ابہام کیوں؟

Ibham Kyun ?

عائشہ نور بدھ فروری

Ibham Kyun ?
اس وقت پاکستانی معاشرہ اپنا اسلامی تشخص اور اخلاقی گراوٹ کی انتہاوں کو پہنچ چکاہے۔ ہمارے ہاں انسانیت کی بجائے حیوانیت اور درندگی بامِ عروج پر پہنچ چکی ہے۔ کسی کی ماں،بہن،بہو یا بیٹی کی عزت وآبرو محفوظ نہیں ہے۔ کوئی لڑکی یالڑکا خواہ وہ بالغ ہو یانابالغ ،کوئی عورت ہو یا عمررسیدہ کوئی بھی درندہ صفت جنسی بھیڑوں سے محفوظ نہیں۔ کوئی جگہ،گھر،اسکول،کالج،یونیورسٹی،دفتر،گلیاں,بازار اور راستے محفوظ نہیں۔

ہمارامعاشرہ " ریپستان " میں تبدیل ہوچکا ہے۔ مگر کسی لبرل،انسانی حقوق کے علمبردارکے کانوں پر جو تک نہیں رینگی۔ گزشتہ دنوں جب " علی محمد خان " نے بچوں کے ساتھ زیادتی اورقتل کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی تو گویا لبرلز اور انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کو عالمی قوانین اور انسانی حقوق یادآگئے۔

(جاری ہے)


معذرت کیساتھ مگر یہ لوگ زینب سے لیکرفرشتہ اور حوض نور تک کہاں تھے؟ کیاان بچیوں کے کوئی بنیادی انسانی حقوق نہیں تھے؟ آج ہمیں بتایاجارہاہے کہ پاکستان چونکہ فلاں عالمی قوانین تسلیم کرچکا ہے،لہذٰا سرعام پھانسی نہیں ہوسکتی۔

ہمیں سمجھایاجارہے کہ سپریم کورٹ نے سرعام پھانسی کو غیر آئینی قراردے رکھاہے۔ بعض دلائل یہ بھی ہیں کہ سرعام پھانسی اسلامی قوانین کے مطابق نہیں ہے۔ سب سے پہلا نقطہ اعتراض یہ ہے کہ جن لوگوں نے عالمی قوانین تسلیم اوران پر دستخط کیے،کیا انہیں یقین تھاکہ یہ قوانین اسلام کے منافی نہیں ہیں؟ گویا ان کیلئے زیادہ اہمیت عالمی قوانین کی تھی نہ کہ اسلامی قوانین کی۔

اگر دیکھا جائے تو اہل مغرب تو سزائے موت کو بھی انسانی حقوق کے منافی سمجھتے ہیں اور آپ پروقتاً فوقتاً سزائے موت کاقانون ختم کرنے کے لیئے دباؤبھی ڈالا جاتارہاہے۔ حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ " انسانی جان کے قتلِ ناحق کاقصاص" ایک واضح اوراٹل قرآنی حکم ہے۔ 
اس کے بعد آپ کی مرضی ہے کہ آپ اسلام سے روگردانی کریں اور اغیار کو خوش کرتیرہیں۔

کیا ہمارا آئین ہمیں خلاف شریعت قانون سازی سے نہیں روکتا؟ توپھر ہم سزائے موت کے قانون کی کیسے مخالفت کرسکتے ہیں؟ اب جہاں تک سزائے موت پرعملدرآمدکاسوال ہے تو تب اس کے طریقہ کار پر بحث چھڑجاتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کی مختلف صورتیں ہیں جو زمانہ قدیم سے رائج ہیں۔ رجم یعنی سنگسار کرنا،سرقلم کرنا،صلیب کرنا اور پھانسی دینا۔ ان سبھی صورتوں میں سزائے موت کا مجرم ایک تکلیف دہ موت پاتاہے۔

اگر کوئی شخص کسی ایسے جرم کا مرتکب ہوجاتا ہے کہ جس کی سزا ازروئے اسلام موت ہے توپھررحم کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ جب سزادینے کاوقت آتاہے تو یہ سرعام یا مخفی سزا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرناہوتاہے۔ اس وقت زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سرعام سزائے موت ہمارا قومی تقاضا بن چکی ہے۔ تاکہ انہیں سرعام سزا ہوتے دیکھ لوگوں کے دلوں میں قانون کی حکمرانی اور رعب ودبدبہ پیدا ہو اور آئندہ اس قسم کے جرم میں ملوث ہونے سے لوگ ڈریں۔

جہاں تک سرعام سزائے موت کی شرعری حیثیت کا سوال ہے تو چونکہ اس ضمن شرعی حکم واضح طورپر موجود نہیں لہذٰا اس صورت میں اسلام ہمیں " اجماع امت اور قیاس علماء سے مدد لینے کا حکم دیتاہے۔ علمائے کرام کی غالب اکثریت کا قیاس یہ ہی ہے کہ سرعام سزائے موت میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جہاں تک اجماع کا سوال ہے تو حکومت کو چاہیے کہ علی محمد خان کی تجویز کے مطابق ریفرنڈم کروالیں تاکہ عوام کی اکثریت کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے " اجماع امت" سے مددلی جاسکے۔

چونکہ دورِ جدید میں ہم تمام اسلامی ممالک میں ریفرنڈم نہیں کرسکتے لہذٰا صرف پاکستان کے عوام کی اکثریت معلوم کرنا کافی ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ ہم نے جہاں شریعت خاموش ہووہاں " علماء کے قیاس" اور " اجماع امت" جیسے اسلامی اصولوں سے رجوع کرنا چھوڑ دیاہے،جس کی وجہ سے ہم عصری ضروریات کیمطابق فیصلے نہیں کرپارہے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments