاد آیا وہاں کھڑے ہو کر اس نے اللہ سے اپنے لیے اللہ کو ہی مانگا!
اللہ کی ذات کے علاوہ اور کیا تھا جو وہاں مانگا جاتا۔
کیوں؟ دنیا آئے، اس آخری لمحہ میں، اس کے اور اللہ کے درمیان۔۔۔ کیوں؟
"یااللہ! میں بہت کمزور ہوں! بے وقعت ہوں! گنہگار ہوں!
اپ رحمان ہے! آپ رحیم ہے! آپ یومِ جزا کے مالک ہیں!
میں آج! ان آخری لمحوں میں آپ کو اپنے لیے مانگتی ہوں! مدد مانگتی ہوں! ساتھ مانگتی ہوں! ایمان کی مضبوطی مانگتی ہوں! اس لمس کا امر ہو جانا مانگتی ہوں جو کعبہ کو چھوتے ہوئے میں محسوس کر رہی ہوں!
میں آب زم زم کی ٹھنڈک مانگتی ہوں! میں چاہتی ہوں کہ جب محشر میں مجھے آپ کے سامنے کھڑا کیا جائے۔

۔تو میرے کندھوں پر کوئی بوجھ نہ ہو۔ بس میں ہوں اور آپ ہوں اور میں رو سکوں۔ سجدہ کر سکوں۔ سبحان ربںی الاعلی کہہ سکوں۔ اس کے آگے کچھ نہ ہو۔ نہ جنت نہ ہو نہ دوزخ ہو۔ بس ! وہ ایک لمحہ ہو۔ اور بس وہی آخری لمحہ ہو۔ آمین۔"
اس نے اپنی آنکھیں کھولیں، خانے کعبہ کو چوما، اپنے آنسو صاف کیے اور واپس مڑگئی۔
تاریخ اشاعت: 2020-08-30

Your Thoughts and Comments