پھولوں کے شہر سے دھوئیں کے بادلوں تک

Phoolon Ke Shehar Se Dhowen Ke Baadalon Tak

کرن صمد ہفتہ جنوری

Phoolon Ke Shehar Se Dhowen Ke Baadalon Tak
انسانی زندگی کی بات کی جائے تو سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ ایک تروتازہ ماحول ہی ایک کامیاب معاشرے کی پہچان ہے۔ صحت مند گھرانا وہی ہے جس کے تمام افراد صحت یاب ہوں اور ماحول دوست اطوار کو اپنائیں تاکہ نہ صرف اس کے مثبت اثرات ان کی زندگی پر بلکہ پورے معاشرے پراثر انداز ہوں۔جہاں ماحول میں خرابی پیدا ہوئی وہیں انسانی زندگی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو نا شروع ہو گئے۔


شہر لاہور جو اپنی روایات اور اپنی ذرخیز ثقافت کی بنا پر دنیا بھر میں جانا جاتا ہے افسوس ماحول دوست نہ بن سکا۔لاہور جسے پھولوں کا شہر کہا جاتا تھا۔اب وہ دھوئیں کی ایک دھندلی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں ہر شخص ان اثرات کی نذر ہو چکا ہے لاہور کا تقریباََ ہر بچہ فضائی آلودگی سے ایک جنگ لڑرہا ہے ہر بوڑھا اپنے آپ کو فضائی آلودگی کی اس خطر ناک ترین صورتحال سے بچانے میں مصروف ہے وہیں کچھ لوگ اپنے آپ کو Smogکی اس سنگین زیادتی سے محفوظ رکھنے کے لئے Mask پہننے پر مجبور ہیں۔

(جاری ہے)

WHOکے مطابق پاکستان میں Smog کی وجہ سے 80,000لوگ ہسپتال میں منتقل ہیں۔جبکہ 50,000بچے Smogکی وجہ سے بیمار ہیں۔ 02-Nov-2019میں گلبرگ میں 500AQIریکارڈ کیا گیا جبکہ 20-Nov-2019کو مال روڈ پر 800AQIریکارڈ کیا گیا۔ ایک برطانوی جریدے کے مطابق جس شہر میں Smogکی سطح 200تک پہنچ جائے وہ شہر نا قابل رہائش ہے مگر شہر لاہور کا حال تویہ ہے 800AQI کے ریکارڈ ہونے پر بھی معمولات زندگی رواں دواں ہے اور حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

 طبی ماہرین کے مطابق Smog کی وجہ سے جلد کے انفیکشن،کھانسی،گلے میں درد اورT.Bجیسی خطرناک بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں وہیں۔Smogکی یہ سطح آنکھوں پر بھی خطرناک نتائج مرتب کر سکتی ہے بالاآخر لاہور فضائی آلودگی میں دنیا کے پہلا ملک کا درجہ حاصل کر گیا۔Smogکی وجوہات کی بات کی جائے تو ٹریفک سے اُٹھنے والا دھواں،اے سی اور فریج کی گیسیں،انڈسٹریوں کی بھٹیوں کا دھواں اور فصل کی کٹائی کے بعد بچ جانے والا فصل کا سامان،Smogکے اہم ذرائع ہیں جن کی روک تھام کے لئے ایک مناسب حکمت عملی حکومت کے لئے ایک چیلنج بن گیا ہے۔

دیکھا جا سکتا ہے کہ حکومت ماحول کو فضائی آلودگی سے بچانے میں مکمل طور پر ناکام ہے اور آئے دن ہسپتالوں میں Smogسے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔حکومت کو چاہئے کہ کسانوں کے لئے فصل کی کٹائی کے بعد ان کی باقیات کے حالات سے آگہی کی نہ صرف مہم چلائے بلکہ ان کے مسائل کو سمجھ کر ماحول دوست پالیساں متعارف کروائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments