ایک اور شعبدہ بازی

Aik Aur Shobada Bazi

Ahtesham Ul Haq Shami احتشام الحق شامی ہفتہ فروری

Aik Aur Shobada Bazi
اقتدار میں آ کر اربوں روپے کے قرضے آئی ایم ایف کے منہ پر مارنے کے دعوے دار، وفاقی وزیر مراد سعید نے بھوک،مہنگائی اور بے روزگاری کی دلدل میں پھنسی قوم کو اپنی حکومت کا ایک اور ''منصوبہ'' گنوایا ہے۔دن رات کی محنت کے بعد حکومت کا جو منصوبہ منظر عام پر آیا ہے اس کی تفصیلات کے مطابق ”سابق وزیرِ خزانہ اسحق ڈار کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ بنا دیا گیا ہے“ لیکن اس منصوبے کا افتتاح ان کے لیڈر عمران خان نے کیا ہے یا کہ خود انہوں نے، اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی واضع رہے کہ سابق وزیرِ خزانہ کی رہائش گاہ کو نیلام کرنے کے فیصلہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلے ہی سٹے آرڈر دے رکھا ہے، اس لیئے حکومت کا مذکورہ منصوبہ سیدھا توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

(جاری ہے)

ان ڈرامہ بازوں کو کوئی یہ بھی سمجھائے کہ قبضہ کی زمین پر تو مسجد تک نہیں تعمیر ہو سکتی، کسی کی اجازت کے بغیر کیونکر اس کی املاک میں دخل اندازی کی جا رہی ہے۔

دنیا کا کوئی بھی مذہب اور قانون اس فعل کی اجازت نہیں دیتا اس لیئے امید کی جانی چاہیئے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج اطہر من اللہ حکومت کے اس منصوبے کو جلد ہی خاک میں ملانے والے ہیں۔
مراد سعید صاحب کے بقول سابق وزیرِ خزانہ نے قوم کو دس سالوں میں چوبیس ہزار ارب کو مقروض بنایا حالانکہ خود ان کی حکومتِ عمرانیہ نے صرف سولہ ماہ میں ملک کے قرضوں میں بارہ ہزار ارب کا اضافہ کیا ہے اور انیس سو ارب کا مذید قرضہ لینے کی تیاریاں مکمل ہیں۔

 دوسری جانب حقیقتِ حال یہ ہے کہ مذکورہ گھر جسے حکومت نے غیر قانونی طور پر پناہ گاہ بنایا ہے یہ اسحاق ڈار نے سیاست میں آنے سے پہلے انیس سو اٹھاسی میں خریدا تھا۔ جس پر آج چالیس بستر لگا کر تین سو کنال کے گھر میں رہنے والا پاکستان کا نالائقِ اعظم عوام کی توجہ دیگر مسائل سے ہٹانے کے لیئے اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔
واضع رہے اسحق ڈار کے مری میں واقع دو گھر پہلے ہی یتیم بچوں کی کفالت کی غرض سے استعمال ہو رہے ہیں۔

سابق ڈیکٹیٹر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں نواز شریف کی رہائش گاہ جاتی امراء میں گھوڑے باندھے گئے تھے،لیکن پھر وقت بدلا اور آج پرویز مشرف کے اسلام آباد فارم ہاوس میں ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیئے تھا کہ ملک کا آئین توڑنے والے آئین شکن کے گھر کو نشانِ عبرت کے لیئے نیلام کیا جاتا لیکن حقیقتِ حال یہ بھی ہے کہ اس ملک میں آئین شکن کو غدار کہنا بھی توہینِ ریاست کے زمرے میں آتا ہے۔

بغضِ نواز میں مبتلاعمران خان نے اپنے کلیجے کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے سابق وزیرِ خزانہ اسحق ڈار کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل تو کر دیا لیکن انتقام کی آگ میں وہ یہ بھی بھول بیٹھے کہ یہ وہی اسحق ڈار ہیں جن کے دفتر کے باہروہ چندہ لینے کے انتظار میں بیٹھے رہتے تھے۔
کرپشن کا چورن بکنے کے بعد خان صاحب کی شعبدہ بازیاں اور اپوزیشن کے ساتھ ذاتی انتقام پر مبنی پالیسیاں اور کارروائیاں اگر اسی طرح جاری رہیں تو وہ دن زیادہ دور نہیں جب بنی گالا میں ان کے تین سو کنال پر مشتمل گھر کو یتیم خانے میں تبدیل کر دیا جائے گا کیونکہ ن لیگ میں بھی سر پھروں کی کوئی کمی نہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments