موجودہ سیاسی حالات اور سوشلزم کی ضرورت

Mojoda Siyasi Halat

Ahmad Tariq احمد طارق جمعرات اکتوبر

Mojoda Siyasi Halat
ملک میں آج کل ایک سیاسی طوفان برپا ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی تحریک شروع ہے وہیں ہمارے ہینڈسم وزیراعظم نے بھی جلسوں کا جواب جلسوں سے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی اب جس شہر میں اپوزیشن کا جلسہ ہوگا، وہیں حکومت بھی بھرپور پاور شو کرے گی۔ حکومت مبینہ طور پر ان جلسوں سے بیچاری عوام کے مسائل بھی حل کرنے کی کوشش کرے گی۔

یہ بات میں ایسے ہی نہیں کر رہا، جناب یہ تبدیلی سرکار ہے ان سے کسی بھی چیز کی توقع کی جاسکتی (سوائے عوام کے مسائل حل کرنے کے)۔
مارچ 2021 میں ہونے والے سینیٹ الیکشن سے قبل اپوزیشن کی احتجاجی تحریک انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اپوزیشن کے پاس ملکی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کیلئے یہ آخری موقع ہے۔ سینیٹ الیکشن کے بعد اپوزیشن کا ایوان بالا سے بالکل ہی صفایا ہوجائے گا اور شاید تبدیلی سرکار صرف یہ ہی پانچ سال نہیں بلکہ اگلے پانچ سال بھی اس ملک پر مسلط رہے گی (اللہ ہم سب کا حامی و ناصر)۔

(جاری ہے)

عمران نیازی صاحب کے 10 سال وزیراعظم رہنے سے کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیئے، یہ اس ملک میں پہلی بار نہیں ہونے جارہا بلکہ ہماری تاریخ اس سے بھری پڑی ہے۔ اب ضیا الحق صاحب کا 10 سالہ تاریکی دور کون بھول سکتا ہے؟ جو 90 دن کا کہہ کر اقتدار میں آئے اور 10 سال ہم پر مسلط رہے۔ یہ تاریخ بھی بہت عجیب و غریب قسم کی چیز ہے اور شاید خود کو دہرانے لگی ہے، خیر جو بھی ہوگا مستقبل میں، ہم سب کے سامنے آجائے گا۔


اپوزیشن کا اتحاد (پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ) کا بنیادی نعرہ "ووٹ کو عزت دو" یوں تو فقط چار حروف پر ہی مشتمل ہے لیکن یہ وہ چار حروف ہیں جو پاکستان کی تاریخ کو نہ صرف بدل سکتے ہیں بلکہ پاکستان کے بہت سے مسائل انہیں چار حروف میں پوشیدہ ہیں۔ لیکن کیا یہ چار حروف ہی بہت ہیں؟ تو اس کا جواب ہے "نہیں" ایسا بالکل نہیں ہے، مسائل کو حل کرنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے مسائل کو تلاش کرنا ہوگا، مسائل کا سراغ لگانا ہوگا۔

دراصل مسائل کی بنیادی جڑ ہینڈسم عمران نیازی یا تحریک انصاف نہیں (اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کی پالیسیوں سے اس ملک نے بہت نقصان اٹھایا اور شاید تاریخ کبھی عمران نیازی صاحب کو معاف نہیں کرے گی) ہمارے مسائل کی بنیادی جڑ تو سرمایہ داری نظام اور سرمایہ دار طبقہ ہے جو اس ملک کو پچھلے 73 سال سے مسلسل کھا رہا ہے۔ عمران نیازی صاحب کی ناکامی ہمیں یہی سبق تو دیتی ہے کہ فقط گلے پھاڑ پھاڑ کر تبدیلی کا نعرہ لگانے سے یا عوام سے جھوٹے وعدے کرکے اس ملک کے مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا۔

بلکہ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ اس ملک کے مسائل حل کیے جائیں تو ہمیں اپنے ملک میں سوشلزم کا نظام نافذ کرنا پڑے گا۔ محنت کش طبقوں کے مسائل کارل مارکس ہمیں آج سے 150 سال قبل بتاگئے ہیں۔ کیا غم ہے اگر ان باتوں پر عمل کرلیا جائے اور سرمایہ داری نطام کو جڑ سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے۔ ویسے بھی تاریخ کے ہر سنجیدہ طالب علم کو معلوم ہے کہ جب بھٹو صاحب نے حکومت سنبھالی اور اس ملک سے سرمایہ داری نظام کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سوشلزم کی بنیاد رکھی تو کیسے اس ملک کی معیشت میں زبردست بہتری آئی تھی بلاشبہ بھٹو صاحب کا "سوشلسٹ دور" ملکی تاریخ کا سنہری دور تھا (اگرچہ سوشلزم پوری طرح نافذ نہیں ہوا تھا)۔


آج کل وزیراعظم عمران نیازی صاحب ملک سے غربت ختم کرنے کے بڑے بڑے وعدے کر رہے ہیں اور اپنی انتہائی زبردست تقریروں میں چین کی مثال بھی ہمارے سامنے رکھتے ہیں کہ چین  نے اپنے لوگوں کو غربت سے نکالا لیکن وہ یہ بتانے میں ڈراتے اور ہچکچاہتے ہیں کہ دراصل چین نے سوشلزم اور کمیونزم کے نظام سے ہی اپنے ملک سے غربت کا خاتمہ کیا تھا، ایسے میں 1955 میں کی جانے والی صدی کی سب سے شاندار زرعی اصلاحات کو کون بھول سکتا ہے؟ (یہ اصلاحات چین کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اور عظیم انقلابی لیڈر ماؤ زے تنگ نے کی تھیں)
ہمارے کپتان عمران نیازی صاحب کو تو شاید تاریخ کبھی معاف نہ کرے لیکن ہماری اپوزیشن جماعتوں کے پاس ماسٹر شوٹ کھیلنے کا یہ آخری موقع ہے کہ وہ "ووٹ کو عزت دو" کے شاندار نعرے کے ساتھ ساتھ اس ملک میں "سوشلزم" نظام کے نفاذ کا اعلان بھی کردیں۔

کیوں کہ ہماری ترقی کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے اور ہم جہالت کے اندھیروں سے تب ہی نکلیں گے جب ہمارا ملک سیکولر اور سوشلسٹ ہوگا۔
بقول حبیب جالب:
یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر برپا ہے
یہ جو اندھیرا سمٹ رہا ہے یہ جو اجالا پھیل رہا ہے
یہ جو ہر دکھ سہنے والا دکھ کا مداوا جان گیا ہے
مظلوموں مجبوروں کا غم یہ جو مرے شعروں میں ڈھلا ہے
یہ جو مہک گلشن گلشن ہے یہ جو چمک عالم عالم ہے
مارکسزم ہے مارکسزم ہے مارکسزم ہے مارکسزم ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments