Mohsin Bhopali

محسن بھوپالی

پیدائش:1932 انتقال: 17 جنوری 2007ء بروز بدھ اردو کے نامور شاعر۔بھوپال میں پیدا ہوئے۔قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان نقل مکانی کرکے لاڑکانہ منتقل ہوگیا اور پھر کچھ عرصے کے بعد حیدرآباد میں رہائش اختیار کی۔ آخر میں وہ کراچی منتقل ہوگئے۔ محسن بھوپالی پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھے اور سندھ حکومت میں ایگزیکیٹو انجینئر کے عہدے سے 1991 میں ریٹائر ہوئے۔لیکن ان کی وجہ شہرت بحرحال شاعری ہی رہی۔ دس کتابوں کے خالق تھے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’شکست شب‘ انیس سو اکسٹھ میں منظر عام پر آیا۔ جس کے بعد ان کا دوسرا مجموعہ ’گرد مصافت‘ شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ’جستہ جستہ‘ ، ’نظمانے‘ اور ’ماجرہ‘ ان کے قابل ذکر مجموعے ہیں۔ انیس سو پچاس کے عشرے میں انہیں اس وقت شہرت ملی جب تحریک پاکستان کے رہنما عبدالرب نشتر نے ایک جلسے میں ان کا یہ شعر پڑھ کر سنایا: نیرنگیِ سیاستِ دوراں تو دیکھیئے منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے یہ شعر زبان زد عام ہوگیا اور محاورے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ محسن بھوپالی کی شاعری میں ادب اور معاشرے کے گہرے مطالعے کا عکس نظر آتا ہے۔ انہوں نے جاپانی ادب کا اردو میں ترجمہ کیا اور ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی۔ اگر یہی ہے شاعری تو شاعری حرام ہے خرد بھی زیر دام ہے ، جنوں بھی زیر دام ہے ہوس کا نام عشق ہے، طلب خودی کا نام ہے ان کی شاعری کے موضوعات معاشرتی اور سیاسی حالات ہوتے تھے۔ ان کے ایک قطعے کو بھی خوب شہرت حاصل ہوئی۔ جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے مے خانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے ہم مصلحت وقت کے قائل نہیں یارو الزام جو دینا ہو، سر عام دیا جائے 1988 میں ان کے گلے کے سرطان کا کامیاب آپریشن کیا گیا ۔ اس کے بعد انہیں بولنے میں دشواری ہوتی تھی مگر اس کے باوجود بھی انہوں نے زندگی کے معمولات جاری رکھے اور مشاعروں میں شرکت کرتے اور شعر پڑھتے رہے۔کراچی میں نمونیا کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔

NameMohsin Bhopali
Urdu Nameمحسن بھوپالی
GenderMale
More Adab Writers and Urdu Poets