Mir Taqi Mir

میر تقی میر

میر تقی میر اردو کے نہایت بلند پایا شاعر ہیں ۔ میر کے تخلص میں ہی ان کی شاعری کی قدروقیمت پرتو موجود ہے ۔ میرتقی میر بلا شبہ اردو غزل کے میرِکارواں ہیں۔ انہوں نے اردو کی مختلف صنفوں میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان ِ غزل ہے۔ ان کی غزل کی سب سے بڑی خوبی سوزوگداز اور تاثیر ہے ۔ان کے کلام کی ایک اور خصوصیت ان کے کلام کی سادگی اور زبان و بیان کی اصلاح ہے ۔ جس کی بدولت اردو شاعری کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی وسعت اور گہرائی پیدا ہوئی۔میر کی غزلیں جزباتی زندگی اور تمدنی احوال کی ترجمان ہیں ۔ان کی شاعری کا اعتراف نہ صرف ان کے معاصرین نے کیا بلکہ بعد میں آنے والے تمام اہم شاعروں نے ان کو خراجِتحسین پیش کیا ۔۔ خاندانی پس منظر میر تقی میرکے اسلاف ارض حجاز سے وارد ہندوستان ہوئے انکے پر دادا نے اکبرآباد میں بود و باش اختیار کی اور یہیں میر بھی پیدا ہوئے ا نکی پر ورش دلی میں انجام پائی ۔انکے والد میر متقی ۔ درویش کامل تھے اور گریہ و استغراق اور کیف مجذوبی میں گم رہتے تھے انکے بچپن کے اتالیق سید امان اللہ تھے جبکہ والد اور اتالیق دونوں زیادہ دیر نہ جیئے میر کے سوتیلے بھائی نے انکی جائدادپر قبضہ کر لیا اور انکے اپنے ماموں سراج الدّین آرزو کی بد سلوکی سے طبیعت جنونی ہو گئی ۔ میر کے سید ہونے کے سلسلہ میں کچھ لوگوں نے تامل کیا ہے لیکن محمد حسین آزاد صاحب نے انہیں کے کلام سے استناد کرتے ہوئے انہیں سید تسلیم کیا ہے اور اس باب کو یہیں پر ختم کر دیا ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'پھر بھی اتنا کہنا واجب سمجھتا ہوں کہ انکی مسکینی ، غربت،صبر و قناعت، تقوی ، طہارت ،محضر بن کے اداء شہادت کرتے ہیں کہ سیادت میں شبہ نہ کرنا چاہیے ورنہ زمانے کا کیا ہے کس کس کو کیا نہیں کہا ہے اگر وہ سید نہیں ہوتے تو خود کیوں کہتے پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی کیا کہا جائے کچھ لوگ میر صاحب کے بارے میں قطعی نظریہ رکھتے ہیں کہ وہ پاگل پن کا شکار تھے اسی کے مقابل کچھ لوگ اسے میر کی حساس طبیعت سے جوڑکر دیکھتے ہیں تو اس نتیجہ پر پہونچتے ہیں کہ جس ماحول میں میر نے زندگی گزاری ہے اس ماحول میں جو کوئی بھی ہوتا اس قدر مصائب کی تاب نہ لا کر اسی کیفیت کا شکار ہو جاتا جو میر پر طاری تھی مع ذالک کچھ ادیبوں کا خیال ہے کہ\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'میر بے حد نازک طبع اور غیور تھے چنانچہ بد دماغ اور مردم بے زار مشہور ہو گئے اس دور کے انتشار اور بد نظمی نے میر کو متاثر کیا اور ایک دائمی غم انکے دل پر محیط ہو گیا میر کی شاعری انکی داخلی واردات اور اس پریشان حال دور کی سماجی صورت کا آینہ ہے، وہ زمانے کو بچشم نم دیکھا کئے اور دل کی زبان سے حالات زمانہ رقم کرتے گئے\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'۔ میر کی جنونی کیفیت کے مختلف ابعادپر طبی اور نفسیاتی نقطہ ہائے نظر سے انٹر نیٹ پر میر فن اور پاگل پن قابل دید ہے ۔اگر بد دماغی کو پاگل پن کے زمرے میں رکھا جائے تو محمد حسین آزاد صاحب کے مطابق یہ ماننا ہی پڑے گا کہ وہ پاگل پن کا شکار تھے \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'اپنی بد دماغی کے سایہ میں دنیا و اہل دنیا سے بیزار گھر میں بیٹھے رہتے تھے اسکا اعتراف خود میر کو بھی تھا کہ زمانہ انکو بد دماغ سمجھتا ہے کوشش کہی جا سکتی ہے حالات کی ستم ظریفی : میر کے دماغی خلل کو انکے فنکارانہ شعور سے تعبیر کیا جائے یا اسے خاندانی پس منظر سے جوڑا جائے لیکن میر کے اوپر گزرنے والی کیفیات کے تعلق کو زمانے کی ستم ظریفیوں سے لا تعلق نہیںرکھا جا سکتا ہے ۔ میر جیسے حساس طبیعت کے مالک انسان کے لئے اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھنے کے لئے کیا کم ہے کہ وہ اپنے باپ کے انتقال کے وقت اتنے مجبور تھے کہ انہیں سپرد خاک کرنے کے لئے انکے پاس دفن کفن کا انتظام نہ تھا بقول علی سردار جعفری\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'جب انکے باپ کا نتقال ہوا تو وہ تین سو روپئے کے مقروض تھے اور انہوں نے اپنے ترکہ میں چند سو کتابوں کے سوا کچھ نہیں چھوڑا انکی کتابوں پر میر کے سوتیلے بھائی نے قبضہ کر لیا اور میر نے باپ کے ایک مرید کی بھیجی ہوئی پانسو روپئے کی ہنڈی لے کر قرض ادا کرکے لاش دفن کی بعد از وفات والد: میر کے اوپر انکے والد کی وفات کے بعد کیا گزری اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ اس زمانے میں تفصیلی حالات کا جائزہ ذرا مشکل ہے گرچہ خود میر کے قلم سے بکھرے ہوئے درد میں ڈوبے حروف کافی حد تک اس کرب کے بیان گر ہیں جو میر پر بعد وفات طاری تھا \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'درویش نے آنکھیں موندیں تو سارا عالم میری نظر میں تاریک ہوگیا بڑا حادثہ رونما ہوا آسمان مجھ پر آٹھ آٹھ آنسو روتا تھا صبر و شکیب جاتا راہا درو دیوار سے سر پھوڑتا تھا خاک پر لوٹتا تھا بڑا ہنگامہ بپا ہوا گویا قیامت نمو دار ہو گئی میرے بڑے بھائی نے طوطاچشمی اختیار کر لی\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\' سوتیلے بھائی کا سلوک: اپنے والد کی وفات کے بعد کچھ عرصہ میر دہلی جا کراپنے سوتیلے ماموں سراج الدین علی خان آرزو کے یہاں ٹہرے لیکن حالات کچھ ہی دن سازگار رہے اور انکے بھائی کے ماموں کے نام زہر بھرے خط نے انکی زندگی میں زہر بھر دیا ۔میر لکھتے ہیں \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'میرے بھائی کا خط ماموںکے نام پہونچا کہ میر محمد تفتیش روزگار ہے اسکی تربیت ہرگز نہیں کرنا چاہیئے . آرزو پکے دنیا دار تھے اپنے بھانجے کی عداوت دیکھ کر میراکا برا چاہنے لگے اگر سامنے پڑتاتو پھٹکارنے لگتے اور بچ بچ کر رہتا تو اول فول بکتے ہر وقت ان کی نگاہ میری نگرانی میں رہتی اور میرے ساتھ دشمنوں کا سا برتائورکھتے میرا دکھا ہوا دل اور بھی زخمی ہو گیا اور میں پاگل ہو گیا دلّی کی ویرانی : جس قدر میر کے حالات کی ابتری نے انہیں رلایا اس قدر زمانہ نے بھی دل میر کی کیاری میں بے شمار زخموں کے پھول کھلائے میر کا اپنے والد کی وفات کے بعد جس قدر بے یاورو بے یار ہونا کرب ناک ہے اسی قدر دہلی کا تاراج ہونا بھی جس قدر میر کو انکی ذاتی محرومیوں نے رلایا اتنا ہی دہلی کی ویرانی نے بھی خود لکھتے ہیں \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'ہر قدم پہ رویا اور عبرت حاصل کی جب آگے بڑھا تو حیران ہوا مکان پہچان میں نہ آوے درو دیوار نظر نہ آئے عمارت کی بنیادیں نظر نہ آئیں رہنے والوں کی کوئی خبر نہ ملی \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'(١٨)ہلی پر تاخت و تاز کو عبرت کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں : شہاں کے کحل جواہر تھی خاک پا جنکی آنکھوں میں انہیں کی آنکھوں میں پھرتی سلائیاں دیکھیں یہ شعر اس تاریخی پس منظر کا حامل ہے کہ جس میں جمیل جالبی کے بقول\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\' ١٧٥٣ میں صفدر جنگ کی حمایت سے مرہٹوں نے پھر دلی کو تاراج کیا اور عماد االملک نے احمد شاہ کو قید کر کے ١٧٥٤ میں آنکھوں میں سلائیاں پھرا کر اندھا کر دیا ۔ دلی جسکا ذکر بار بار انکی (میر)شاعری میں آتا ہے صرف کسی شہر کا نام نہیں ہے بلکہایک عظیم مرتی ہوئی تہذیب کی روح کا اشارہ ہے\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\' دلی کی ویرانی نے میر کو اس قدر افسردہ کیا کہ جب ایک معاشرے میں عجیب و غریب حلیہ لئے پہونچے اور لوگوں نے وطن دریافت کیا تو جب شمع ان کے سامنے آئی تو فی البدایہ فرمایا : کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساتھیوں ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے اسکو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے خصائل وفطرت : جہاں میر کی زندگی کا وہ حصہ اپنے اندر عبرتیں لئے ہوے ہے جسکا تعلق حالات اور زمانے سے ہے وہیں خود میر کے ذاتی خصائل اور انکی فطری جبلت بھی اہل ذوق کے مطالعہ کے لئے بے سود نہیں ہے ١۔ خود داری و قناعت : میر کی شخصیت میں جو چیز ہر انسان کو انکی شخصیت کا گرویدہ بنا دیتی ہے وہ انکی خود داری اور قناعت پسندی ہے خود داری کا تو خیر ذکر ہی کیا لیکن قناعت کا عالم یہ ہے کہ بقول محمد حسین آزاد صاحب \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'قناعت اور غیرت حد سے بڑھی ہوئی تھی اسی کا نتیجہ تھا کہ اطاعت تو در کنار نوکری کے نام کو بھی برداشت نہ رکھتے تھے نتیجہ یہ کہ فاقے کیا کرتے اور دکھ بھرتے تھے\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'(٢٠) خوددار اس قدر تھے کہ اپنے عصری تقاضوں کے بر خلاف کبھی انعام و اکرام کے لالچ میں کسی بڑے سے بڑے نواب یا بادشاہ کے لئے ٢ حرف بھی نہ کہے چاہے کوئی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتے تھے اور امراء و اشراف کی خوشامد کو سخت ناپسند کرتے تھے قطعی طور پر انکی مدح سرائی سے گریز کرتے تھے حتی انکی جانب سے پیش کئے جانے والے اعزازی اور تشویقی تحائف و انعامات سے بھی بیزار رہتے اور لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یہ کہہ کر واپس کر دیتے \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'کہ وہ ہونگے بادشاہ اپنے دیار کے ہم اپنے من کے بادشاہ ہیں یہ انکی عدم خوشامد اور شاہان وقت کی مدح سرائی سے گریز کا ہی خاصہ ہے امراء کی تعریف میں اکثرشعراء کا کلام مل جائے گا لیکن میر کہیں نظرنہیں آئیں گے چنانچہ محمد حسین آزاد امراء کی تعریف میں قصائد نہ کہنے کا سبب انکے توکل اور انکی قناعت پسندانہ زندگی کو قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'امراء کی تعریف نہ کرنے کا یہ بھی سبب تھا کہ توکل اور قناعت انہیں بندوں کی خوشامد کی اجازت نہ دیتے تھے \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\' مجھکو دماغ وصف گل و یاسمن نہیں میں جوں نسیم باد فروش چمن نہیں انکے لئے محمد حسین آزاد کی یہ تعبیر بہت مناسب معلوم ہوتی ہے \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'یہ سمجھ لو کہ قسام ازل نے انکے دسترخوان سے مدح و قدح کے ٢ پیالے اٹھا کر سودا کے یہاں دھر دئے تھے \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'(٢٢) انکی یہ سوچ تھی کہ بادشاہ اپنے ملک کا حاکم ہے تو ہم اپنے ملک کے بادشاہ ہیں تو بھلا کیوں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائیں یا کیوں کسی کا عطیہ قبول کریں بلا وجہ کچھ لینے کو اپنے لئے عار سمجھتے تھے اور اپنی فقیری کو اپنا سر مایہ چنانچہ محمد حسین آزاد صاحب نے تحریر کیا ہے \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'اکثر صاحبان عالیشان جب لکھنو جاتے تو میر صاحب کو ملاقات کے لئے بلاتے مگر یہ پہلو تہی کرتے اور کہتے مجھ سے جو کوئی ملتا ہے تو یا مجھ فقیر کے خاندان کے خیال سے یا میرے کلام کے سبب صاحب لوگوں کو خاندان سے غرض نہیں میرا کلام سمجھتے نہیں البتہ کچھ انعام ضرور دیں گے ایسی ملاقات سے ذلت کے سوا کیا حاصل\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'(٢٣) انکی یہی سوچ تھی جس نے انہیں فقر کے بعد بھی بادشاہ بنائے رکھا کیونکہ وہ اپنے آپ کو کسی بادشاہ سے کم نہ سمجھتے تھے سو کسی کے سامنے دست دراز کرنا تو کجا دینے والے کے ساتھ وہ رویہ اختیار کرتے کہ وہ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ وہ کون سی دولت اس شخص کے پاس ہے جس پر تکیہ کرتے ہوئے ہمیں بھی خاطر میں نہیں لا رہا یہ سچ ہے میر اپنے من اور اپنے دل کے بادشاہ تھے تبھی تو بڑوں بڑوں کو خاطرمیںنہیں لاتے چنانچہ \\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'ایک دن نواب(سعادت علی خان) کی سواری جا رہی تھی یہ تحسین کی مسجد پر سر راہ بیٹھے تھے سواری سامنے آئی سب اٹھ کھڑے ہوئے میر صاحب اسی طرح بیٹھے رہے سید انشاء خواص میں تھے نواب نے پوچھا انشاء یہ کون شخص ہے جسکی تمکنت نے اسے اٹھنے بھی نہ دیا عرض کی جناب عالی یہ وہی گدائے متکبر ہے جسکا ذکر حضور میںاکثر آیا کرتا ہے (گزارے کا وہ عالم اور مزاج کا یہ عالم ) سعادت علی خان نے آکر خلعت بحالی کی اور ایک ہزار روپیہ دعوت کا بھجوایا جب چوبدار لے کر گیا میر صاحب نے واپس کر دیا اور کہا مسجد میں بھجوائیے یہ گناہگار اتنا محتاج نہیں ہے ۔سعادت علی خان جواب سن کر متعجب ہوئے مصاحبوں نے سمجھایا غرض نواب کے حکم سے سید انشاء خلعت لے کر گئے اور اپنی طرز پر سمجھایا کہ نہ اپنے حال پر بلکہ عیال پرر حم کیجئے اور بادشاہ وقت کا ہدیہ قبول فرمائیں میر صاحب نے کہا صاحب وہ اپنے ملک کے بادشاہہیںمیں اپنے ملک کا بادشاہ ہوں\\\\\\\\\\\\\\\'\\\\\\\\\\\\\\\'(٢٤) بیباک انداز گفتگواور ٢ٹوک لہجہ میر لگی لپٹی کہنے کے عادی نہیںتھے وہ ٢ اور ٢ چار کے اصول پر عمل کرتے ہوئے جو بات ہوتی بغیر کمی و کسر کے سامنے اور بلا جھجھک و تکلف کہہ ڈالتے تھے اور اس قدر برجستہ اور صریح انداز اپناتے کے سامنے والا اگر غلطی پر ہے تو پانی پانی ہو جائے ۔محمد حسین آزاد صاحب نے اس بے دھڑک اور برجستہ انداز گفتگو کے کچھ نمونے پیش کئے ہیں ملاحظہ ہوں ؛ Lایک دن بازار میں چلے جاتے تھے نواب کی سواری سامنے آئی دیکھتے ہی نہایت محبت سے بولے میر صاحب آپ نے بالکل ہی ہمیں چھوڑ دیا ہے کبھی تشریف بھی نہیں لاتے میر صاحب نے کہا بازار میں باتیں کرنا ادب شرفاء نہیں ہے یہ کیا گفتگو کا موقع ہے (٢٥) ٔlلکھنوکے چند عماید ین واراکین جمع ہو کر ایک دن آئے کہ میر سے ملاقات کریں اور اشعار سنیں میر صاحب تشریف لائے مزاج پرسی وغیرہ کے بعد انہوں نے فرمائش اشعار کی میر صاحب نے اول تو کچھ ٹالا پھر صاف جواب دیا کہ صاحب قبلہ میرے اشعار آپکی سمجھ میں نہیں آنے کے اگر چہ ناگوار ہو ا مگر بنظر آداب و اخلاق ان لوگوں نے گراں خاطر ہو کر کہا کہ حضرت !انوری اور خاقانی کا کلام سمجھتے ہیں آپ کا ارشاد کیوں نہیں سمجھیں گے؟ میر نے کہا یہ درست ہے مگر انکی شرحیں ، مصطلاحات اور فرہنگیں موجود ہیں اور میرے کلام کے لئے فقط محاورہ اہل اردو ہے یا جامع مسجد کی سیڑھیاںاور اس سے آپ محروم ہیں یہ کہہ کر ایک شعر پڑھا : عشق برے ہی خیال پڑا ہے چین گیا آرام گیا دل کا جانا ٹھیر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا Lمیر قمرالدین دلی میں ایک شاعر گزرے ہیں علوم رسمی کی قابلیت سے عمایددربارشاہی میںتھے وہ میر صاحب کے زمانے میں مبتدی تھے شعر کا بہت شوق تھا اصلاح کے لئے اردو کی غزل لے گئے میرصاحب نے وطن پوچھاانہوں نے سونی پت علاقہ پانی پت بتلایا آپ نے فرمایا سید صاحب اردو ئے معلی خاص دلی کی زبان ہے آپ ا سمیں تکلف نہ کیجئے اپنی فارسی وارسی میں کہہ لیا کیجئے( ٢٧) Lسعادت یار خان رنگیں نواب طہماسب بیگ خان قلعدار شاہی کے بیٹے تھے ١٤،١٥ برس کی عمر تھی شان و شوکت سے گئے اور غزل اصلاح کے لئے پیش کی سن کر کہا صاحب زادے آپ خود امیر ہیں اور امیر زادے ہیں نیزہ بازی ،تیر اندازی کثرت سے کیجئے شہ سواری کی مشق فرمائیے شاعری دل خراشی و جگر سوزی کا نام ہے آپ سکے در پئے نہ ہوں انہوں نے بہت اصرار کیا تو فرمایا کہ آپ کی طبیعت اس فن کے مناسب نہیں یہ آپکو نہیں آنے کا خومخواہ میری اور اپنی اوقات ضائع کرنی کیا ضرور ہے (٢٨) میر کی زندگی میں اس طرح کے ڈھیروں نمونے مل جائں گے کہ جن سے میر کی حساس طبیعت کے ساتھ ساتھ انکی ظرافت طبع لہجہ کی شفافیت ،زبان کی شائستگی اور صداقت ،اور انکی روحی بالیدگی کا پتہ چلتا ہے۔ میر کی زندگی میں بکھرے ہوئے درد اور جراحتوں کا اندازہ خود انکے اشعار سے بھی کیا جا سکتا ہے انکی گہری نظر اور آفاقی سوچ کا آج بھی کوئی ثانی نہیں اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کربلا کے سجدہ آخر کو یوں نے بہت سے شعرا نے نظم کیا ہے لیکن میر تقی میر نے جو کچھ اپنے ایک شعر میں بیان کر دیا ہے وہی میر کی حساس طبیعت اور لہجہ کی انفرادیت کے لئے کافی ہے ۔ زیر شمشیر ستم میر تڑپنا کیسا سر بھی تسلیم محبت میں ہلایا نہ گیا ۔جب تک دنیا میں احساس باقی ہے میر کا نام افق ہستی پر اپنی روشنی بکھیرتا رہے گا ۔ یقینامیر جسیا تڑپتا ہوا احساس ہی اتنے برجستہ انداز میں کہہ سکتا ہے مرگ مجنوں سے عقل گم ہے مری کیا دوانے نے موت پائی ہے لحظے لمحوں میں لمحے سالوں میں سال صدیوں میں بدل جائیں گے لیکن میر کی درد میں ڈوبی آواز ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی ۔ جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگز تا عمر جہاں میں مرا دیوان رہے گا ............................................... حوالے و حواشی: نیا دور جولائی اگست ٢٠٠٢ص١٦ ڈاکٹرانور سدید،اردو ادب کی مختصر تاریخ ص١٣٠ مرزا علی لطف،گلشن ہند ص٢٠٩ ڈکٹر نور سدید،تاریخ اردو ادبص١٣٠ محمد حسین آزاد،آب حیات ص ١٩٥ ڈاکٹر انور سدید ،اردو ادب کی مختصر تاریخ ص ١٣١ محمد حسین آزاد،آب حیات ص١٨١، کتابی دنیا نئی دہلی آج کل شمارہ ١٢ ص ٥ محمد حسین آزاد ، آب حیات ، ص ١٧٣ ، محمد حسین آزاد ، آب حیات ، ص ١٨١، کتابی دنیا نئی دہلی محمد حسین آزاد ، آب حیات ، ص ١٧٥، کتابی دنیا نئی دہلی محمد حسین آزاد ، آب حیات ، ص ١٧٦، کتابی دنیا نئی دہلی محمد حسین آزاد ، آب حیات ، ص ٢٠١ محمد حسین آزاد ، آب حیات ، ص ١٨٤، کتابی دنیا نئی دہلی محمد حسین آزاد ، آب حیات ، ص ١٩٧ محمد حسین آزاد ، آب حیات ، ص١٨٣ ، کتابی دنیا ، نئی دہلی محمد حسین آزاد ، آب حیات ، ص١٨٢ ، کتابی دنیا ، نئی دہلی محمد حسین آزاد ، آب حیات ، ص١٨٣ ، کتابی دنیا ، نئی دہلی

NameMir Taqi Mir
Urdu Nameمیر تقی میر
GenderMale
More Adab Writers and Urdu Poets