"نئے پاکستان میں کتابوں پر پابندی۔۔۔ خدارا ایسی تبدیلی اپنے پاس ہی رکھیئے"

Naye Pakistan Main Kitaboon Per Pabandi

Ahmad Tariq احمد طارق پیر جولائی

Naye Pakistan Main Kitaboon Per Pabandi
ترقی یافتہ معاشروں پر نظر دہرائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے معاشروں میں سب سے زیادہ اگر کسی چیز پر زور دیا جاتا ہے تو وہ تعلیم ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ ہم سے نہ صرف کئی سال آگے ہیں بلکہ وہاں کےباشندوں کے سوچنے کا انداز اور غور و فکر کرنے کا انداز، ہم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اگر ہم تاریخ پر نطر دہرائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانے میں انہی ترقی یافتہ معاشروں میں کتاب چھاپنے پر سزائے موت سنائی جاتی تھی، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ کتاب سے علم عام آدمی تک پہنچتا اور اس وقت کے زمانے میں کتابوں نے بادشاہ کے اختیارات کو چیلنج کرنا شروع کردیا تھا۔

برطانیہ میں کتاب چھاپنے پر آخری بار سزائے موت 1663 میں سنائی گئی۔ لیکن اسی برطانیہ نے لگ بھگ 150 سال کے بعد  پوری دنیا پر حکومت قائم کرلی اور ایک وقت تو ایسا آگیا کہ کہا جاتا ہے کہ سلطنت برطانیہ میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔

(جاری ہے)

اس کی چند بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ تھی کہ وہاں کے حکمرانوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ کتابوں پر پابندی لگانے سے، آزادی رائے کو دبانے سے، سچ کو چھپانے سے، ہم لوگ کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔

لہذا برطانیہ میں 1663 کے بعد پھر کبھی کتاب پر سزائے موت نہ سنائی گئی۔ کتابیں چھپنے کا سلسلہ اور پڑھنے کا سلسلہ ایسا چلا جو پھر کبھی نہ رک سکا، لوگوں میں شعور پیدا ہوتا گیا، جمہوریت نے فروغ پایا، صنعتی انقلاب آیا، مختصراً یہ کہ برطانیہ آہستہ آہستہ ہر شعبے میں ترقی کرتا چلا گیا۔
دوسری جانب اگر ہم بات کریں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی، ہم نے اپنے ملک کے نام کے ساتھ لفظ اسلام تو لگا لیا، لیکن اسلام کو کبھی ٹھیک سے سمجھ نہ سکے۔

ہم مولویوں کے فتوں کو ہی اسلام سمجھ لیتے ہیں، نتیجہ یہ ہوا کہ انہی فتوں نے ہمیں یہاں لاکھڑا کیا۔ ہم نے اپنے ماضی سے کچھ نہ سیکھا۔ کبھی کسی شیخ الاسلام نے پرنٹنگ پریس کو غیر اسلامی اور غیر شرعی قرار دیا تو کبھی جدید سائنسی تعلیم پر فتوے لگائے گئے۔ خیر! ان فتوں کا نقصان تو ہم آج تک بھگت ہی رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے ان سب سے کیا سبق سیکھا؟ کیا ہم نے ایسی تنگ نظر سوچ کو معاشرے سے ختم کرنے کیلئے کوئی اقدامات کیے یا پھر ہم بھی اسی راہ پر چل پڑے ہیں۔

ہم شاید دنیا میں وہ واحد قوم ہیں جو تاریخ کو مسخ کرکے اپنے نصاب میں شامل کرتے ہیں اور پھر اس پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔ ہم شاید اپنی نسلوں کو جھوٹ ہی پڑھا کر پالنا چاہتے ہیں، اس سب کا نقصان یہ ہورہا ہے کہ ہم ترقی نہیں کرپارہے، ہم اسی جگہ پر منجمد ہیں جہاں آج سے ایک ہزار پہلے تھے۔
مجھے یاد ہے آج سے ٹھیک 2 سال قبل مجھ سمیت بہت سے نوجوانوں نےعمران خان صاحب کو یہی سوچ کر ووٹ دینے کا غلط فیصلہ کیا تھا کہ شاید تعلیم کے شعبے میں انقلاب برپا ہوجائے گا لیکن افسوس عمران خان صاحب کا یہ وعدہ بھی دوسرے وعدوں کی طرح وفا نہ ہوسکا۔

ہماری امیدوں کو شدید ٹھیس اس وقت پہنچی جب بجٹ میں تعلیم کے شعبے پر ایک بہت بڑا کٹ لگادیا گیا اور تعلیمی اصحلات کیلئے محض 4 ارب رکھے گئے، ابھی یہ زخم تازہ ہی تھے کہ تبدیلی سرکار نے ایک اور کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے  31 پبلشرز جبکہ نجی اسکول کی 100 سے زائد کتابوں پر یہ کہہ کر پابندی لگادی ہے کہ ان کتابوں کا مواد اسلام اور پاکستان مخالف ہے۔

ساتھ ہی حکم جاری کیا ہے کہ نجی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی 10 ہزار سے زائد کتابوں کی ہنگامی بنیادوں پر چھان بین کی جائے گی۔ حیرت انگیز طور پر پابندی کا شکار کتابوں میں آکسفورڈ اور کیمبرج کی کتابیں بھی شامل ہیں، تبدیلی سرکار کی جانب سے جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ ان کتابوں میں ہمارے ہیروز کا ذکر نہیں ہے۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ آکسفورڈ اور کیمبرج کی کتابوں میں تاریخ کو مسخ نہیں کیا جاتا، بچوں کو جھوٹ نہیں پڑھایا جاتا کہ محمد بن قاسم ہمارا ہیرو ہے، سلطان غزنوی ہمارا ہیرو ہے، ہم نے برصغیر پر 1 ہزار سال حکومت کی ہے اور تو اور یہ جھوٹ بھی نہیں پڑھایا جاتا کہ ہمارا ملک اسلام کے نام پر بنا ہے۔

شاید یہی وہ کڑوا سچ ہے جو ہماری حکومت سے برداشت نہیں ہوا اور کتابوں پر پابندی عائد کردی۔ بات اگر ہمارے سیلیبس کی ہو تو میں دعوے سے کہتا ہوں کے 1980 کے بعد سے ہمارا سیلیبس اپڈیٹ نہیں ہوا اور یہ بات مجھے حکومتی عہدیدار نے آج سے 6 ماہ پہلے بتائی تھی۔ ظاہر سی بات ہے اگر ہم بچوں کو یہی جھوٹ پڑھائیں گے کہ ہمارا اصل ہیرو محمود غزنوی ہے کیونکہ اس نے مندر توڑے تھے لیکن یہ نہیں بتائیں گے مندر توڑنے کے بعد جو خزانہ اس کے ہاتھ لگا، محمود غزنوی نے اس خزانے سے نہ تو یہاں کوئی تعلیمی ادارہ قائم کیا اور نہ ہی یہاں برصغیر کے لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا، بلکہ اپنے ساتھ واپس اپنے ملک لے گیا۔

یہی ظالمانہ اور شدت پسندانہ سوچ ہے جو اسلام آباد میں ایک مندر نہیں بنانے دے رہی، اور مردان سے 1700 سال پرانا قدیم گوتم بدھ کا مندر توڑنے پر مجبور کر رہی ہے، یہ لوگ شاید گوتم بدھ کی تعلیمات سے لاعلم ہیں، خیر! قصور ان کا بھی نہیں، جب ہماری کتابوں میں ہی محمود غزنوی کو ہیرو بنا کر دکھایا جائے گا تو یہی شدت پسندانہ سوچ معاشرے میں جنم لے گی اور ہم کبھی ترقی نہیں کرسکیں گے۔ لہذا تبدیلی سرکار کو چاہیئے کہ ہوش کے ناخن لے اور اگر ہمارے ہینڈسم وزیراعظم نے اسی تبدیلی کا وعدہ کیا تھا تو خدا کی قسم ایسی تبدیلی نہیں چاہیئے جس میں کتابوں پر پابندی عائد ہو۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments