سچا "سوشل میڈیا"

Sacha Social Media

علیم احمد خان بدھ نومبر

Sacha Social Media
سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک نے جتنا ہمارے معاشرتی رویوں کو بدلا ہےشاید ہی اسکی کوئی اور مثال موجود ہو۔ اس تبدیلی نے پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے ارتقائی سفر کی برق رفتاری کو بھی کہیں پیجھے چھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اب تو ان عظیم الشان چینلزکی رائے سازی بھی فیس بک جیسے دیو ہیکل پلیٹ فارم کے اثر کے سامنے بونی نظر آتی ہے۔ اتنے بااثر ہونے کی سب سے بڑی وجہ سمارٹ فون تک آسان رسائی اور سستا انٹرنیٹ ہے جوکہ از خود بری بات نہیں، مگر اسکے منفی ومثبت استعمالات ضرور بحث طلب ہیں۔


حیرت کی بات یہ ہے کہ عوامی حلقوں میں فیس بک جیسے پلیٹ فارمز کو بہت زیادہ اچھا نہیں سمجحا جاتا مگرسرچ کرنے پر لگتا یوں ہے کہ جیسے جہان کے ہر فرد کا اکاونٹ پورے دھوم ڈھڑکے کے ساتھ فیس بک پر رواں دواں ہے۔

(جاری ہے)

  اس پر آئی ہر نیوز فیڈ کو عمومی طور پر دھڑادھڑ شیئر کرنا فریضِہ اول سمجھا جاتا ہے ۔ اس سب پر سونے پہ سہاگا ہماری شہرت پسندی اور مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے کی خواہش ہے جوکہ کسی کی فرد اور ادارے کی عزت و ناموس کو بالَاِے طاق رکھ کر بس داد سمیٹتے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

انسان فظری طور پر خوشامد پسند ثابت ہوا ہے اور اسی جبلت کو فیس بک کے باںیوں کی ٹیم نے مد نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر لائک یا کمنٹ ایسے فیچر متعارف کروائے اور یہ سلسلہ ایک عام سے پلیٹ فارم سے بڑھ کر اب لائف سٹائل تک پہنچ چکا ہے۔
بہت سی تحقیق کے نتیجے اس بات کی تا ءِید کرتے ہیں کہ فیس بک پر اکژیت ایسی خبروں کی ہوتی ہے جو کہ فیک یا غلط ہوتی ہیں اور انکا حقائق سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ہمیں آخر پتہ کیوں نہیں چلتا کہ کونسی سٹوری یا نیوز فیڈ صحیح ہے اور کونسی غلط؟ اس کا جواب شاید اس تجزیے میں چھپا ہو کہ ہمارے اذہان "علم" یعنی نالج کے بجائے معلومات یا انفارمیشن کے عادی ہوچکے ہیں اوراس طرح کی معلومات کی آسان رسائی ہمیں ذہنی طور پر تجزیہ سازی اور رائے استوار کرنے کی صلاحیت کو استعمال کرنے کی رغبت نہیں دیتی، اسکی بہت بڑی مثال اپنے گھر والوں کے اور کچھ لوگوں کا اپنے ہی نمبرزاور اس سے ملتی جلتی معلومات کا یاد نا ہونا  ہے، ماضی میں حالات خاصے مختلف تھے۔


سائنسی گفتگو خاصی خشک ہے چلئیے اب بات ہوجائے کچھ معاشرتی پہلوئوں کی۔ عابد علی مرحوم کی قبل از مرگ موت کی خبر سے لے کررابی پیرزادہ کی نجی ویڈیو کے پھیلائوتک، ٹرین حادثہ میں جلتے زندہ لوگوں کی چیخوں سے لے کر قحبہ خانہ کے چھاپوں کی ویڈیوزتک، بطورقوم ہماری اکثریت بے حس اور شاید جذبات سے عاری ہوچکی ہے۔     
یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر فیس بک ایسی سہولت نا ہوتی تو شاہزیب کیس، کمسن بچوں پر تشدد کی داستان اور ایسے نجانے کتنے واقعات کا کیا ہوتا؟ شاید اس بات کا جواب دینا بہت آسان نہیں مگر ایک بات واضح ہے کہ ہمیں بطور معاشرہ اور فرد دونوں ہی سطحوں پر تربیت اور بردباری کی ضرورت ہے۔

ایسے موقع پچھلے چند سالوں میں جو سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے جو سوشل میڈیا پر "تبدیلی" نے جنم لیا ہے اس طوفان کا خامیازہ شاید آتی نسلوں تک بھگتنا پڑے۔
پاکستان اور اس جیسے بہت سے ترقی پزیر ممالک کا مسئلہ اقتصادی و معاشی کمزوری کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار سے جڑا ہے اب اس سب کی ذمہ داری اشرافیہ، سٹیٹس کو، سیاسی و سماجی رہنماء، اساتزہ، صحافی، عوام و خواص، سول سوسائٹی، قانون ساز اداروں، تعلیمی و علمی مراکز سے ہوتی ہوئی ایک فرد پر آکر منہ چڑاتی نظر آرہی ہے اور شاید بہت عرصے تک ایسے ہیں نظر آتی رہے۔


معاشرے میں سوشل میڈیا کا جن شاید بہت جلد ایک دیو بن کر ہم سب کو نگل لے، مگر اسکے دیو بننے کے عمل کو آہستہ ضرور کیا جاسکتا ہے۔۔۔ مگر کیسے۔ اسکا فیصلہ آپ نے اور میں نے کرنا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments