تین لفظ۔۔۔

3 Lafz

Ehtesham Ullah احتشام اللہ جمعہ نومبر

3 Lafz
تین لفظ کی اصطلاح ویسےتو بڑے رومانوی پیرائے میں استعمال ہوتی ہے لیکن جب ملک کی موجودہ سیاست کی بات کریں تو  ان تین الفاظ کے معانی اور مفہوم دونوں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ وہی تین لفظ ہیں جن کا آج کل ملکی سیاست میں سب سے زیادہ چرچا کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کی کوئی بھی تقریر ان تین الفاظ کا ورد کئے بغیر مکمل نہیں ہوتی اور بقول وزیراعظم اپوزیشن ان کی زبان سے یہ تین لفظ سننے کیلئے طرح طرح کے جتن کر رہی ہے۔

اس کیلئے اپوزیشن کبھی عربی شہزادوں کے پاؤں پکڑ تی، کبھی ملک کی بااختیار شخصیات کے در کی خاک چھانتی تو کبھی بیک ڈور رابطوں کے ذریعے مختلف رقوم آفر کرتی پھر رہی ہے لیکن وزیراعظم کی زبان یہ تین الفاظ ادا کرنے سے بالکل عاری ہے۔ جی ہاں یہ تین لفظ ہیں "این آراو" جن کے بارے میں ہمارے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اگر میں نے این آر او دیا تو پاکستان اور عوام کے ساتھ ساتھ اللہ سے بھی بے وفائی کروں گا۔

(جاری ہے)


بلاشبہ وزیراعظم کی کڑے احتساب اور این آراو نہ دینے پر کمٹمنٹ قابل تعریف ہے لیکن حکومت کے قول و فعل میں تضاد بھی واضح ہے۔ ایک طرف وزیراعظم این آراو نہ دینے کے بیانات داغ رہے ہوتے ہیں ساتھ ہی انکےکچھ وزراء اپوزیشن رہنماؤں کی ڈیل کیلئے ارباب اختیار کے ساتھ بیٹھکوں کی خبر کے ساتھ بات بننے کی نوید بھی سنا رہے ہوتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرمارہے ہوتے ہیں کہ نوازشریف کی ضد کی وجہ سے ڈیل فائنل نہیں ہو پارہی، کچھ وزراء رقم کے لین دین کےساتھ  ملک سے باہر جانے کے مفت مشورے فراہم کررہے ہوتے ہیں، ایک وزیر تو یہاں تک کی آفر بھی کر چکے ہیں کہ یہ کچھ پیسے دے دیں میں انکی رہائی کی ضمانت دیتا ہوں۔

وزیراعظم صاحب کو سب سے پہلے اپنے ان وزراء سے پوچھنا چاہیے کہ کابینہ کا حصہ ہوتے ہوئے وہ کس کی ترجمانی کررہے ہیں۔ معزز عدلیہ نے جیسے ڈیل پر تبصرہ کرنے والے اینکرز کو طلب کیا تھا اسی طرح ان وزراءکو بھی طلب کر کے ان سے بازپرس کرنی چاہیے کہ اپوزیشن کے کیسز تو عدالتوں میں چل رہے ہیں، فیصلہ بھی عدالتوں نے کرنا ہے تو  آپ کس بنیاد پر این آراو، ڈیل، ڈھیل دینے یا نہ دینے کی بات کررہے ہیں؟
این آر او کیا ہے؟ یوں تو پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں حکمرانوں نے قرضوں سمیت اپوزیشن اور حریفوں کے کیسز معاف کر کے ان کی زبان بندی اور انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوششیں کیں، مختلف میثاق/معاہدے کئے گئے  لیکن این آر او جیسی شہرت کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔

نیشنل ری کونسیلی ایشن آرڈیننس ایک صدارتی آرڈیننس تھا جسے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007ء میں جاری کیا اور  یکم جنوری 1986ء سے لیکر 12 اکتوبر 1999ء کے درمیان سیاسی بنیادوں پر درج کیے گئے مقدمات کو بیک جنبش قلم ختم کردیا گیا۔ بنیادی طور پر یہ آرڈیننس بینظیر کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے کیلئے جاری کیا گیا تھا کیونکہ مقدمات کی موجودگی میں بینظیر بھٹو اور ان کے ساتھی وطن واپس نہیں آ سکتے تھے جبکہ جنرل پرویز مشرف انہیں ملکی سیاست میں واپس لانا چاہتے تھے ۔

اس آرڈیننس سےمجموعی طورپر آٹھ ہزار سے زائد بدعنوانی ، قتل اور اقدام قتل  سمیت دیگر سنگین مقدمات کو ختم کیا گیا جسکی بدولت ملک کی معروف شخصیات بشمول بینظیربھٹو، حاکم علی زرداری، الطاف حسین، عشرت العباد، فارق ستار، مولانا فضل الرحمٰن، حسین حقانی، رحمٰن ملک، سلمان فاروقی و دیگر نے اپنے کیسز معاف کرائے۔ فیروزشاہ گیلانی کی پٹیشن کے بعد 16 دسمبر 2009ء کو سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے اسے کالعدم قرار دیکراس قانون کے تحت ختم کیے گئے مقدمات بحال کرنے کا حکم جاری کیا۔

بعدازاں جنرل پرویز مشرف نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ این آر او حالات کو مدنظر رکھ کر سیاسی انتقام کے خاتمے اور انتخابی عمل شفاف بنانے کیلئے کیا، کوئی بدنیتی اور مفاد شامل نہیں تھا، ایڈوائس اس وقت کے وزیراعظم نے بھیجی تھی، یوں 4 جنوری 2019ء کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں سےاس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی مفادعامہ کا معاملہ نہیں ہے، آصف زرداری، پرویز مشرف اور ملک کے قیوم کے اثاثوں کی تفصیلات آچکی ہیں اور یوں اس کیس کو ختم کردیا گیا۔


وزیراعظم صاحب آپ ملک میں جس طرح کے میرٹ کا نظام چاہتے ہیں اس کو مثال بنانے کیلئے کم ازکم اسے احتساب کیسز میں رائج کردیں، اسے حکومتی اور اپوزیشن بینچوں کی تفریق سے پاک کر دیں۔جیسا کہ آپ نے خودفرمایا تھا کہ ملک میں امیر کیلئے الگ اور غریب کیلئے الگ قانون نہیں ہونا چاہیے اس طرح احتساب کیسز کیلئے بھی اپوزیشن اور حکومتی اراکین کیلئے بھی ایک ہی پیمانہ ہونا چاہیے۔

سینیٹ میں  پیش کی گئی 2016ء کی رپورٹ کیمطابق 1990ء سے لے کر 2015ءکے دوران 988سے زائد کمپنیوں اور شخصیات نے 4کھرب، 30ارب 6کروڑ روپے کے قرضے معاف کرائے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں زیرالتواء کیس میں سٹیٹ بینک کی جمع کرائی گئی رپورٹ کیمطابق 1971ء سے لیکر 2009ء تک مالیاتی اداروں سے چھ لاکھ انہتر ہزار آٹھ سو انیس شخصیات نے دو سو چھپن ارب چھیاسٹھ کروڑ پچاس لاکھ روپے کے قرضے معاف کرائے ۔

پانامہ لیکس میں ملوث نوازشریف کے علاوہ  434 پاکستانی افراد کے احتساب کا بھی قوم انتظار کررہی ہے۔ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی رقوم، متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی پراپرٹیز کی تحقیقات کے دعوے بھی جوں کے توں ہیں۔ معیشت کی بہتری کیلئے ان سب کی تحقیقات بھی بہت ضروری ہیں۔ان حقائق کے ہوتے ہوئےملکی معیشت کی تباہی کی ذمہ داری صرف سابقہ 10 سالوں پر ڈالنا ناانصافی ہے۔

معیشت کو نقصان تو پشاور بی آرٹی،  آپ کی اپنی کابینہ سے کرپشن کی وجہ سے برطرف ہونے والے وزراء اور آپ کی وزارت خزانہ کی معاشی پالیسیوں نے بھی پہنچایا ہے۔ باخبر حلقے جانتے ہیں کہ اگر قرضہ معاف کرانے والی اور پانامہ زدہ شخصیات سمیت دیگر کیسز کی تحقیقات کی گئیں تو معاملہ آپ کی موجودہ کابینہ سے شروع کرنا پڑے گا اور بقول چیئرمین نیب حکومت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ کل کو کیا پتا ملک کے وسیع تر مفاد میں ارباب اختیار کوئی ایسا فیصلہ کر لیں کہ آپ کے پاس یوٹرن کے فضائل گنوانے کے علاوہ کچھ باقی نہ رہے، آپ سے درخواست ہے کہ یہ جن کا کام ہے انہیں کرنے دیں اور این آر او کی باتیں چھوڑ دیں کیونکہ۔۔
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments