ابصار عالم، اب سدھر جائیں

Absar Alam, Ab Sudhar Jayen

Hammad Hassan حماد حسن بدھ اکتوبر

Absar Alam, Ab Sudhar Jayen
میں ہمیشہ کہتا رہا کہ تمھاری ایمانداری اور اُصول پسندی تمھارے لیے مسائل پیدا کرے گی۔لیکن مطیع اللّہ جان نے کب بات مانی تھی جو ابصار عا لم بھی مان لیتا۔سو اس کی پیمرا چئیرمین تعیناتی پہلے دن سے منسوخ کردی گئی بلکہ تمام تنخواہیں دوبارہ جمع کرانے کا حکم بھی جاری کردیا گیا کیونکہ ہم ایک ابصار عالم کی خاطر اپنی ان“شاندار روائتوں“ کو نہیں توڑ سکتے جو ہم نے ملک کو فائدہ پہنچانے اور ایماندای کے ساتھ اپنا کام کرنے والوں کے سلسلے میں قائم کیے ہیں۔

 
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا حشر دُنیا کے سامنے ہے،ایل این جی معاہدے سے ملک کو اربوں کا فائدہ پہنچانے والے شاہد خاقان عباسی ہتھکڑیوں سے کھیل رہا ہے، ملک کو ایٹمی قوت بنانے اور سی پیک اور موٹرویز جیسے میگا پراجیکٹس کے خالق اور معاشی اُڑان کے منصوبہ ساز کو جیلوں میں ٹھونس چکے ہیں،سو ابصار عالم ایک پاگل تھا جس کے سر پر بھی ایمانداری اور اُصول پسندی سوار ہوگئی اس لیے جب گزشتہ حکومت میں وہ پیمرا چئیر مین بنا تو اس کے ساتھ زمانہ طالبعلمی سے چلے آتے تعلق کی بناء پر جانتا تھا اور مجھے اندیشہ بھی تھا کہ یہاں بھی وہ ایمانداری اور اُصول پسندی سے باز نہیں آئے گا اور اپنے اور اپنے مختصر سے خاندان کے لئے مسائل پیدا کریگا اور اس نے حسب توقع ایسا ہی کیا کیونکہ جب وہ پیمرا کا چیئرمین بنا تو ڈی ٹی ایچ کے تین لائسنس چودہ ارب انہتر کروڑ چالیس لاکھ میں فروخت ہوئے جو ایک ریکارڈ ہے۔

(جاری ہے)

اس پاگل آدمی نے صرف اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ میڈیا میں پھیلے“گند“ کو صاف کرنے کا تہیہ بھی کیا اور پھر وہ ویڈیو تو آپ نے دیکھی ہوگی جب صحافتی تاریخ کا بدنام ترین صحافی اسے فون پر دھمکیاں دیتا رہا۔
چیئرمین پیمرا کی حیثیت سے اس نے میڈیا ورکرز کے لیے پالیسیز بنانے کے علاوہ اس نے اپنے آفس کے ملازمین کے کام کو دیکھ کر انہیں ان کامکمل حصہ دینا بھی شروع کیااور یہی وہ“جرائم ہیں جس نے اس کا رزق حلال بھی چھینااور اس پر خُدا کی زمین بھی تنگ کردی لیکن ہمارے یہاں رائج دستور بھی یہی ہے کہ
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں 
پتہ نہیں اس پاگل آدمی کو اس ایمانداری اور اصول پسندی میں کیا نظرآتا ہے کہ اپنے لئے مسائل بھی پیدا کرتا ہے اور اپنے دوستوں کے لیے پریشانی بھی ورنہ کسی ٹیلیوژن چینل پر بیٹھ جاتا اور طعنہ زنی منافقت، کذب بیانی،ڈس انفارمیشن اور مسلسل جھوٹ سے نہ صرف رائج صحافت کا حصہ بن کر غلاظت بانٹتا پھرتا بلکہ محفوظ و مامون رہ کر بہت سارے پیسے بھی کما لیتا وٹس اپ پر میسج موصول ہوتے ہی سکرین کے سامنے ہی خوف خدا سے بے نیاز اور انسانیت سے بے پرواہ رہ کر جو منہ میں آتا کہہ دیتا صرف زبان کو“غلط سمت”میں پھلسن سے بچائے رکھتا۔

اور صورتحال یہ ہے کہ اس طرح کی غلیظ صحافت کی نہ بلائیں لینے والوں کی کمی ہے نہ اس پر یقین کرنے والوں کی۔
سو یہی اس بد نصیب وطن کا رائج بیانیہ ہے اور اس کو لیکر چلنا ہی کامیابی کا راستہ ہے،تبھی تو تیس ارب ڈکارنے والے با عزت رہتے ہیں۔ساٹھ ہزار جعلی ووٹوں سمیت رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے معتبر ٹھرتے ہیں۔
اور ڈیم فنڈز ہڑپ کرنے والے ہیرو گردانے جاتے ہیں لیکن وہ لوگ مجرم اور قابل گردن زدنی ٹھرائے جاتے ہیں جو لگے بندھے رستوں کے متضاد سمت میں چلنا تو درکنار اس سے معمولی سے انحراف کا بھی سوچنے لگیں۔

اس لئے اس پاگل آدمی ابصار عالم سے ایک بار پھر گزارش ہے بلکہ مفت مشورہ ہے کہ جذباتی تسکین کے حصول کی بجائے عقل و خرد کا راستہ لیں اور اس بیانئیے کا علم اُٹھائیں جس نے اس ملک کے ہر ضمیر فروش کو اس کے اوقات اور ذہن سے بڑھ کر دیا۔ ایمانداری،اُصول پسندی اور خیر خواہی تو اس دیس کے متروک سکے ہیں آپ آخر کیوں اس سے باز نہیں آتے کہ کھوٹے سکوں کی قدر و منزلت کا انکار کرتے رہتے ہیں۔اور اگر آپ ایسے ھی ہیں تو پھر بھگتیں بھی اور برداشت بھی کریں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments