جان ہے تو جہان ہے

Jaan Hai To Jahan Hai

Imran Latif عمران لطیف بدھ مئی

Jaan Hai To Jahan Hai
شکر ہے لاک ڈاون میں نرمی ہوئی مارکیٹس اور شاپنگ بازار کھل گئے اس بار تو نہ تو گرمیوں کے کپڑے لئے جاسکے نہ ہی بچوں کی عید کی تیاری ہوسکی۔ آج ہی بازار سے کپڑوں اور جوتوں کی خریداری کر لیتے۔ عید آنے میں اب دس گیارہ روز ہی رہ گئے اور یہ الفاظ ہر صاحب حیثیت کے زبان عام تھے کہ ایسے میں ماں باپ بچوں سمیت شہر کے معروف و چھوٹے بڑے بازار پہنچ جاتے ہیں۔


 روزمرہ سے ہٹ کر بازار میں رش تھا جیسے کب سے انتظار ہو نہ ہی دُکانداروں کی جانب سے سماجی فاصلے اور احتیاطی تدابیر پر عمل کیا گیا اور نہ ہی خریداروں نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بندوبست کیا جبکہ تل دھرنے کی جگہ بازاروں میں نہ تھی جیسے کل ہونی نہیں سب آج ہی خریداری کر لیں۔
حاکم وقت نے بارہا کہا لاک ڈاون سے غریب اور عام وسفید پوش مشکلات کا شکار ہیں بارہا گفت وشنید کے بعد صوبائی دالحکومت سمیت دیگر شہروں میں بعد نماز فجر تا شام پانچ بجے تک بازار کھولنے کی مخصوص شرائط ساتھ اجازت دی گئی۔

(جاری ہے)

 
مگر افسوس صد افسوسس انارکلی اچھرہ ٹاون شپ باغبانپورہ سمیت دیگر بازاروں میں صورتحال انتہائی گھمبیر رہی تمام ایس و پیز کی دھجیاں اڑا دی گئیں اپنے ساتھ دوسروں کی جان وصحت کوخطرہ میں ڈالا گیا اور اس کا قصوروار کون؟کب ہم اپنی افرادی زمہ داریاں سمجھیں گئے کہتے ہیں جان ہے تو جہان ہے اللہ جلد اس وباکا خاتمہ کرے اور ماہرین ویکسین تیار کرسکیں تب تک ہمیں اپنا طرز زندگی بدلنا ہوگا ریاست کیساتھ ذمہ داری قوم کی بھی ہے گھر رہیں محفوظ رہیں اوراپنے عزیز واقارب دوست احباب کوصورتحال کی سنگینی کا بتائیں ہجوم نہیں قوم ہونے کاثبوت دیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments