کرونا سے خطرناک ٹڈی دل

Corona Se Khatarnaak Tiddi Dil

جاوید علی بدھ مئی

Corona Se Khatarnaak Tiddi Dil
ہر ملک کی معیشت کسی نہ کسی مخصوص پیداوار کی بنیاد پہ کھڑی ہوتی ہے یہ صنعت پر بھی ہوسکتی ہے اور زراعت و ٹیکنالوجی پر بھی- پاکستان زرعی ملک ہے جس کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے لہذا اسے اس پر مزید توجہ دینی چائیے- جنوبی پنجاب کے علاقوں میں ٹڈی دل حملہ آور ہے حکومت جیسے سوئی ہوئی ہے جسے کوئی خبر نہیں- پرانے وقتوں میں تو کسان رات کو شور وغیرہ کرتے اور آگ وغیرہ جلاتے تو ٹڈی دل وہ علاقہ چھوڑ دیتی لیکن اب ایسا کرنا بہت مشکل ہے- 
اب اس کا مقابلہ کرنا کسان کے بس کا روگ نہیں رہا ایسی صورت حال میں پوری دنیا میں حکومتیں کسانوں کی مدد کیلیے پہنچتیں ہیں کیونکہ اسے وہ اپنی ذمہ داری سمجھتیں ہیں اور جدید طریقہ کار سے نپٹنے کی کوشش کرتیں ہیں- پچھلی دفعہ جب ٹڈی دل جنوبی پنجاب میں حملہ آور ہوئی تو حکومت نے فوری طور پر سپرے وغیرہ کا بندوبست کیا تو ٹڈی دل سے کسانوں کی فصلیں بچ گئیں- 
اب ہماری حکومت کا سارا فوکس کرونا پر ہے یہ ہونا بھی چاہیے لیکن خطرہ اس بات کا ہے کہ پاکستانی معیشت کا پہیہ زراعت پر چلتا ہے اگر یہ بھی جام ہو گیا تو معیشت بلکل ہی تباہ ہو جائے گی- اس وقت کرونا کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ہماری اکانومی تو پہلے سے ہی بانجھ ہو چکی ہے تو اس کا کیا بنے گا-
کسی بھی ملک کے لیے زرعی طور پر خود مختار ہونا بڑا ضروری ہوتا ہے اگر کوئی آفت آن پڑے تو کم از کم اس کے پاس کھانے کے لیے اپنا کچھ نہ کچھ ہو تو سہی کہ عوام زندہ رہ سکے-
ورلڈ بنک کے مطابق پاکستان کی 63.33 فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے اگر ان کی فصلیں تباہ ہو گئیں تو کسان کا زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا سب جانتے ہیں کہ ہمارا کسان کن حالات میں زندگی بسر کر رہا ہے- کسان جو دوسروں کے لیے تین وقت کا کھانا پیدا کرتا ہے شائد اسے دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہ ہوتی ہو- اس کے کھانے میں روٹی کے سالن سالن کی بجائے اکثر سرخ یا ہری مرچ یا لسی اور پانی کے سوا کچھ نہیں ہوتا- کبھی اس کو روٹی کے ساتھ اچار مل جائے تو بڑی خوشی سے کھا رہا ہوتا ہے اسے عید کے دن چکن, بیف, اور مٹن کھانے کو ملتا ہے وہ خاک مقابلہ کرے گا ٹڈی دل کا- اگر حکومت نے کچھ نہ کیا حکومت کے لیے بڑی مشکل کھڑی ہو جائے گی اور حکومت سنبھل نہیں پائے گی-
 دوسرے طبقوں کی طرح کسان بھی حکومت کی پالیسیوں سے کوئی خاص سیٹسفائڈ نظر نہیں آتے- ہماری تقریبا 48 فیصد لیبر اسی سے وابستہ ہے اور فارن ایکسچینج میں بھی اسی کا مین کردار ہے اور 18.9 فیصد ریوینیو بھی اسی سے ہے- ایک طرف تو ہماری آئے روز بارڈر پر بھی انڈیا کے ساتھ جھڑپیں ہو رہیں ہیں نیپولین نیکہا تھا کہ فوجیں پیٹ سے لڑتی ہیں- اس کا سیدھا سا مطب ہے اگر سپاہی کا پیٹ خالی ہو تو لڑ نہیں سکتا- دوسری طرف جنتی بھی صنعتی لیبر ہے وہ گھر بیٹھی ہے-
 ان تمام حالات میں ہماری حکومت کو اس طرف فورا توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ '' اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت'' والی بات ہوگی- پھر کسی بھی اقدام کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا حکومت سے درخواست ہے کہ فوری سپرے وغیرہ کروائے اور دوسرے جتنے بھی اقدام ہیں کرے تاکہ کسان اس مصیبت سے بچ سکے-
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments