Soon Valley

سون ویلی

منگل دسمبر

Soon Valley
شہباز چوہدری
ہمارے پیارے وطن کا شمار دنیا کے ان بہترین ممالک میں ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خوبصورت نظاروں، بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔
وطن عزیز میں اللہ تعالیٰ نے چار موسم عطا کر رکھے ہیں نہ صرف موسم بلکہ میدان، پہاڑ، ریگستان کے علاوہ وہ تاریخی مقامات جو دنیا بھر کے سیاحوں کو پاکستان کی جانب کینچھ لاتے ہیں۔


پاکستان کتنا خوبصورت ہے یہ دکھانے کے لیے پاکستان میں ایک صحافیوں کی تنظیم 'پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ لوگوں کو سیاحتی دورے کرواتی رہتی ہے تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ پاکستان اللہ پاک کی کن کن بے شمار نعتوں سے مالا مال ہے۔

سون سکیسر ویلی


    دو روز قبل مجھے بھی پاکستان پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ اور ٹوارزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب کی جانب سے سون ویلی دیکھنے کا موقع ملا۔

    (جاری ہے)


    یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ میں ویسے دو سال قبل بھی سون ویلی کو دیکھ چکا تھا لیکن پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے بانی و سرپرست سلمان بھائی کے خلوص کو میں انکار نہیں کر سکا اور ان کے ساتھ سفر کرنے کی حامی بھر لی جو کہ میری ذندگی کا ایک یادگار سفر ثابت ہوا۔
    کیونکہ سون ویلی ویسی نہیں تھی جیسا کہ میں دو سال قبل دیکھ آیا تھا اب تو ویلی کو بہت زیادہ خوبصورت بنا دیا گیا ہے سیاحوں کو ہر طرح کی سہولیات ٹی ڈی سی پی کی طرف سے مہیا کی گئی ہیں۔


    لاہور سے صبح دس بجے ہم ٹی ڈی سی پی کے دفتر سے ایک گروپ کی شکل میں ہم سون ویلی کے لیے روانہ ہوئے، ڈیڑھ بجے ہم کلرکہار ٹی ڈی سی پی کے موٹل پر رکے اور وہاں دوپہر کا کھانا کھایا، موٹل کا کھانا بہت ہی عمدہ، اور بہت زیادہ تعاون کرنے والے تھے۔
    اسکے بعد ہمارا سفر سون ویلی کی جانب شروع ہو گیا، سون ویلی میں ہمارا پہلا پڑاؤ کنہٹی گارڈن تھا۔


    سون ویلی پنجاب کے ضلع خوشاب کی ایک خوبصورت وادی ہے جو سون کے نام سے مشہور ہے، اس وادی میں بہت کم لوگ سیروسیاحت کے لیے آتے تھے، لیکن اب اس ویلی کو گورنمنٹ کی جانب سے خوبصورت بنا دیا گیا ہے۔
    اس وادی میں تین خوبصورت جھیلیں موجود ہیں، ایک کا نام کھبیکی دوسری اچھالی اور تیسری جھالر ہے، تینوں جھیلیں مکمل طور پر قدرتی ہیں اور بے پناہ خوبصورت ہیں۔


    کنہٹی گارڈن:
    ہم چار بجے کے قریب کنہٹی گارڈن پہچے جہاں کئی زیتون کے باغات، آبشاریں، چشمے دلفریب منظر پیش کر رہے تھے، وہاں ہم نے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ قیام کیا جہاں ہمیں ٹی ڈی سی پی کی جانب زیتون کا کہوہ پیش کیا گیا، اس کے بعد ہمارا قافلہ کھبیکی جھیل کی جانب روانہ ہو گیا۔
    کھبیکی جھیل
    وادی سون کی دوسری بڑی جھیل، کھبیکی نام کے گاؤں کے پاس نوشہرہ جابہ روڈ کے بالکل کنارے پر واقع ہے۔


    دو کلومیٹر چوڑی اور ایک کلومیٹر لمبی اس جھیل میں کبھی نمکین پانی ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ قدرے میٹھے پانی کی جھیل ہے جس میں ایک خاص چینی قسم کی مچھلی بھی متعارف کروائی گئی ہے۔
    ٹی ڈٰی سی پی کی جانب سے ہمارے لیے کیمپ، بون فائر، آتشبازی اور فوک میوزک کا زبردست انتظام کیا گیا تھا، رات کے کھانے کے بعد وہاں پر آتشبازی اور میوزک کو انجوائے کیا۔


    کھبیکی جھیل کے کنارے محکمہ سیاحت پنجاب نے ایک خوبصورت موٹل بنا رکھا ہے جہاں سیاحوں کے لیے ساری سہولیات بھی میسر ہیں، دو دن کے ٹرپ کے لئے ایک بہترین جگہ ہے۔
    جھیل کے ایک کنارے پر ''ٹوارزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب'' کا ایک خوبصورت ریسٹ ہاؤس بھی موجود ہے جہاں تمام بنیادی ضروریات سمیت سائیکلنگ کی سہولت بھی میسر ہے۔
    ریسٹ ہاؤ س کے بالکل سامنے ایک خوبصورت واچ ٹاور بھی بنایا گیا ہے جہاں سے سیاح جھیل اور اس پر آنے والے مہمان پرندوں کا دلکش نظارہ آنکھوں میں قید کرنے کے ساتھ ساتھ کیمرے کی آنکھ میں بھی محفوظ کر سکتے ہیں۔


    اُچھالی جھیل
    ضلع خوشاب، تحصیل نوشہرہ سے 16 کلومیٹر سکیسر روڑ پر واقع خوبصورت جھیل, اچھالی جھیل تک پختہ سڑک موجود ہے جو اچھالی سے نیم پختہ دو راستوں میں تبدیل ہو جاتی ہے ایک راستہ امب شریف اور دوسرا سکیسر پہاڑ کی جانب جاتا ہے.
    اگلا پڑاؤ ہمارا کھبیکی سے اب اچھالی جھیل کی جانب تھا، انتہائی دلکش راستہ اور جگہ جگہ بغیر چرواہے کے چرنے والی گائیں بہت بھلی معلوم ہو رہیں تھیں، شام قریب آںے پر بکریوں کے ریوڑ اور چرواہے اپنے اپنے ٹھکانوں کی جانب دکھائی دے رہے تھے، گردوں خدا کی خدائی یوں دامن پھیلائے تھی کہ جی چاہتا تھا کہ بس یہیں کیمپ لگا کر رات گزار لوں۔


    یہ سفر وادی سون کے دل یعنی درمیان میں جاری تھا، سڑک جو کبھی بنی تھی اب ختم ہو چکی تھی، سورج بھی اب تیزی سے ڈھل رہا تھا، اردگرد پہاڑوں میں غار نظر آ رہے تھے، چونکہ اس علاقے میں بدھ مت کے آثار ملے ہیں اسلیے مَیں غاروں کے آس پاس بدھا کا مجسمہ دیکھنے کیلئے ہر غار یا غار نما جن میں سے کچھ کوئلے کی کھوج کیلئے بنائے گئے تھے، غور سے دیکھتا ہوا گزر رہا تھا۔


    یہ جھیل بھی باقی جھیلوں کی طرح ''اوچھالی ویٹ لینڈ'' Uchali Wetlands کا حصہ ہے جسے رامسر کنوینشن (Ramser Convention) کے تحت تحفظ دیا گیا ہے۔
    یہاں یہ بات یاد رہے کہ یہ جھیل سائیبیریا سے آنے والے ہجرتی پرندوں کا بہت بڑا مسکن بھی ہے۔
    وادی سون کی سب سے بڑی جھیل اچھالی جھیل ہے۔ ایک ایسی جھیل جس کے پانیوں میں ایک سڑک جاتی نظر آتی ہے گویا کسی کے عصا نے پانیوں کو چھوا اور ایک راستہ بن گیا۔


    یہی اُچھالی جھیل ہے جو پوٹھوہار کے بلند ترین پربت سکیسر ٹاپ کے قدموں میں پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
    جھیل کے پسِ منظر میں کوہِ نمک کے خوبصورت پہاڑ دل کو چھو لینے والا منظر پیش کرتے ہیں۔
    دو سال قبل جب میں اپنے دوستوں کے ہمراہ اچھالی جھیل آٰیا تو اسے دیکھ کر بے حد مایوس ہوا کہ حکومت کی جانب سے اس جھیل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی تھی، تاہم اب حالات بالکل مختلف ہیں، ٹی ڈی سی پی نے اس جھیل پر باقاعدہ طور پر چلنے پھرنے کے لیے ٹریک اور بیٹھنے کے لیے خوبصورت سٹنگ کا انتظام کر دیا گیا ہے جو نہایت دلکش نظارہ دیتے ہیں۔


    بہت خوبصورت اور شانت جھیل دونوں لحاظ سے پانی بھی شانت اور عوام الناس سے بھی۔
    ورنہ اس کا حشر نشر کر دیا ہوتا گندگی اس کے ماتھے کا جھومر بن جاتی، لیکن شکر اللہ کا ہزار ہا کہ یہ ایسوں کی پہنچ سے ابھی تک محفوظ ہے۔
    اچھالی جھیل وادی سون کی ایک سرمئی شام کا دلکش نظارہ آنکھوں میں سموئے ہمارا واپسی کا سفر شروع ہو گیا، کلرکہار آ کر رات کا کھانا کھایا، اور رات 10 بجے کے قریب لاہور پہنچ گئے۔
    اگر آپ پاکستان یا بیرون ممالک رہتے ہیں تو آپ سے بھی ضرور کہوں گا کہ آیئے ضرور دیکھیئے ہمارا پاکستان کتنا خوبصورت ہے۔
    تاریخ اشاعت: 2019-12-10

    Your Thoughts and Comments