” اعلی تعلیم کے ساتھ اعلی مذاق “

Aala Taleem K Sath Aala Mazaq

Ahmed Khan احمد خان منگل ستمبر

Aala Taleem K Sath Aala Mazaq
لگے کئی سالوں سے تعلیم کے ساتھ حکومتی سطح پر ” کھلواڑ “ کا سلسلہ جا ری ہے ، بنیادی تعلیم حکومت کی الم غلم طر ز کی پالیسیوں کی وجہ سے حالت نزاع میں ہے ، عین اسی طرز کی ” آگے دو آگے دوڑ پیچھے چھو ڑ “ تعلیمی پالیسیوں کا چلن اعلی تعلیم کے درسگاہوں میں بھی چل سو چل ہے ، کالجوں میں ہمیشہ سے تدریسی آسامیوں پر مستقل بھرتیوں کا اصول رائج رہا ہے ، خادم اعلی نے مگر اپنے عہد زریں میں اعلی تعلیمی اداروں میں بھی ” دیہا ڑی دار “ نظام اپنا یا ، اب کالجوں میں مستقل لیکچراز کی بھر تیوں کی بجا ئے چند ماہ کے لیے عارضی طور پر سی ٹی آئی ایس کے نام سے اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کھپایا جاتا ہے ، مسلم لیگ ن کے دور میں پنجاب میں اسی ” ڈنگ ٹپا ؤ “ پالیسی کے تحت صوبہ بھر کے کالجوں میں تعلیمی عمل کو چلا یا جا تا رہا ، تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد اغلب امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اب تعلیم کش پالیسیوں کو دفن کر دیا جا ئے گا ، من و عن مگر انصافین حکومت بھی مسلم لیگ ن کی تعلیم کش پالیسیوں پر عمل پیرا ہے ، کالجوں میں تعلیمی سر گر میاں شروع ہو تے ہی مو جودہ حکومت کے اعلی دماغوں نے بھی مستقل بنیادوں پر کالجوں میں بھرتیاں کر نے کے بجا ئے سی ٹی آئی ایس بھرتی والی پالیسی اپنا لی ، اہم نکتہ کیا ہے ، کیا تعلیم جیسے کلیدی شعبہ کو ” دیہا ڑی دار “ پا لیسی کے تحت چلا یا جاسکتا ہے ، کیا اس طر ح کی پالیسی سے تعلیم اور تدریس میں بہتری آنے کی امید کی جاسکتی ہے ، کیا اعلی تعلیم یافتہ نو جوانوں کے ساتھ یہ سنگین مذاق نہیں ،اعلی تعلیم کے ہنر سے لیس جن مرد و خواتین کو چند ماہ کے لیے بھرتی کیا جا رہا ہے کیا وہ درس و تد ریس میں دل جمعی کا مظاہرہ کر یں گے ، قطعاً نہیں ،دلچسپ قصہ کیا ہے ، تمام کا لجوں میں مو جود خالی آسامیوں کا بجٹ مو جود ہے پھر حکومت وقت ان خالی آسامیوں پر مستقل بھر تیوں سے کیوں گریزاں ہے ، مسلم لیگ ن کے عہد زریں میں تعلیمی حلقے تواتر سے اس ” مذاق “ کے خلاف برسر پیکار رہے لیکن تمام تر آہ و فغاں کے باوجود سابق صوبائی حکومت نے تعلیمی ماہرین اور تعلیم سے جڑے حلقوں کی صدا ئے احتجاج پر کا ن نہ دھر ے اب تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے تعلیمی حلقے یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ حضور والا اعلی تعلیم کے ساتھ بہت مذاق ہو چکا اب اس پالیسی سے اعلی تعلیم کو مزید تباہ نہ کر یں ،سال ہا سال سے خالی آسامیوں پر مستقل لیکچراز بھر تی کر یں ، حکومتی سطح پر مگر ارباب اختیار کو چنداں پر واہ نہیں ، توجہ طلب امر یہ ہے کہ سرکاری کا لجوں میں کلرک ، استاد ،مزدور اور اس قبیل کے بچے پڑ ھتے ہیں ۔

(جاری ہے)

ارباب اختیار و اقتدار کے ” نو نہا ل “ چو نکہ سر کاری کا لجوں میں نہیں پڑ ھتے لہذا عوامی حلقوں کی چیخ وپکار کا ”کریم طبقے “ کو رتی بھر احساس نہیں ، ہونا کیا چا ہیے تھا ، آبادی میں اضافے کے تنا سب سے ہر شہر ہر گا ؤں ہر گو ٹھ میں حکومت اعلی تعلیمی اداروں کی تعدا د میں اضافہ کر تی ، کالج سطح پر طلبہ وطالبات کو حصول تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کر تی ، ہمارے ہا ں مگر تعلیم کے شعبے میں عجب سی روش چل سو چل ہے ، تلخ سچ یہ ہے کہ حکومت تعلیم کے شعبے سے ہاتھ اٹھا ئے بیٹھی ہے ، زندہ معاشروں میں نئی نسل کی تعلیم و تر بیت ہر حکومت کی اولیں تر جیح ہوا کر تی ہے ، ترقی یا فتہ اقوام سب سے زیادہ پیسہ تعلیم کے شعبہ پر صرف کیا کر تی ہیں ، ہمارے ہاں کیا ہو تا رہا ہے ،تعلیم کے ساتھ روز اول سے سوتیلی ماں والا بر تاؤ کیا جاتا رہا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ چل رہا ہے ، اگر چہ ہر سیاسی جماعت تعلیم اور صحت عامہ کے نام پر قوم سے ووٹ بٹورتی رہی ہے عملاً مگر زمینی حقائق اور عہد حاضر کے تقا ضوں کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت نے اقتدار میں آکر تعلیم کے شعبے کے ساتھ ” انصاف“ نہیں کیا بلکہ ہر حکومت کی یہ کو شش رہی کہ کسی نہ کسی طر ح سے حکومت کے گلے سے تعلیم کا ” ڈھول “اتارپھینکا جا ئے ، حیلے بہا نوں سے بنیادی تعلیم کو تباہ کر نے کی کو شش عروج پر ہے ، اب اعلی تعلیم کے حصول کے درس گاہوں کو بھی غلط اور نا قص پا لیسیوں کے ذریعے جا نتے بو جھتے تباہ کر نے کی سعی کی جارہی ہے ، سلگتا ہوا سوال مگر یہ ہے ، کیا تعلیم کے شعبہ کی زبو ں اور خستہ حالی کے بعد بطور ملک و قوم ہم تر قی اور خوش حالی کے منازل طے کر سکتے ہیں ، ظاہر ہے جواب نہیں کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا ، پھر خدار ا تعلیم کے ساتھ روز روز کا مذاق بند کیجئے ، سکول اور کالج سطح پر تعلیم دوست پا لیسیوں کو اپنا ئیے ، ایسی پالیسیاں اور اقدامات کر نے سے گریز کیجئے جن کے اپنا نے سے تعلیم کے میعار اور ہما رے اقدار پر قد غن لگ سکتی ہے ، یہ تو آپ بہتر جا تنے ہیں کہ علم کی شمع روشن ہو گی تب قوم کا نصیب چمکے گا ۔


© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments