Tabish Kamal

تابش کمال

تابش کمال نے جامعہ پنجاب سے اردو اور پنجابی ادبیات میں ایم اے کی اسناد حاصل کیں. تاحال آپ کے چار مجموعہ ہائے کلام منظر منظر دھوپ (اردو- تین ایڈیشن)، شام ِپئی بن شام (پنجابی - تین ایڈیشن)، مہاجر پرندوں کی نظمیں (اردو - دو ایڈیشن) اور تازہ ترین اردونعتیہ کلام \"صلِ عَلٰی\" شائع ہو کر اہلِ ادب سے داد وصول کرچکے ہیں جبکہ \"لوحِ کمال\"، \"زرِ باغ\" اور \"متاعِ کمال\" آپ کے حسنِ ترتیب کا مرقع ہیں. آپ حلقہ اربابِ ذوق راولپنڈی اور پاکستان رائٹرزگلڈ پنجاب کے رکن بھی ہیں. آپ اپنے والد اور شیخ حضرت باغ حسین کمال ؒ کے قائم کردہ \"سلسلہ اویسیہ کمالیہ\" کے موجودہ سجادہ نشین ہیں اور ادبی سماجیات سے کنارہ کش ہوکر پنڈی روڈ چکوال پر قائم کردہ اپنی درگاہ \"دَارُالکمال\" میں سالکین کے دلوں میں عشقِ الہی اور حّبِ رسوّل کی شمعِ فروزاں کرنےکا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں تاہم کبھی کبھار آپ کی کوئی تخلیق ہوا کے جھونکے کی مانند اخبارات اور رسائل کی زینت بنی بھی دکھائی دیتی ہے. آپ کی روحانی سفر پرمشتمل معرکتہ الآراء تصنیف \"سیرْالافلاک\" نہ صرف تصوف و سلوک کی کتب میں ایک گراں قدراضافہ ہے بلکہ رواں نثری اسلوب کے حامل ادیب سے بھی متعارف کرواتی ہے. یونس ادیب آپ کے بارے میں لکھے گئے اپنے مضمون \"اکلاپےکے جنگلوں میں گم شاعر\" میں اپنے جذبات کا اظہار یوں کرتے ہیں....\"تلاش اور جستجو اس کے روحانی کرب میں شامل ہے اور میں اس کے روحانی کرب کے گواہ کےطور پر اس کا یہ شعراکثر گنگناتا رہتا ہوں: افق کے پار کوئی حد نظر میں رکھے گی تِری تلاش مسلسل سفر میں رکھے گی

NameTabish Kamal
Urdu Nameتابش کمال
GenderMale
More Adab Writers and Urdu Poets