ہمیں اس وطن سے مخلص ہونا پڑے گا

Hamein Is Watan Se Mukhlis Hona Parre Ga

جاوید علی منگل مئی

Hamein Is Watan Se Mukhlis Hona Parre Ga
جب ہم کسی بھی ترقی یافتہ قوم کامطالعہ کرتے ہیں تو ایک خاص بات سامنے آتی ہے کہ وہ قوم اپنے نظریہ کے ساتھ کتنی مخلص ہے اگر وہ مخلص ہے تو ترقی کررہی ہے چاہے وہ سوشلسٹ ہو یا پھر کیپیٹالسٹ- جو فرد یا قوم اپنے نظریہ کے ساتھ مخلص ہو جائے تو وہ ترقی کی طرف گامزن ہونا شروع ہو جاتی ہے ہمارے سامنے چین بہترین مثال ہے جس نے کمیونسٹ ملک ہونے کے باوجود ابھرتی ہوئی معاشی سپر پاور ہے- اس کے علاوہ انفرادی طور پر ہمارے معاشرے میں بہت سی شخصیات ایسی ہیں جنہوں اپنے کام کے ساتھ مخلص ہو کر معاشرے میں ایسا اعلی مقام حاصل کیا کہ ہم لوگ حیران ہو جائیں- 
میرے پیارے وطن پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب ہم اپنے نظریہ کے ساتھ مخلص تھے تو ہم نے اتنی ترقی کی کہ دنیا متاثر ہوکر ہمارے معاشی نظام اور پلانز کو مطالعہ کرنے لگی جس کی شمالی کوریا بہترین مثال ہے- بہت سی بین الاقوامی جامعات (یونیورسٹیز) نے پاکستان ڈویلپمنٹ کے نام سے اپنے نصاب میں ایک باب (چیپٹر) شامل کر لیا- یہ ہمارا وہ سنہری دور تھا جب ہم نے وسائل کم ہونے کے باوجود ترقی کی کیونکہ ایک تو نیا نیا وطن حاصل کیا ہوا تھا اوپر سے ہمیں قائد اعظم کی ولولہ انگیز تقریریں کانوں میں گونجنے کے ساتھ ساتھ ہم نظریاتی بھی تھے اور ہمارے پاس انگریز اور قائد کی تربیت یافتہ بیوروکریسی بھی موجود تھی-
 جب ایوب خان صاحب ماشل لاء (1958) لگا کر اقتدار پر قابض ہوئے تو انہوں نے کچھ حد تک اسے برقرار رکھا لیکن پٹرونیج (patronage) کلچر کو فروغ دیا جس سے بائیس خاندانوں کے ہاتھ میں ملک کے اسی فیصد اثاثہ جات چلے گئے- جب ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے بہت سے پرائیویٹ اداروں کو نیشنلائز کرنے کے بعد کنٹرول نہ کر سکے- اس سے ہمارے ملک کو بہت نقصان پہنچا تب سے ہم ان اداروں کو پرائیویٹ کرتے آ رہے ہیں لیکن ابھی تک نہیں کر سکے-
 جب ضیاء اقتدار پر قابض ہوئے تو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مخلص ہوئے نہ ہی اسلام کو نافذ کیا- اداروں سے ٹینشن کی وجہ سے جمہوری حکومتوں بھی کچھ نہ کر سکیں-12 اکتوبر 1999 میں پرویز مشرف نے نواز شریف کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا- یہ قوم دوبارہ سے ایک ڈکٹیٹر کے انڈر آ گئی جس نے اس ملک کا ستیاناس کر دیا-
 مشرف صاحب بھی ضیاء الحق کی طرح مخلص نہ ہونے کی وجہ سے اپنی پالیسیوں کو اصل معنوں میں لاگو نہ کرسکے- اس کے بعد پھر سے ہمیں دو جمہوری حکومتوں نے اقتدار سنبھالا جو کچھ حد تک بہتر رہیں- اب ہمیں ایک اور جمہوری حکومت دیکھنے کو ملی جس نے بہت ہی سہانے خواب دیکھا کر الیکشن جیتا لیکن آج تک ایک بھی پورا نہ کرسکی جس نے کام کرنے کی بجائے یہ رٹ لگائی ہوئی ہے چور, ڈاکو, کرپشن اور چور, ڈاکو, کرپشن - یہ حکومت حزب اختلاف کے ساتھ بیٹھ کر کوئی قومی سطع کی پالیسی بنانے کو تیار نہیں ہے- اس کرونا وائرس سے جنگ کی حالت میں بھی قومی کنسینسز نہیں ہوسکا کہ اس وباء سے کیسے لڑنا ہے- اس سے بڑی غربت کی جنگ ہے اس سے ہم نے کیسے لڑنا ہے یہی ہماری حکومت کی حالت رہی تو اس قوم کا ستیاناس ہو جائے گا اور ملک دیوالیہ ہو جائے گا- مجھے سمجھ نہیں آتی ہم اس وطن سے مخلص کب ہوں گے, کب ہوش کے ناخن لیں گے اور کب سدھریں گے-
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments