’’ لاک ڈاؤن ۔ آزمودہ نسخہ ‘‘

Lock Down Azmoda Nuskha

Ahtesham Ul Haq Shami احتشام الحق شامی پیر مارچ

Lock Down Azmoda Nuskha
پی کے ایل آئی کے سابق سربراہ اور پبلک ہیلتھ امور میں امریکہ سے سند یافتہ ڈاکٹر سعید اختر اور ڈاکٹروں کی تنظیموں سمیت تمام تر مکتبہِ فکر سے تعلق رکھنے والے شہری سوشل میڈیا پر ایک ہی دہائی دے رہے ہیں کہ کرونا وائرس سے نبٹنے اور اس کے خاتمے کے لیئے چین کی طرح شہروں کو لاک ڈاؤن یا دو ہفتہ کے لیئے کرفیو لگانا ہو گا وگرنہ صورتِ حال اٹلی سے مختلف نہ ہو گی ۔

جبکہ عمران خان موقف پیش کر رہے ہیں کہ جو معیشت خود انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے تباہ اور برباد کی ہے اس کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن ممکن نہیں ، اگر ایسا ہوا تو غریب یا دیہاڑی دار کھائے گا کہاں سے ؟
اب ہم یہ نہیں کہیں گے کہ دو ہزار چودہ میں جب لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں تھی تو کیوں پورے ملک کو بند کیا گیا تھا ؟اور اب جبکہ ملک کے کروڑوں عوام کی زندگیوں کو کرونان وائرس کے خطرے سے دوچار ہیں تو منافقت کیوں کی جا رہی ہے ؟ صرف اتنا پوچھیں گے کہ کیا ریاست بلکہ ریاستِ مدینہ ثانی کے حکمرانوں کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنی رعایا کی بنیادی ضروریات کو پورا کریں ؟، اور وہ اگر اپنی سرکاری ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو اپنے اقتدار کی قبر سے چمٹے رہنے کے بجائے قوم سے معزرت کر کے گھر چلے جائیں ۔

(جاری ہے)

ویسے بھی آج نہیں تو کل انہوں نے ویسے ہی چلے جانا ہے ۔ قوم کو کیوں موت کے منہ میں دکھیل رہے ہیں
حکومتی’’ کارکردگی‘‘ تو خیر پہلے سے ہی سب پر عیاں تھی اب کرونا وائرس کے ملک میں آنے اور تیزی سے پھیلنے کے حوالے سے جو انکشافات اور رپورٹس منظرِ عام پر آ رہی ہیں وہ کسی طور نظر انداز نہیں کی جا سکتیں ۔ سکھر اور دیگر قرنطینہ سینٹرز سے متاثرہ افراد کے نکل جانے کی خبروں نے حکومتی انتظامات کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے سندھ میں کرونا وائرس قابو میں آنے کے بعد اگر کہیں اپنے پنجے گاڑ رہا ہے تو وہ پنجاب ہے جہاں کرونا وائرس کے کیس ایک سو دس سے تجاوز کر چکے ہیں ،یہ تو وہ اعداد و شمار ہیں جو رجسٹرڈ ہیں ،غیر رجسٹرڈ متاثرہ افراد کی تعداد تو اس سے کہیں زیادہ ہے ۔


مذکورہ مرض کے تیزی سے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ کھلا میل جول ہی ہے ۔ جس باعث جہاں عالمی ادارہِ صحت بھی شہروں کو بند کرنے کی ہدایات دے رہا ہے تا کہ عوام کا آپس میں میل جول کم سے کم ہو سکے ۔ اٹلی سمیت کئی متاثرہ ممالک اب اس ہدایت پر عمل پیرا ہیں جس کے بعد ان ممالک میں بہتری کی صورتِ حال نظر آ رہی ہے ۔ چین نے اپنے شہروں کو لاک ڈاؤن کر کے ہی کرونا وائرس سے نجات پائی ہے ۔

بلا شبہ لاک ڈاون یا کرفیو لگانے کی صورت میں ہمارا غریب یا دیہاڑی دار بھائی ہی براہِ راست متاثر ہو گا لیکن اس کی زندگی باقی رہے گی تو وہ اپنے بال بچوں کا پیٹ بھی پال سکے گا ۔
 حکمرانوں کی تقریروں پر آسرا نہ کیجئے اپنے ارد گرد نظر رکھئے، دیہاڑی داروں اور مزدوروں کی اس مشکل وقت میں اپنی گنجائش کے مطابق مدد کیجئے آپ کے اپنے رزق میں اضافہ ہو گا ۔ شائد قدرت نے صاحبِ مال اور استطاعت رکھنے والوں کو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں آسانیوں کے لیئے یہ موقع فراہم کیا ہو۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments