جہیز نہیں خواب پورے کرو

Jahez Nahi Khwab Pure Karo

کرن صمد جمعرات مئی

Jahez Nahi Khwab Pure Karo
وہ پچھلے گیارہ گھنٹوں سے اپنے کمرے میں بیٹھی بھوک سے بلک رہی تھی کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی غمزدہ,اداس,سوجی ہوئی, حلقہ زدہ بوجھل آنکھوں سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ماما جان کا فون ہے۔اس نے آنسو پونچے بناوٹی آواز میں فون اٹھایا گویا کہ ایسا لگے جیسے وہ بے حد خوش اور آسائش سے بھرپور زندگی گزار رہی ہے اس نے ماں کو سلام کیا۔ ماں نے حال چال پوچھا۔

خیریت پوچھی تو اس نے اپنے دکھ, اپنے زاروقطار آنسو اور اپنے پیٹ میں 11گھنٹوں سے ناچتی بھوک کو چھپاتے ہوئے اپنی خوشحال زندگی کی تعریفیں شروع کردیں۔
 ماں تو پھر ماں ہے کہنے لگی بیٹی میرا دل بہت گھبرایا تو میں نے سوچا تجھے فون کر لوں ابھی ایک ہی مہینہ تو ہوا ہے تجھے بیاہے ہوئے مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تو کئی برسوں سے مجھ سے دور ہے پتا نہیں کیوں مگر رات کے پچھلے پہر مجھے تیری بہت یاد ستائی اور مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے تجھے فون کر ڈالا بیٹی تو ٹھیک تو ہے ناں؟ تیرے سسرال میں سب تجھ سے خوش تو ہیں ناں؟ دوسری جانب آمنہ (فرضی نام) آنکھوں میں آنسو دبائے بولی ماما میں بالکل ٹھیک ہوں سب بہت اچھے ہیں اور میرا بہت خیال رکھتے ہیں. اور آج تو میں نے باہر سے کھانا کھایا ہے۔

(جاری ہے)

آپ فکر مند نہ ہوں میں بہت سکون سے یہاں رہ رہی ہوں۔
 ماں بہت خوش ہوئی اور ڈھیروں دعاؤں کے سائے میں فون بند کیا۔ مگر اندر ہی اندر من بہت بوجھل تھا۔ دوسری طرف آمنہ نے اب چوتھی بار اپنی ساس سے کھانا مانگا جوکہ صوفے پر بیٹھی مٹن قورمہ کھا رہی تھی۔ کھانا مانگنے پر آمنہ (فرضی نام) کو کی طعنے تشنے سننے کو ملے۔(آمنہ کے ساتھ روز یہی ظلم ہوتا تھا اسے کئی کئی گھنٹوں بھوکا رکھنے کے بعد آدھی روٹی دی جاتی تھی)۔

اب وہ بے چاری اپنے کمرے میں آکر اپنے نصیبوں کو رونے لگی وہ اس گہری سوچ میں ڈوبی کہ ابھی ایک مہینہ پہلے کی ہی تو بات ہے کہ وہ شادی شدہ ہے زندگی کے حسین خواب بنتی تھی۔ ماما جان سے کھانا پکانا بھی سیکھ لیا تھا ہر کھانے میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ اور پھر اعلی تعلیم یافتہ تو وہ تھی ہی۔ پھر جب شادی کے دن قریب آئے تو جہیز کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے اسے سخت محنت طلب نوکری بھی کرنا پڑی۔

یوں اپنی کمائی سے اس نے کافی حد تک اپنا جہیز پورا کر لیا تھا۔ اسے مظلوم بے سہارا بچوں کے لئے این-جی-او بنانا تھی وہ ایک بڑے خوابوں والی لڑکی تھی جس نے بچپن ہی سے ماں باپ کا سر ہر میدان میں فخر سے بلند کیا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ اس نے اپنی کمائی سے اپنے خوابوں کو پیچھے چھوڑا اور جہیز خرید لیا۔ شادی کے ایک ہی مہینے کے اندر وہ سرخ رخساروں والی خوبصورت, نازک گڑیا, گہرے سیاہ حلقوں کا بوجھ اٹھائے پیلی رنگت کی حامل ہو چکی تھی۔

اب جب حد درجہ بھوک اس کے پیٹ میں ناچ رہی تھی اس نے اپنی بہن کو فون کیا اور بہت روتے ہوئے کہنے لگی مجھے یہاں سے لے جاؤ۔
 بہن نے ماں کو بتایا۔ ماں پر تو جیسے قیامت ہی ٹوٹ پڑی ماں انہی میلے کپڑوں میں اس کے گھر پہنچی تو دیکھا کہ وہ نیم بے ہوشی کے عالم میں پڑی ہے۔ ماں باپ فورا اسے ہسپتال لے کر گئے ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں دیں, ڈرپ لگائی اور کہا کہ یہ شدید اسٹریس اور ڈپریشن کی مریضہ بن چکی ہے اور بھوکا رہنے کی وجہ سے اس کی آنتیں سکڑ گئی ہیں۔

اور اگر فوری یہ ہسپتال منتقل نہ کی جاتی تو اس کی دماغ کی شریانیں پھٹ جاتیں۔ 
آمنہ ان حالات سے بہت تنگ تھی اور خودکشی کا منصوبہ بنائے بیٹھی تھی کہ اس کی ماں نے اسے سمجھایا اسے واپس زندگی کی طرف لانے کی کوشش کی۔ اپنے بل بوتے پر اسے مقابلے کا امتحان دلوایا جو کہ اس نے بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا اور ایک سرکاری یونیورسٹی میں سترہ گریڈ کی افسر مقرر ہوئی۔

آئیں ہم بیٹیوں کو بڑھانے کا عزم اٹھائے ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تمہیں پڑھائیں گے.ہم تمہارے خواب پورے کریں گے۔ہم تمہیں پرواز کے لیے آسمان دیں گے۔ آئیں ہم مل کر یہ عہد بھی کرتے ہیں کہ ہم بیٹیوں کو جہیز کی دلدل تلے مزید نہ دبنے دیں گے۔ آئیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اس معاشرے کو جہیز کی لعنت سے پاک کریں گے اور ہر لڑکی کے خوابوں کی راہیں ہموار کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔ اور بیٹیوں کو بوجھ یا پھر معاشرے یا رشتے داروں کے خوف سے تنگ آکر نہیں بیاہیں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments