دکھاوا

Dikhawa

جویریہ بلوچ جمعہ مئی

Dikhawa
تعلیم ہمارے بس میں ہوتی ہے، سلیقہ ہمارے بس میں ہوتا ہے۔ اٹھنا بیٹھنا چلنا۔۔۔ سجنا سنورنا۔۔۔ یہ سب ہمارے بس میں ہوتا ہے۔ والدین یا پھر ہم خود اپنی تربیت کر سکتے ہیں، خود کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ لیکن چہرہ، چہرہ تو خود ''اللہ'' بناتا ہے نا۔۔۔ اور ہماری ذہنی اور اخلاقی پستی کی انتہا دیکھیں کہ ہم سب سے زیادہ چہرے مہرے پر ہی تنقید کرتے ہیں۔ 
حضرت علی کا فرمان ہے کہ: ''ہر انسان کی قیمت کا اندازہ اسکے علم و عقل سے ہوتا ہے۔

''
لیکن افسوس آج کل انسان کی قیمت اسکے چہرے کے خدوخال، اسکے چہرے کی مصنوعی چمک، اسکا لباس اور پیسہ متعین کرتا ہے۔کس قدر پست نگاہ رکھتے ہیں ہم لوگ کہ سب سے زیادہ تنقید خدا کے بنائے ''چہرے'' پر کرتے ہے اور جو چیزیں انسان کے بس میں ہیں ان کو اہمیت دیناہمارے لئے اہم ہی نہیں ہے،میں بھی ایسی ہوں،لیکن ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی۔

(جاری ہے)

میرے نزدیک قابلیت کی وقعت، ظاہری حسن سے کہیں زیادہ تھی اور اب بھی ہے۔

لیکن آج مجھے بھی حسن و جمال متاثر کرتے ہیں، مجھے بھی فرق پڑتا ہے ان چیزوں سے۔مگر مجھے ایسا بنایا کس نے؟اس معاشرے نے۔اس معاشرے نے مجھے بتایا کہ صرف تعلیم و تربیت کو اہمیت دوں گی تو کچھ حاصل نہیں کر پاؤں گی۔ دکھاوا اپناؤں گی تو معتبر ٹھہروں گی۔ مجھے احساس دلایا کہ خود پسندی کس قدر اہم ہے، ورنہ یہ دنیا آپ کو مغلوب کر دیتی ہے۔لیکن آج بھی میں خلاف ہوں ان چیزوں کے۔ دنیا کے ساتھ چلنا ضرور چاہتی ہوں لیکن دل میں یہی آرزو ہے، کاش میرے بس میں ہوتا تو میں لوگوں کو انسان کی اہمیت اور پہچان کا حقیقی معیار بتاتی۔ خوبصورتی پر خوب سیرتی کی افضلیت کو لوگوں پر آشکار کرتی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments